کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس کی فضیلت کے بارے میں منقول احادیث کا بیان
حدیث نمبر: 2440
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً، وَذَلِكَ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ، لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةٌ حَتَّى يَدْخُلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ كَانَ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتِ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ وَالْمَلَائِكَةُ يُصَلُّونَ عَلَى أَحَدِهِمْ مَادَامَ فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يَقُولُونَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ، مَالَمْ يُؤْذِ فِيهِ، مَالَمْ يُحْدِثْ فِيهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اس کی گھر والی اور بازار والی نماز سے پچیس چھبیس گنا زیادہ ہوتی ہے اور وہ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر وہ مسجد میں آتا ہے، اس کا نماز کے علاوہ اور کوئی ارادہ نہ ہوتا، اس کو کھڑا کرنے والی نماز ہی ہوتی ہے، تو وہ جو قدم بھی اٹھاتا ہے، اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک غلطی کو مٹادیا جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے۔ جب وہ مسجد میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ نماز میں ہی رہتا ہے ، جب تک نماز اس کومسجد میں روکے رکھتی ہے اور جب تک آدمی اس جگہ میں رہتا ہے، جس میں اس نے نماز پڑھی ہوتی ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہوئے یوں کہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس کی توبہ قبول کر۔ (دعا کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) جب تک وہ شخص کسی کو تکلیف نہیں دیتا یا جب تک بے وضوء نہیں ہوجاتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2440
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 477، 647، 2119، ومسلم: ص 459 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7424»
حدیث نمبر: 2441
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَٰؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ فَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ سُنَنَ الْهُدَى، وَمَا مِنْكُمْ إِلَّا وَلَهُ مَسْجِدٌ فِي بَيْتِهِ، وَلَوْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَٰذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا يَتَخَلَّلُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدًا مِنَ الْمَسَاجِدِ، فَيَخْطُو خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ بِهَا دَرَجَةٌ أَوْ حُطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةٌ وَكُتِبَتْ لَهُ بِهَا حَسَنَةٌ، حَتَّى أَنَّ كُنَّا لَنُقَارِبُ بَيْنَ الْخُطَا وَإِنْ فَضْلَ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جس کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ وہ کل اللہ تعالیٰ کو بحیثیت ِ مسلمان ملے تو اس کو چاہیے کہ وہ فرض نمازوں کی حفاظت اس مقام پر کرے جہاں ان کے لیے بلایا جاتا ہے،کیونکہ یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں اوربے شک اللہ نے اپنے نبی کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں۔تم میں سے ہر ایک کی اس کے گھر میں مسجد ہونی چاہیے اور اگر تم اپنے گھر وںمیں نماز پڑھنا شروع کر دو گے، جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا گھر میں نماز ادا کرتاہے تو تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کر دو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت چھوڑ دی تو تم گمراہ ہوجاؤ گے۔ میں نے دیکھا کہ نماز سے وہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق واضح ہوتا تھا اور میں نے دیکھا کہ ایک آدمی کو دو آدمیوں کا سہارادے کر (مسجد کی طرف) لایا جاتا، یہاں تک کہ اس کو صف میں کھڑا کردیا جاتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی وضو کرتا ہے اور اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر مسجد کی طرف آتا ہے تو وہ جو قدم اٹھاتاہے، اس کے عوض اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتاہے اور اس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے۔ (ہماری صورتحال تو یہ تھی کہ ہم مسجد کی طرف آتے وقت) قریب قریب قدم رکھتے تھے(تاکہ کثرتِ قدم کی وجہ سے نیکیاں زیادہ ہوجائیں) اور بے شک آدمی کی جماعت کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز اکیلے پڑھی ہوئی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2441
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح، وھذا اسناد فيه ابراهيم بن مسلم الھجري، وفيه لين أخرجه دون قوله: ((وان فضل صلاة الرجل)) ابن ماجه: 777، وعبد الرزاق: 1979، وأما قوله: ((وان فضل صلاة الرجل)) أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 479، والبزار: 458، وابويعلي: 4995، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 10103 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3564، 3623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3623»
حدیث نمبر: 2442
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَفْضُلُ الصَّلَاةُ فِي الْجَمِيعِ صَلَاةَ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَيَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ))، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماعت میں پڑھی ہوئی نماز آدمی کے اکیلی ادا کی ہوئی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے اور دن رات کے فرشتے فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ اِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُودًا} یعنی: اور فجر کا قرآن، بے شک فجر کا قرآن حاضر کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2442
