کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 2516
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ وَلَكِنْ ائْتُوهَا وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا))، (وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى) ((فَاقْضُوا)) بَدَلَ قَوْلِهِ ((فَأَتِمُّوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کھڑی کر دی جائے تو دوڑ کر نہ آیا کرو، بلکہ اس حال میں آؤ کہ تم پر سکون اور باوقار ہو اور(امام کے ساتھ) جتنی نماز مل جائے ، وہ پڑھ لو اور جتنی رہ جائے، وہ بعد میں پوری کر لو۔ ایک روایت میں ((فَأَتِمُّوا)) کی بجائے ((فَاقْضُوا)) کے الفاظ ہیں، (دونوں کا معنی ایک ہی ہے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2516
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 602 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7250، 8964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7249»
حدیث نمبر: 2517
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ آخری الفاظ اس طرح ہیں: جو پالو اسے پڑھ لواور جو تم سے سبقت لے جائے اس کو بعد میں پورا کر لو ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2517
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8951»
حدیث نمبر: 2518
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ جَلَبَةَ رِجَالٍ، فَلَمَّا صَلَّى دَعَاهُمْ فَقَالَ: ((مَا شَأْنُكُمْ؟)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: ((فَلَا تَفْعَلُوا، إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا وَمَا سُبِقْتُمْ فَأَتِمُّوا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کے حرکت کرنے کی آواز سنی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو ان کو بلایا اور پوچھا: تم کو کیا ہو گیا تھا؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے نماز کی طرف جلدی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کیا کرو ، جب تم نماز کی طرف آؤ تو سکون اور وقار کو لازم پکڑو، جو حصہ (باجماعت) پالو اسے پڑھ لو اور جو رہ جائے، اسے (بعد میں) پورا کر لو ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2518
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 635، ومسلم: 603 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22608 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22982»
حدیث نمبر: 2519
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى فَانْتَهَى وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ أَوْ انْبَهَرَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ: ((أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ؟)) فَسَكَتَ الْقَوْمُ، فَقَالَ: ((أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمْ؟ فَإِنَّهُ قَالَ خَيْرًا أَوْ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا))، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا أَسْرَعْتُ الْمَشْيَ فَانْتَهَيْتُ إِلَى الصَّفِّ فَقُلْتُ الَّذِي قُلْتُ، قَالَ: ((لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا))، ثُمَّ قَالَ: ((إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَمْشِ عَلَى هِنَتِهِ فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز کھڑی کردی گئی، ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا، جب وہ مسجد میں پہنچا ، تو اس کا سانس پھولا ہوا تھا، جب وہ صف میں کھڑا ہوا تو اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ (ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، بہت زیادہ ، پاکیزہ اور بابرکت تعریف)۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کی تو پوچھا: کون تھا تم میں کلام کرنے والا؟ لوگ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر پوچھا: کون تھا یہ کلام کرنے والا ؟ اس نے اچھی بات ہی کہی ہے، کوئی حرج والی بات نہیں تھی۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!میں تیزی سے چل کر آیا تھا، جب صف میں کھڑا ہوا تو میں نے یہ کلمات کہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بارہ فرشتے دیکھے، وہ اس کی طرف لپک رہے تھے کہ کون ان کلمات کو (پہلے) اوپر لے کر جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کی طرف آئے تو اپنی عادت کے مطابق چل کر آئے، جو نماز پالے اسے پڑھ لے اور جو رہ جائے، اس کو (بعد میں) ادا کر لے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2519
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين أخرجه مسلم: 600 دون قوله: ((اذا جاء احدكم ۔)) وأخرجه ابوداود: 763، والنسائي: 2/132 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12034، 12713، 13645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12057»
حدیث نمبر: 2520
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: امْشُوا إِلَى الْمَسْجِدِ فَإِنَّهُ مِنَ الْهُدَى وَسُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: مسجد کی طرف چل کر آیا کرو، یہی عمل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور سنت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2520
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام شيخ الاعمش ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4242 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4242»
حدیث نمبر: 2521
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ الْجَمَاعَةِ فَخَطْوَةٌ تَمْحُو سَيِّئَةً وَخَطْوَةٌ تُكْتَبُ حَسَنَةً ذَاهِبًا وَرَاجِعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جماعت والی مسجد کی طرف جاتا ہے تو اس کا ایک قدم ایک برائی کو مٹا دیتا ہے اور ایک قدم نیکی لکھ دیا جاتا ہے، (مسجد کی طرف) جاتے ہوئے بھی اور واپس لوٹتے ہوئے بھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2521
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا سند ضعيف لضعف ابن لھيعة، وحيي بن عبد الله مختلف فيه أخرجه ابن حبان: 2039 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6599»
حدیث نمبر: 2522
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَعْجَلْ أَحَدُكُمْ عَنْ طَعَامِهِ لِلصَّلَاةِ))، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ الْإِقَامَةَ وَهُوَ يَتَعَشَّى فَلَا يَعْجَلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نماز کے لیے اپنے کھانے سے جلدی نہ کرے۔ نافع کہتے ہیں: جب سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا اس حال میں اقامت سنتے کہ وہ رات کا کھانا کھا رہے ہوتے تو وہ (کھانے سے) جلدی نہیں کرتے تھے ۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2522
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرج بنحوه البخاري: 6463، 5464، ومسلم: 559 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4780، 5806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4780»