کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: دور والی مسجد کی اور مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2511
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَفْضَلُ أَجْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد سے سب سے زیادہ دُور والے، پس سب سے زیادہ دور والے اجر و ثواب میں سب سے زیادہ فضیلت والے ہیں ۔
حدیث نمبر: 2512
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي كَثْرَةِ خُطَا الرَّجُلِ إِلَى الْمَسْجِدِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: هَمَمْنَا أَنْ نَنْتَقِلَ مِنْ دُورِنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لِقُرْبِ الْمَسْجِدِ فَزَجَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: ((لَا تُعْرُوا الْمَدِينَةَ، فَإِنَّ لَكُمْ فَضِيلَةً عَلَى مَنْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوزبیرکہتے ہیں: میں نے سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد کی طرف زیادہ قدم چل کر جانے والے آدمی کے بارے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نے خود مسجد کے قرب کی خاطراپنے گھروں سے مدینہ میں منتقل ہونا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ڈانٹا اور فرمایا: مدینہ (کی اطراف) کو خالی نہ چھوڑو، بے شک مسجد کے پاس رہنے والوں کی بہ نسبت ہر ایک قدم کے بدلے تمہارے لیے ایک ایک درجہ کی فضیلت ہے۔
حدیث نمبر: 2513
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَلَتِ الْبِقَاعُ حَوْلَ الْمَسْجِدِ فَأَرَادَ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ: ((إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكُمْ تُرِيدُونَ أَنْ تَنْتَقِلُوا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟)) قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَرَدْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ: ((يَا بَنِي سَلِمَةَ! دِيَارُكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ، دِيَارُكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند )سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسجد کے ارد گرد کچھ جگہ خالی ہو گئی، اس لیے بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، جب یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موصول ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول!ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو سلمہ! اپنے گھروں کو لازم پکڑو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں، اپنے گھروں کو لازم پکڑو تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2514
(وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَرِهَ أَنْ تُعْرَى الْمَدِينَةُ، فَقَالَ: ((يَا بَنِي سَلِمَةَ! أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ؟)) قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَقَامُوا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے، اس میں اس طرح کے الفاظ ہیں: جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی، جبکہ آپ نے مدینہ (کی اطراف) کے خالی ہو جانے کو ناپسند کیا، تو ان کو فرمایا: بنو سلمہ! کیا تم مسجد کی طرف اپنے (قدموں کے) نشانات میں (اللہ تعالیٰ سے) ثواب کی امید نہیں رکھتے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ پھر وہ اسی جگہ پر ٹھہرے رہے۔
حدیث نمبر: 2515
عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ لَا أَعْلَمُ رَجُلًا كَانَ أَبْعَدَ مِنْهُ مَنْزِلًا أَوْ قَالَ: دَارًا مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ: فَكَانَ يَحْضُرُ الصَّلَوَاتِ كُلَّهُنَّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)، فَقِيلَ لَهُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا فَرَكِبْتَهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلُمَاتِ؟ فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ دَارِي أَوْ قَالَ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ((مَا أَرَدْتَ بِقَوْلِكَ مَا يَسُرُّنِي أَنْ مَنْزِلِي أَوْ قَالَ دَارِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ؟)) قَالَ: أَرَدْتُّ أَنْ يُكْتَبَ إِقْبَالِي إِذَا أَقْبَلْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي، قَالَ: ((أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ، أَوْ أَنْطَاكَ اللَّهُ مَا احْتَسَبْتَ أَجْمَعَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مدینہ میں ایک آدمی تھا، میرے علم کے مطابق اس کا گھر مسجد سے سب سے زیادہ دور تھا، لیکن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام نمازوں میں حاضر ہوتا تھا، اس سے کسی نے کہا: اگر تم گدھا خرید لو اور سخت گرمی اور اندھیرے میں اس پر سوار ہو کر آ جایا کرو؟ لیکن اس نے کہا: میں تو اس چیز پر خوش نہیں ہوں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو۔ جب یہ ساری بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ تو نے کہا کہ میں تو اس چیز پر بھی خوش نہیں ہوں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو، اس سے تیری مراد کیا ہے؟ اس نے کہا: جی میرا مقصد یہ ہے کہ جب میں مسجد کی طرف آؤں تو میرا آنا اور جب میں اپنے گھر کی طرف واپس جاؤں تو میرا واپس جانا لکھا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے یہ سارا کچھ تجھے عطا کر دیا۔ یہ فرمایا: تجھے جس ثواب کی امید تھی، اللہ تعالیٰ نے وہ سارا تجھے عطا کر دیا ۔