حدیث نمبر: 2541
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ مَرَّتَيْنِ يُصَلِّي بِهِمْ وَهُوَ أَعْمَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینے پر دو دفعہ اپنا نائب مقرر کیا،وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے، جبکہ وہ نابینا تھے۔
حدیث نمبر: 2542
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ: فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ (الحَدِيث)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:سیّدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی نظر ختم ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں، تو میں اس جگہ کو مسجد بنالوں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور اس کے گھر میں نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 2543
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا عَلَى حَاضِرٍ فَكَانَ الرُّكْبَانُ (وَفِي رِوَايَةٍ فَكَانَ النَّاسُ) يَمُرُّونَ بِنَا رَاجِعِينَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَدْنُو مِنْهُمْ فَأَسْمَعُ حَتَّى حَفِظْتُ قُرْآنًا، وَكَانَ النَّاسُ يَنْتَظِرُونَ بِإِسْلَامِهِمْ فَتْحَ مَكَّةَ، فَلَمَّا فُتِحَتْ جَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِيهِ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا وَافِدُ بَنِي فُلَانٍ، وَجِئْتُكَ بِإِسْلَامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ، فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((قَدِّمُوا أَكْثَرَكُمْ قُرْآنًا))، قَالَ: فَنَظَرُوا، وَإِنَّا لَعَلَى حِوَاءٍ عَظِيمٍ، فَمَا وَجَدُوا فِيهِمْ أَحَدًا أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ فَصَلَّيْتُ بِهِمْ وَعَلَيَّ بُرْدَةٌ وَكُنْتُ إِذَا رَكَعْتُ أَوْ سَجَدْتُ قَلَصَتْ فَتَبْدُو عَوْرَتِي، فَلَمَّا صَلَّيْنَا، تَقُولُ عَجُوزٌ لَنَا ذُهْرِيَّةٌ: غَطُّوا عَنَّا اسْتَقْرِيئَكُمْ، قَالَ: فَقَطَعُوا لِي قَمِيصًا، فَذَكَرَ أَنَّهُ فَرِحَ بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم ایسی جگہ پر سکونت پذیر تھے،جہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے لوٹنے والے لوگ گزرتے تھے، میں ان کے قریب ہوتا اوران سے سنتا تھا، حتیٰ کہ قرآن کا کافی حصہ مجھے یاد ہو گیا، اُدھر لوگ اسلام لانے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے ۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے شروع ہو گئے، ایک آدمی آتا اور کہتا: میں بنو فلاں کا نمائندہ ہوں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے کے لیے آیا ہوں۔ میرے باپ بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر گئے، جب وہ اُن کی طرف لوٹے تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم میں قرآن زیادہ پڑھا ہوا ہو اس کو امامت کے لیے آگے کرنا۔ پس انھوں نے دیکھا (کہ کس کو امام بنانا چاہیے) جبکہ وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن وہ ایسا آدمی نہ پا سکے، جو مجھ سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہوتا، اس لیے انہوں نے مجھے امامت کے لیے آگے کردیا اور میں ابھی لڑکا تھا۔ میں نے ان کو نماز پڑھائی اور مجھ پر ایک چادر تھی، جب میں رکوع یا سجدہ کرتا تو کپڑا اوپر اٹھ جاتا تو میری شرمگاہ ننگی ہونے لگتی، جب ہم نے نماز پڑھ لی تو بہت زیادہ عمر والی ایک بوڑھی عورت کہتی ہے: اپنے قاری کا سرین تو ہم سے ڈھانپ لو۔ پھر انہوں نے ایک کپڑاکاٹ کر میرے لیے قمیص بنائی، جس کی وجہ سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔
حدیث نمبر: 2544
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ وَفَدُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْصَرِفُوا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ يُؤُمُّنَا؟ قَالَ: ((أَكْثَرُكُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ))، قَالَ: فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ جَمَعَ مِنَ الْقُرْآنِ مَا جَمَعْتُ، قَالَ: فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ، فَكُنْتُ أُؤُمُّهُمْ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي، قَالَ: فَمَا شَهِدْتُّ مَجْمَعًا مِنْ جِرْمٍ إِلَّا كُنْتُ إِمَامَهُمْ وَأُصَلِّي عَلَى جَنَائِزِهِمْ إِلَى يَوْمِي هَٰذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)ان کے باپ کہتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، جب ہم نے واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری امامت کون کرائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تم میں زیادہ قرآن یاد کرنے والا ہے۔ سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہماری قوم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کو اتنا قرآن یاد ہوتا، جتنا مجھے تھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے آگے کر دیا ، جبکہ میں ابھی لڑکا تھا، میں ان کی امامت کرواتا اور مجھ پر ایک چھوٹی سی چادر ہوتی تھی۔ میں جرم (ایک علاقہ کا نام) میں جس مجمع میں حاضر ہوتا تھا، تو ان کا امام ہوتا اور آج تک میں ہی ان کے جنازے پڑھاتا رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 2545
عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ وَكَانَتْ قَدْ جَمَعَتِ الْقُرْآنَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَهَا أَنْ تُؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا وَكَانَ لَهَا مُؤَذِّنٌ وَكَانَتْ تُؤُمُّ أَهْلَ دَارِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ اس نے قرآن مجید یاد کیا ہو ا تھا ، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کروایا کرے، پس اس کا ایک مؤذن تھا اور وہ اپنے گھر والوں کی امامت کرواتی تھی۔