کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
حدیث نمبر: 2473
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَادَى بِالصَّلَاةِ فِي لَيْلَةٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَرِيحٍ، ثُمَّ قَالَ فِي آخِرِ نِدَائِهِ: أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ أَلَا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ الْمُؤَذِّنَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةٌ بَارِدَةٌ أَوْ ذَاتُ رِيحٍ فِي السَّفَرِ أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جناب ِنافع کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے سردی اور ہوا والی ایک رات کو نماز کے لیے اذان کہی، اور انہوں نے اذان کے آخر میں کہا: خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو، خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو،خبر دار! اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں رات ٹھنڈی یا ہوا والی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ یہ بھی کہا کرے: خبردار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2473
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 632، ومسلم: 697 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5151، 5800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5800»
حدیث نمبر: 2474
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: نَادَى ابْنُ عُمَرَ بِالصَّلَاةِ بِضَجْنَانَ ثُمَّ نَادَى أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ الْمُنَادِيَ فَيُنَادِي بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ يُنَادِي أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ فِي اللَّيْلَةِ الْبَارِدَةِ وَفِي اللَّيْلَةِ الْمَطِيرَةِ فِي السَّفَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ضجنان (نامی مقام یا پہاڑ) پر نماز کے لیے اذان کہی، پھر یہ آواز دی: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ پھر انھوں نے بیان کیا کہ جب سفر میں سردی یا بارش والی رات ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مؤذن کو حکم دیتے کہ وہ اذان دے اور پھر یہ آواز دے: اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2474
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4478 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4478»
حدیث نمبر: 2475
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا، قَالَ: ((لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلے، (راستے میں) بارش برسنے لگی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو چاہتا ہے ، اپنے خیمے میں نماز پڑھ لے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2475
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 698 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14399»
حدیث نمبر: 2476
عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَهُ مُؤَذِّنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: أَلَا صَلُّوا فِي الرِّحَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک مؤذنِ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن نے بارش والے دن یہ آواز بھی دی: خبر دار! اپنے اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2476
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه النسائي: 2/ 14، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15433، 19041 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19250»
حدیث نمبر: 2477
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ النَّحَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نُودِيَ بِالصُّبْحِ فِي يَوْمٍ بَارِدٍ وَأَنَا فِي مِرْطِ امْرَأَتِي، فَقُلْتُ: لَيْتَ الْمُنَادِي قَالَ: مَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ أَذَانِهِ: وَمَنْ قَعَدَ فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا نعیم بن نحام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سردی والا دن تھا اور میں اپنی بیوی کی چادر میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں فجر کی اذان ہونے لگی، میں نے کہا: کاش اذان کہنے والا یہ بھی کہہ دے: جو (نماز کے لیے) نہ آئے اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔ ایسے ہی ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن نے اذان کے آخر میں کہا: جو نہ آئے، اس پر کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2477
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، اسماعيل بن عياش ضعيف في روايته عن غير الشاميين، وشيخه ھنا يحيي بن سعيد الانصاري مدني أخرجه البيھقي: 1/ 398، وابن ابي عاصم: 759، وابن قانع: 3/ 152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18099»
حدیث نمبر: 2478
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ مُؤَذِّنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ وَأَنَا فِي لِحَافِي فَتَمَنَّيْتُ أَنْ يَقُولَ: صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ، ثُمَّ سَأَلْتُ عَنْهَا فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَهُ بِذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں: ایک ٹھنڈی رات تھی اور میں اپنے لحاف میں لیٹا ہوا تھا، اتنے میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا، مجھ میں یہ تمنا پیدا ہوئی کہ کاش مؤذن یہ کہہ دے: اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔ (ایسے ہی ہوا اور جب) حَیَّ عَلَی الْفَـلَاحِ تک پہنچا تو اس نے کہا: اپنی رہائش گاہوں پر ہی نماز پڑھ لو، پھر جب میں نے ان (زائد) الفاظ کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2478
