حدیث نمبر: 2530
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يُؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَأُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى وَأَقْدَمُهُمْ قِرَاءَةً فَإِنْ كَانَتْ قِرَاءَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيُؤُمَّهُمْ أَقْدَمُهُمْ هِجْرَةً فَإِنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُمْ سَوَاءً فَلْيُؤُمَّهُمْ أَكْبَرُهُمْ سِنًّا وَلَا يُؤُمَّ الرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ وَلَا فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابومسعود انصاری بدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قوم کی امامت وہ آدمی کروائے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب زیادہ پڑھا ہوا ہو، اگر وہ قراءت میں برابر ہوں، تو وہ شخص امامت کروائے جو ہجرت میں مقدم ہو، اگر وہ ہجرت میں برابر ہو ں تو وہ امامت کرائے جو عمر میں بڑا ہو، اور آدمی کے گھر میں اور اس کے اقتدار میں اس کی امامت نہ کروائی جائے اور اس کے گھر میں اس کی عزت والی جگہ میں نہ بیٹھا جائے، مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 2531
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)اس میں یہ زائد ہے: اگر وہ قراءت میں برابر ہوں تو سنت کو زیادہ جاننے والا امامت کروائے ۔
حدیث نمبر: 2532
(وَفِيهِ أَيْضًا) وَلَا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ حَتَّى يَأْذَنَ لَكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(اور اس کے الفاظ یہ ہیں:) اور تو اس کے گھر میں اس کی عزت والی جگہ میں نہ بیٹھ، الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔
حدیث نمبر: 2533
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً فَلْيُؤُمَّهُمْ أَحَدُهُمْ، وَأَحَقُّهُمْ بِالْإِمَامَةِ أَقْرَأُهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تین افراد ہوں تو ان میں سے ایک امامت کروائے اور ان میں زیادہ قراءت والا امامت کا زیادہ مستحق ہو گا ۔‘‘
حدیث نمبر: 2534
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يُؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَأُهُمْ لِلْقُرْآنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قوم کی امامت وہ شخص کرائے گا، جو ان میں قرآن کو زیادہ پڑھنے والا ہو گا۔
حدیث نمبر: 2535
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ تَأْتِينَا الرُّكْبَانُ مِنْ قِبَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَسْتَقْرِئُهُمْ فَيُحَدِّثُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لِيُؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہمارے پاس قافلے آتے تھے، پس ہم ان سے پڑھتے تھے، انھوں نے ہمیں یہ بھی بیان کیا کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری امامت وہ کرائے تو تم میں قرآن مجید کو زیادہ پڑھنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 2536
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ، قَالَ: فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ نَحْوًا مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً، فَقَالَ لَنَا: ((لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَى بِلَادِكُمْ)) وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا ((فَعَلَّمْتُمُوهُمْ))، قَالَ سُرَيْجٌ وَأَمَرْتُمُوهُمْ أَنْ يُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا حِينَ كَذَا قَالَ يُونُسُ وَمُرُوهُمْ فَلْيُصَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيُؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا مالک بن حویرث سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نوجوان لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور تقریبا بیس راتیں قیام کیا، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحم دل تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اگر تم اپنے شہروں کی طرف لوٹ جاؤ اور ان کو تعلیم دو اور انھیں حکم دو کہ وہ فلاں فلاں نماز فلاں فلاں وقت میں پڑھیں، جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان کہے اور وہ آدمی تمہاری امامت کرائے، جو تم میں بڑا ہو۔
حدیث نمبر: 2537
