کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: جماعت بالخصوص عشاء اور فجر سے پیچھے رہ جانے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 2464
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِنْ مَنْ حَوْلَ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهُدُونَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي الْجَمِيعِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد کے ارد گرد والے لوگ ضرور ضرور اس چیز سے باز آ جائیں کہ نمازِ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہوں، وگرنہ میں ان کے گھروں کو جلانے کی لکڑیوں کی گٹھڑیوں کے ساتھ ضرور ضرور جلا دوں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2464
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 644، 2420، 7224، ومسلم: 651 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7328، 7916، 7984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7903»
حدیث نمبر: 2465
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ لَأَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحَرِّقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نمازِ عشاء کھڑی کرتا اور اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا کہ وہ گھروں میں جو کچھ ہے، اسے جلا دیں ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2465
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي معشر انظر الحديث السابق: 1307 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8782»
حدیث نمبر: 2466
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُؤَذِّنَ ثُمَّ أَأْمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمُ الْحَطَبِ إِلَى قَوْمٍ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عشاء اور فجر کی نمازیں منافقوں پر سب سے بھاری ہیں اور اگر یہ لوگ جان لیں کہ ان میں کتنا اجر و ثواب ہے تو یہ ضرور آئیں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ مؤذن کو حکم دوں کہ وہ اذان کہے، پھر کسی آدمی کا حکم دوں کہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کی طرف ایسے افرادکو لے کر چلوں، جنھوں نے جلنے والی لکڑیوں کی گٹھڑیاں اٹھا رکھی ہوں، اور پھر ان کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2466
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 657، ومسلم: 651 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9482»
حدیث نمبر: 2467
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِي الْقَوْمِ رِقَّةً، فَقَالَ: ((إِنِّي لَأَهُمُّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجَ فَلَا أَقْدِرُ عَلَى إِنْسَانٍ يَتَخَلَّلُ عَنِ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَحْرَقْتُهُ عَلَيْهِ))، فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلَى قَائِدٍ كُلَّ سَاعَةٍ، أَيَسَعُنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي؟ قَالَ: ((أَتَسْمَعُ الْإِقَامَةَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأْتِهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں آئے اور دیکھا کہ نماز یوں میں قلت ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک میرا ارادہ یہ ہے کہ میں لوگوں کے لیے ایک امام مقرر کروں، پھر میں خود نکل جاؤں اور نماز سے پیچھے رہ جانے والے جس جس انسان پر قدرت پاؤں، اس کو اس کے گھرسمیت جلا دوں۔ سیّدنا عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول!میرے اور مسجد کے درمیان کھجوریں اور درخت ہیں اور میں ہر وقت قائد بھی نہیں ہوتا(جو مسجد میں لے آئے) ، توکیا مجھے گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تو اذان سنتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو نماز کے لیے آنا پڑے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2467
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابن خزيمة: 1479، والحاكم: 1/ 247، والطحاوي في ’’شرح مشكل الآثار‘‘: 5087 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15572»
حدیث نمبر: 2468
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ فِتْيَانِيَ فَيَجْمَعُوا حَطَبًا، ثُمَّ أَأْمُرَ رَجُلًا يُؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ، وَأَيْمُ اللَّهِ! لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّ لَهُ بِشُهُودِهَا عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَشَهِدَهَا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهَا لَأَتَوْهَا وَلَوْ حَبْوًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا یہ ارادہ ہے کہ میں جوانوں کو جلنے والی لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں، پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور خود نماز سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے پیچھے چلا جاؤں اور ان سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں۔ اللہ کی قسم! اگر ان میں سے کسی کو یہ پتہ چل جائے کہ اسے نماز میں حاضر ہونے پر گوشت والی اچھی سی ہڈی یا دو کھر ملیں گے تو وہ ضرور آئے گا، اور اگر ان کو پتہ چل جائے کہ اس نماز میں کتنا اجر وثواب ہے تو یہ ضرور حاضر ہوں، اگرچہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2468
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 644، 2420، 7224، ومسلم: 651 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7328، 7984، 8890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8877»
حدیث نمبر: 2469
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَفِي رِوَايَةٍ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ، فَرَآهُمْ عِزِينَ مُتَفَرِّقِينَ، قَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا مَا رَأَيْنَاهُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ، قَالَ: ((وَاللَّهِ! لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ رَجُلًا يُؤُمُّ النَّاسَ ثُمَّ أَتَتَبَّعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَتَخَلَّلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي دُورِهِمْ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء کے وقت مسجد میں تشریف لائے اور لوگوں کو علیحدہ علیحدہ گروہوں میں بیٹھے ہوئے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سخت غصے میں آگئے، ہم نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی سخت ناراضگی میں نہیں دیکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر میں ان لوگوں کے پیچھے جاؤں جو نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اوران سمیت ان کے گھروں کو جلا دوں ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2469
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق: 2468، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8903 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8890»
حدیث نمبر: 2470
(وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ قُرَابُهُ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ وَفِي النَّاسِ رِقَّةٌ وَهُمْ عِزُونَ فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، ثُمَّ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ رَجُلًا بَدَا النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَجَابُوا لَهُ، وَهُمْ يَتَخَلَّلُونَ عَنْ هَٰذِهِ الصَّلَاةِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ رَجُلًا فَيَتَخَلَّلَ عَلَى أَهْلِ هَٰذِهِ الدُّورِ الَّذِينَ يَتَخَلَّلُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز کو مؤخر کیا، حتیٰ کہ رات کا تیسرا حصہ یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو لوگوں میں قلت تھی اوروہ ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شدید غصے میں آگئے اور پھر فرمایا: اگر کوئی آدمی اِن لوگوں کو گوشت والی ہڈی یا دو کھروں کی طرف اپنی بستی میں بلائے تو وہ اس کی بات کو ضرور قبول کریں گے۔ یہ لوگ اِس نماز سے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، البتہ تحقیق میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ پیچھے رہ کر (نماز پڑھائے) اور میں ان گھر والوں کی طرف جاؤں جو اس نماز سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور ان سمیت ان کے گھروں کو آگ کے ساتھ جلا دوں ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2470
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق: 1312 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9372»
حدیث نمبر: 2471
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَأْمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَأْمُرَ بِالنَّاسِ لَا يُصَلُّونَ مَعَنَا فَتُحَرَّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتُهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر ان لوگوں سمیت ان کے گھر جلا دینے کا حکم دوں، جو ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھتے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2471
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 652 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3753، 3816 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3743»
حدیث نمبر: 2472
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ (يَعْنِي مُعَاذَ بْنَ أَنَسٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((الْجَفَاءُ كُلُّ الْجَفَاءِ وَالْكُفْرُ وَالنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ اللَّهِ نَادَى بِالصَّلَاةِ يَدْعُو إِلَى الْفَلَاحِ وَلَا يُجِيبُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کی رحمت سے) دوری ہے، بہت دوری ہے، کفر ہے اور نفاق ہے، اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ کے مُنَادی کو نماز کے لیے اذان دیتے ہوئے اور کامیابی کی طرف دعوت دیتے ہوئے سنتا ہے، لیکن اس کی بات قبول نہیں کرتا (اور نماز باجماعت کے لیے نہیں آتا) ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2472
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، وابن لھيعة ضعيف أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ (394) ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15627 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15712»