کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس تخفیف کا بیان جس کا امام کو حکم دیا گیا ہے
حدیث نمبر: 2546
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ (وَفِي رِوَايَةٍ وَالصَّغِيرَ بَدَلَ السَّقِيمِ) وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بیمار اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، ہاں جب کوئی آدمی اپنی علیحدہ نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی کرے۔ ایک روایت میں کمزور کی بجائے چھوٹے کا لفظ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2546
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 703، ومسلم: 467 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10311»
حدیث نمبر: 2547
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) یہ بھی اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس بے شک ان میں کمزور، بڑی عمر والے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2547
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7654»
حدیث نمبر: 2548
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عُثْمَانُ! أُمَّ قَوْمَكَ، وَمَنْ أَمَّ الْقَوْمَ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ، فَإِذَا صَلَّيْتَ لِنَفْسِكَ فَصَلِّ كَيْفَ شِئْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عثمان! اپنی قوم کی امامت کرواؤ، (لیکن یاد رکھو کہ) جو کسی قوم کی امامت کروائے اسے چاہیے کہ وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں، ہاں جب تو علیحدہ اپنی نماز پڑھے تو جیسے چاہے نماز پڑھ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2548
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا ومختصرا مسلم: 468 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16385»
حدیث نمبر: 2549
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ آخِرَ شَيْءٍ عَهِدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ أَنْ قَالَ: ((تَجَاوَزْ فِي صَلَاتِكَ وَاقْدُرِ النَّاسَ بِأَضْعَفِهِمْ، فَإِنَّ مِنْهُمُ الصَّغِيرَ وَالْكَبِيرَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: آخری چیز، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پابند کیا، یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: (امامت کے دوران) نماز میں تخفیف کر اور لوگوں میں اس بندے کا خیال رکھ جو سب سے زیادہ کمزور ہے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑی عمر والے، کمزور اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2549
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18071»
حدیث نمبر: 2550
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ آخِرَ كَلَامٍ كَلَّمَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَعْمَلَنِي عَلَى الطَّائِفِ فَقَالَ: ((خَفِّفِ الصَّلَاةَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى وَقَّتَ لِي {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ} وَأَشْبَاهَهَا مِنَ الْقُرْآنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند )وہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ کو طائف کا عامل بنایا تو سب سے آخر میں مجھے یہ بات ارشاد فرمائی: نماز کے معاملے میں لوگوں پر تخفیف کرنا، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے سورۂ علق اور اس جیسی سورتوں کا تقرر کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2550
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول، وقد روي ھذا الحديث بالفاظ مختلفة متقاربة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18079»
حدیث نمبر: 2551
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَا أَتَأَخَّرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَخَافَةَ فُلَانٍ يَعْنِي إِمَامَهُمْ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ((أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول!میں اپنے فلاں امام (کی لمبی قراءت کے) ڈر سے نماز فجر سے لیٹ ہوتا ہوں۔ میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے سخت غصے کی حالت میں دیکھا، آپ نے فرمایا: لوگو! تم میں سے بعض لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو بھی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ تخفیف کرے، کیونکہ ان میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2551
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 90، 702، 704، 7159، ومسلم: 466 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17192»
حدیث نمبر: 2552
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ (الطَّائِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ أَمَّنَا فَلْيُتِمَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَإِنَّ مِنَّا الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَالْمَرِيضَ وَالْعَابِرَ سَبِيلٍ وَذَا الْحَاجَةِ، هَكَذَا كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص ہمیں امامت کرائے تو وہ رکوع و سجود کو مکمل کیا کرے، کیونکہ ہم میں کمزور، بوڑھے ، مریض ، مسافر اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں ، ہم اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2552
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 55، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 17/ (222) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18450»