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِصَاحِبٍ لَهُ: ((إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَقَالَ مَرَّةً فَأَقِيمَا ثُمَّ لِيُؤُمَّكُمَا أَكْبَرُ كُمَا))، قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: ((صَلُّوا كَمَا تَرَوْنِي أُصَلِّي)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند )سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اور اس کے ساتھی کو فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے، تو تم اذان دینا، پھراقامت کہنا اور جو تم میں بڑا ہے، وہ جماعت کروائے گا۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے کہا: قراءت (کی بنا پر امام بنانے کا)مسئلہ کہاں گیاَ انہوں نے کہا: بیشک وہ دونوں (قراءت اور باقی علم میں) قریب قریب تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نماز اس طرح پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 2538
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ وَلِصَاحِبٍ لَهُ: ((إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذِّنَا وَأَقِيمَا وَقَالَ مَرَّةً فَأَقِيمَا ثُمَّ لِيُؤُمَّكُمَا أَكْبَرُ كُمَا))، قَالَ خَالِدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي قِلَابَةَ: فَأَيْنَ الْقِرَاءَةُ؟ قَالَ: إِنَّهُمَا كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: ((صَلُّوا كَمَا تَرَوْنِي أُصَلِّي)))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند )سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اور اس کے ساتھی کو فرمایا: جب نماز کا وقت آجائے، تو تم اذان دینا، پھراقامت کہنا اور جو تم میں بڑا ہے، وہ جماعت کروائے گا۔ خالد کہتے ہیں: میں نے ابوقلابہ سے کہا: قراءت (کی بنا پر امام بنانے کا)مسئلہ کہاں گیاَ انہوں نے کہا: بیشک وہ دونوں (قراءت اور باقی علم میں) قریب قریب تھے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: نماز اس طرح پڑھنا، جس طرح تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدیث نمبر: 2539
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ فِي مَنْزِلِهِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: تَقَدَّمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! فَإِنَّكَ أَقْدَمُ سِنًّا وَأَعْلَمُ، قَالَ: لَا، بَلْ تَقَدَّمْ أَنْتَ فَإِنَّمَا أَتَيْنَاكَ فِي مَنْزِلِكَ وَمَسْجِدِكَ فَأَنْتَ أَحَقُّ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ أَبُو مُوسَى فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: مَا أَرَدْتَّ إِلَى خَلْعِهِمَا؟ أَبِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ أَنْتَ؟ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْخُفَّيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیّدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گیا، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، انھوں نے مجھے کہا: ابوعبد الرحمن! آگے بڑھو(اور نماز پڑھاؤ)کیونکہ تم زیادہ عمر والے اور زیادہ علم والے ہو، لیکن میں نے کہا: نہیں، بلکہ آپ خود آگے بڑھیں، کیونکہ ہم آپ کے پاس، آپ کے گھر اور آپ کی مسجد میں آئے ہیں، اس لیے آپ زیادہ حقدار ہیں، پس سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انھوں نے اپنے جوتے اتار دیئے، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے کہا: آپ نے جوتے کیوں اتارے ہیں؟ کیا آپ وادیٔ مقدس میں ہیں،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ موزے اور جوتے پہن کر نماز پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2540
عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا عَطِيَّةَ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَأْتِينَا فِي مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَقُلْنَا: تَقَدَّمْ، فَقَالَ: لَا، لِيَتَقَدَّمْ بَعْضُكُمْ حَتَّى أُحَدِّثَكُمْ لِمَ لَا أَتَقَدَّمُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يُؤُمَّهُمْ، وَلْيُؤُمَّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوعطیہ کہتے ہیں: سیّدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ ہمارے پاس ہماری جائے نمازمیں آتے تھے اور باتیں کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت ہوگیا، ہم نے ان سے کہا: آگے بڑھو اور (نماز پڑھاؤ)، لیکن انھوں نے کہا: نہیں، تمہارا اپنا کوئی آدمی آگے بڑھے، میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ میں آگے کیوں نہیں بڑھ رہا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا: جو آدمی دوسروں کی ملاقات اور زیارت کرنے کے لیے ان کے پاس آئے، وہ ان کو امامت نہ کرائے، بلکہ ان کا اپنا کوئی آدمی جماعت کرائے۔