کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: (فصل ثالث) ان روایات کے بارے میں جو اس مسئلہ میں¤ام المؤمنین سیدہ عائشہ cسے منقول ہیں
حدیث نمبر: 2273
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا وَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتْرُكُ الْعَمَلَ وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَعْمَلَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ النَّاسُ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مَا خَفَّ عَلَى النَّاسِ مِنَ الْفَرَائِضِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی چاشت کے نوافل نہیں پڑھے تھے، البتہ میں یہ نماز پڑھتی تھی۔ اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عمل کو پسند کرنے کے باوجود اس کو ترک کر دیتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ڈر ہوتا تھا کہ لوگ بھی آپ کی اقتداء کریں گے اور یہ عمل فرض ہو جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرائض کے معاملے پر لوگوں پر تخفیف کو پسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2273
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1128، 1177، ومسلم: 718 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25444، 25451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25066»
حدیث نمبر: 2274
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نمازنہیں پڑھتے تھے، نہ سفر میں اور نہ حضر میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2274
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق: 1141 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25058»
حدیث نمبر: 2275
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا، ہاں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس آتے تو دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2275
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 717 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24025، 25385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24526»
حدیث نمبر: 2276
عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي الضُّحَى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے گھر میں چاشت کی چار رکعتیں پڑھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2276
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، أخرجه مسلم: 719 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25232، 24924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25746»
حدیث نمبر: 2277
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
معاذہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز کتنی رکعتیں پڑھا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعت پڑھا کرتے تھے اور اس سے زیادہ بھی پڑھتے، جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2277
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق: 1144 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24889 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25401»