حدیث نمبر: 2452
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي جَمَاعَةٍ فَهُوَ كَمَنْ قَامَ نِصْفَ اللَّيْلِ، وَمَنْ صَلَّى الصُّبْحَ فِي جَمَاعَةٍ فَهُوَ كَمَنْ قَامَ اللَّيْلَ كُلَّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی، پس وہ اس شخص کی طرح ہے جس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز باجماعت پڑھی، وہ اس شخص کی طرح ہے، جس نے ساری رات قیام کیا۔
حدیث نمبر: 2453
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ النَّاسَ يَعْلَمُونَ مَا فِي صَلَاةِ الْعَتَمَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں کتنا (اجر و ثواب) ہے، تو وہ ان کو ادا کرنے کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے ۔
حدیث نمبر: 2454
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَالَ: ((شَاهِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاهِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((شَاهِدٌ فُلَانٌ؟)) فَقَالُوا: لَا، فَقَالَ: ((إِنَّ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ أَثْقَلِ الصَّلَوَاتِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا، وَالصَّفُّ الْمُقَدَّمُ عَلَى مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِكَةِ، وَلَوْ تَعْلَمُونَ فَضِيلَتَهُ لَابْتَدَرْتُمُوهُ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِهِ مَعَ رَجُلٍ، وَمَا كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: فلاں آدمی موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دو (عشا اور فجر کی) نمازیں منافقین پر بڑی بوجھل ہیں، اگر وہ جان لیں ان دونوں کا اجر کیاہے تو وہ ان کی ادائیگی کے لیے ضرور آئیں، اگرچہ انھیں سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ اور پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اور اگر تم اس کی فضیلت کو جان لو تو تم ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو اور آدمی کی دو افراد کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ (یعنی زیادہ ثواب والی) ہے، اسی طرح جتنے آدمی زیادہ ہوں گے، وہ نماز اتنی زیادہ اللہ کو محبوب ہو گی ۔
حدیث نمبر: 2455
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ: ((شَاهِدٌ فُلَانٌ؟)) فَسَكَتَ الْقَوْمُ، قَالُوا نَعَمْ، وَلَمْ يَحْضُرْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ (فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ) إِنَّ صَلَاتَكَ مَعَ رَجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ مَعَ رَجُلٍ، وَصَلَاتُكَ مَعَ رَجُلٍ أَزْكَى مِنْ صَلَاتِكَ وَحْدَكَ، وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز فجر پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: فلاں شخص موجود ہے؟ لوگ خاموش رہے ، پھر بعض نے کہا: جی ہاں، وہ حاضر نہیں ہے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر فجر اور عشاء سب سے بھاری نمازیں ہیں، ( پھر سابقہ روایت کی طرح باتیں ذکر کیں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تیری دو آدمیوں کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز ایک آدمی کے ساتھ ادا کی ہوئی نمازسے زیادہ پاکیزہ ہے اور تیری ایک آدمی کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور جتنے لوگ زیادہ ہوں گے، تو وہ اتنا ہی اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔
حدیث نمبر: 2456
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ رَأَى مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ قِلَّةً، فَقَالَ: ((شَاهِدٌ فُلَانٌ؟)) قُلْنَا: نَعَمْ، حَتَّى عَدَّ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ، فَقَالَ: ((إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ صَلَاةٍ أَثْقَلَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَمِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ))، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند)انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ نمازیوں میں کچھ کمی ہے، پھر پوچھا: فلاں آدمی حاضر ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین آدمیوں کے متعلق پوچھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک منافقوں پر عشاء اور فجر کی نماز سے کوئی نماز زیادہ بھاری نہیں ہے۔ (پھر اوپر والی پوری حدیث ذکر کی)۔
حدیث نمبر: 2457
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَوْ يَعْلَمُ الْمُتَخَلِّفُونَ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَصَلَاةِ الْغَدَاةِ مَا لَهُمْ فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر فجر اور عشاء کی نمازوں سے پیچھے رہنے والے جان لیں کہ ان کے لیے ان دونوں میں کتنا اجر و ثواب ہے تو وہ مسجد میں ضرور آئیں اگر چہ ان کو سرینوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