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي عن نعيم بن النحام أخرجه عبد الرزاق: 1927، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18098»
حدیث نمبر: 2479
عَنْ سَمْرَةَ بْنِ جُنْدُبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: ((الصَّلَاةُ فِي الرِّجَالِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
’سیّدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین والے روز، بارش والے دن فرمایا: خیموں میں ہی نماز پڑھ لو ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2479
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 6999، والطيالسي: 907، والبزار: 465 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20092، 20170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20352»
حدیث نمبر: 2480
عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ، فَلَمَّا رَجَعْتُ اسْتَفْتَحْتُ، فَقَالَ أَبِي: مَنْ هَٰذَا؟ قَالُوا: أَبُو الْمَلِيحِ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصَابَتْنَا سَمَاءٌ لَمْ تَبُلَّ أَسَافِلَ نِعَالِنَا، فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوملیح بن اسامہ کہتے ہیں:بارش والی رات کو میں مسجد کی طرف گیا، (نمازِ عشاء پڑھ کر) واپس آیا اور دروازہ کھولنے کو کہا۔ میرے ابو جان نے کہا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ ابو ملیح ہے۔ انھوں نے کہا: ہم حدیبیہ کے موقع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم نے دیکھا کہ (ہلکی سی) بارش ہوئی، اس سے ہمارے جوتوں کے نچلے والے حصے بھی نہیں بھیگے تھے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مؤذن نے کہا: اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2480
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 936 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20983»
حدیث نمبر: 2481
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَانَ مَطِيرًا، قَالَ: فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيَهُ أَنِّ الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں: کہ حنین کے دن بارش تھی، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مؤذن کوحکم دیا کہ وہ یہ کہے کہ خیموں میں ہی نماز ہو گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2481
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20976»
حدیث نمبر: 2482
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ أَظُنُّهُ رَفَعَهُ قَالَ: أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بارش والے دن مؤذن کو حکم دیاکہ وہ کہے: اپنے خیموں میں ہی نماز پڑھ لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2482
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 616، 668، 901، ومسلم: 699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2503»
حدیث نمبر: 2483
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَئُوا بِالْعَشَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا پیش کر دیا جائے اور اُدھر نماز کی اقامت بھی کہہ دی جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2483
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5465، ومسلم: 558 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24120 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24621»
حدیث نمبر: 2484
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَئُوا بِالْعَشَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت بھی ہو جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2484
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 420، وابويعلي: 6993، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ (660)، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 1985 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27032»
حدیث نمبر: 2485
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَئُوا بِالْعَشَاءِ))، قَالَ: وَلَقَدْ تَعَشَّى ابْنُ عُمَرَ مَرَّةً وَهُوَ يَسْمَعُ قِرَاءَةَ الْإِمَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا رکھ دیا جائے اور اُدھر نماز بھی کھڑی کردی جائے تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔ نافع کہتے ہیں: ایک دفعہ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ شام کا کھانا کھا رہے تھے اور وہ امام کی قراءت سن رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2485
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 5464، ومسلم: 559 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5806»
حدیث نمبر: 2486
عَنْ مَوْهُوبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يُخَالِفُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَٰذَا؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً مَتَى تُوَافِقُهَا أُصَلِّي مَعَكَ وَمَتَى تُخَالِفُهَا أُصَلِّي وَأَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ (کی نماز سے) پیچھے رہتے تھے، (یعنی وہ ان کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے تھے، ایک دن) عمر بن عبد العزیز نے ان سے پوچھا: تجھے کون سی چیز ایسا کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جب تم اس نماز کی موافقت کرتے ہو تو میں تمہارے ساتھ پڑھ لیتا ہوں، لیکن جب تم اس کی مخالفت کرتے ہو تو میں (وقت پر) نماز ادا کر کے اپنے گھر چلا جاتا ہوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2486
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، موھوب بن عبد الرحمن بن ازھر القرشي في عداد المجھولين ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12485 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12513»