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 648، 4717، ومسلم: 649، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7185»
حدیث نمبر: 2443
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْلَمُ أَنَّهُ إِذَا شَهِدَ الصَّلَاةَ مَعِي كَانَتْ لَهُ أَعْظَمَ مِنْ شَاةٍ سَمِينَةٍ أَوْ شَاتَيْنِ لَفَعَلَ، فَمَا يُصِيبُ مِنَ الْأَجْرِ أَفْضَلُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرتم میں سے کوئی جان لے کہ جب وہ میرے ساتھ نماز میں حاضر ہو گا تو یہ نماز اس کے حق میں ایک یا دو موٹی موٹی بکریوں سے بہتر ہو گی تو وہ ضرور حاضر ہو گا، (یاد رکھو کہ اِس نماز میں) اسے جو اجر ملے گا، وہ اس سے بھی زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2443
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 644، 2420، 7224، ومسلم: 651 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7328، 7984 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7971»
حدیث نمبر: 2444
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةٌ فِي الْجَمِيعِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی باجماعت نماز، اس کی اکیلی نماز سے ستائیس گنا زیادہ افضل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2444
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 645، ومسلم: 650، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4670، 5332 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4670»
حدیث نمبر: 2445
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ أَحَدِكُمْ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے کسی ایک کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ فضیلت والی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2445
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5779»
حدیث نمبر: 2446
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى الْوَحْدَةِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باجماعت نماز، اکیلے کی نماز پر ستائیس یا پچیس درجہ زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2446
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ انظر: 1289(2447) اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 2/ 103 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9860»
حدیث نمبر: 2447
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فُضِّلَتِ الْجَمَاعَةُ عَلَى صَلَاةِ الْفَذِّ خَمْسًا وَعِشْرِينَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اکیلے کی نماز پر جماعت کو پچیس گنا زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2447
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24725»
حدیث نمبر: 2448
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((فَضْلُ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کی جماعت میں نماز اس کے اکیلے نماز سے پچیس چھبیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2448
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، عطاء بن السائب قد اختلط، لكنه قد توبع أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 479، والبزار: 458، وابويعلي: 4995، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 10103 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3564 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3564»
حدیث نمبر: 2449
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلَاةُ الْجَمْعِ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ ضِعْفًا كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)بے شک اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز، اکیلے کی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے، ان میں سے ہر ایک اس اکیلے کی نماز کی طرح ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2449
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3567»
حدیث نمبر: 2450
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ وَحْدَهُ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ جَزْءًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی نماز تم میں سے اکیلے کی نماز سے پچیس حصے زیادہ فضیلت والی ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2450
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 649، وانظر الحديث : 1289 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10121 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10310»
حدیث نمبر: 2451
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وَضُوءَهُ ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا أَعْطَاهُ اللَّهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا أَوْ حَضَرَهَا لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھی طرح مکمل وضو کیا، پھر وہ مسجد گیا، لیکن اس نے دیکھا کہ لوگ تو نماز پڑھ چکے ہیں، اللہ اس کو اتنا اجر عطا کرے گا، جتنا کہ ان لوگوں کو دیا جو اس نماز میں حاضر ہوئے ، جبکہ ان کے اجر میں کوئی کمی بھی نہیں آئے گی ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الجماعة / حدیث: 2451
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 564 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8947 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8934»