کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: صلوٰۃ الضحیٰ کے وقت اور اس کے باجماعت ادا کرنے کے جواز کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 2257
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى حِينَ كَانَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ مَكَانِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چاشت کی نماز اس وقت پڑھی کہ جب سورج مشرق کی جانب اتنا بلند تھا جتنا وہ عصر کے وقت مغرب کی جانب اونچا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2258
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ قُبَاءٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ الضُّحَى، فَقَالَ: ((صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ مِنَ الضُّحَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنازید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قباء والے لوگوں کے پاس آئے اور وہ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اوابین کی نماز اس وقت ہوتی ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں چاشت کے وقت گرمی سے جلنے لگیں۔
حدیث نمبر: 2259
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى مَسْجِدِ قُبَاءٍ أَوْ دَخَلَ مَسْجِدَ قُبَاءٍ بَعْدَ مَا أَشْرَقَتِ الشَّمْسُ فَإِذَا هُمْ يُصَلُّونَ، فَقَالَ: ((إِنَّ صَلَاةَ الْأَوَّابِينَ كَانُوا يُصَلُّونَهَا إِذَا رَمِضَتِ الْفِصَالُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج کے اچھی طرح روشن ہوجانے کے بعد مسجد ِ قبا کے پاس آئے یا مسجد ِ قبا میں داخل ہوئے، تووہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اوابین کی نماز وہ اس وقت پڑھا کرتے تھے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں گرمی کی وجہ سے جلنے لگتے تھے۔
حدیث نمبر: 2260
عَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ رَآنِي أَبُو بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَيَّ ذَلِكَ وَنَهَانِي، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُصَلُّوا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سعید بن نافع کہتے ہیں: صحابی رسول سیّدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے مجھے سورج طلوع ہوتے وقت نمازِ چاشت پڑھتے ہوئے دیکھا، انھوں نے میرے اس عمل کو معیوب قرار دیا اور ایسا کرنے سے منع کیا، پھر کہا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تک سورج بلند نہ ہوجائے اس وقت تک نماز نہ پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتاہے۔
حدیث نمبر: 2261
عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِهِ سُبْحَةَ الضُّحَى فَقَامُوا وَرَاءَهُ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کی نماز پڑھی اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور یہ نماز ادا کی۔
حدیث نمبر: 2262
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ الضُّحَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 2263
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ لَا يَدَعُهَا وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ لَا يُصَلِّيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز (اتنے تسلسل سے) پڑھا کرتے تھے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو نہیں چھوڑیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو یوں چھوڑ دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نماز نہیں پڑھیں گے۔
حدیث نمبر: 2264
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى قَطُّ إِلَّا مَرَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کبھی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، سوائے ایک مرتبہ کے۔
حدیث نمبر: 2265
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: رَأَى أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَاسًا يُصَلُّونَ الضُّحَى، فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيُصَلُّونَ صَلَاةً مَا صَلَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا عَامَّةُ أَصْحَابِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد الرحمن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر کہا: بے شک یہ لوگ ایسی نماز پڑھ رہے ہیں جو نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھی اورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عام صحابہ نے۔
حدیث نمبر: 2266
عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَتُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاهَا عُمَرُ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: صَلَّاهَا أَبُو بَكْرٍ؟ قَالَ لَا، قُلْتُ: أَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا أَخَالُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مورق عجلی کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: نہیں۔ میں نے کہا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نماز پڑھتے تھے؟ انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی نہیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2267
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا نَحْنُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَجَلَسْنَاهُ، قَالَ: فَإِذَا رِجَالٌ يُصَلُّونَ الضُّحَى، فَقُلْنَا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: بِدْعَةٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مجاہدk کہتے ہیں: میں اور عروۃ بن الزبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریف فرما تھے، ہم ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ کچھ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ ہم نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! یہ کون سی نماز ہے؟ انھوں نے کہا: یہ بدعت ہے۔
حدیث نمبر: 2268
عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرُ أُمِّ هَانِئٍ فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ فَاغْتَسَلَ وَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ يُخَفِّفُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ) مَا رَأَتْهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن ابی لیلیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے مجھے خبر نہیں دی کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہو، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن اس کے گھر میں داخل ہوئے، غسل کیا اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، تخفیف کے ساتھ رکوع و سجود کیے، (بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ) اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے ہلکی نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا تھا، ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع و سجود مکمل کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 2269
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعْدَ مَا ارْتَفَعَ النَّهَارُ يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ فِيهَا أَطْوَلُ أَوْ رُكُوعُهُ أَوْ سُجُودُهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْهُ مُتَقَارِبٌ، قَالَتْ: فَلَمْ أَرَهُ سَبَّحَهَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند ) عبیداللہ بن عبد اللہ بن الحارث سے روایت ہے کہ اس کے باپ عبد اللہ بن الحارث بن نوفل نے اس کو بیان کیا کہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے اس کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن، دن کے بلند ہوجانے کے بعد آئے، آپ نے کپڑے کے متعلق حکم دیا، پس اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پردہ کیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آٹھ رکعات نماز پڑھی، میں نہیں جانتی کہ اس نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قیام لمبا تھا یا رکوع یا سجدہ ، ان میں سے ہر ایک دوسرے کے قریب قریب تھا۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔
حدیث نمبر: 2270
عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ ضَخْمٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ فَلَوْ أَتَيْتَ مَنْزِلِي فَصَلَّيْتَ فَأَقْتَدِيَ بِكَ، فَصَنَعَ الرَّجُلُ طَعَامًا، ثُمَّ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَضَحَ طَرَفَ حَصِيرٍ لَهُمْ، فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ آلِ الْجَارُودِ لِأَنَسٍ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهَا إِلَّا يَوْمَئِذٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
انس بن سیرین، سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک موٹا آدمی تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا:مجھ میں اتنی استطاعت نہیں ہے کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ سکوں، اس لیے اگر آپ میرے گھر تشریف لائیں اور (کسی جگہ) نماز پڑھیں، تاکہ میں آپ کی اقتداء کروں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا، پس اس نے چٹائی کا ایک کنارہ ان کے لیے صاف کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں ادا کیں۔آل جارود میں سے ایک آدمی نے سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس نے اس دن کے علاوہ کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔
حدیث نمبر: 2271
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّهُ لَمْ يَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ أَوْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن رواحہ سے سے روایت ہے کہ سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر اس وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر کے لیے نکلتے یا سفر سے واپس آتے۔
حدیث نمبر: 2272
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّي صَلَّيْتُ صَلَاةَ رَغْبَةٍ وَرَهْبَةٍ سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا فَأَعْطَانِي ثِنْتَيْنِ وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً، سَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَبْتَلِيَ أُمَّتِي بِالسِّنِينَ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُ أَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوَّهُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا فَأَبَى عَلَيَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفر میں آٹھ رکعت چاشت کی نماز پڑھی، فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے (اللہ کی رحمت کی) رغبت رکھتے ہوئے اور (اس کے عذابوں سے) ڈرتے ہوئے نماز پڑھی ہے، میں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا، اس نے دو چیزیں تو مجھے عطا کردی ہیں، لیکن ایک کو روک دیا ہے، میں نے اللہ سے سوال کیا کہ وہ میری امت کو قحط سالی سے نہ آزمائے، پس اللہ نے اسی طرح کردیا ہے، پھرمیں نے اس سے سوال کیا کہ وہ ان کے دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے، پس اس نے اسی طرح کردیا، (میرا تیسرا سوال یہ تھا کہ) وہ اِن کو گروہوں میں خلط ملط نہ کرے، لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