کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2247
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَغَنِمُوا وَأَسْرَعُوا الرَّجْعَةَ فَتَحَدَّثَ النَّاسُ بِقُرْبِ مَغْزَاهُمْ وَكَثْرَةِ غَنِيمَتِهِمْ وَسُرْعَةِ رَجْعَتِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَقْرَبَ مِنْهُ مَغْزًى وَأَكْثَرَ غَنِيمَةً وَأَوْشَكَ رَجْعَةً، مَنْ تَوَضَّأَ ثُمَّ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ لِسُبْحَةِ الضُّحَى فَهُوَ أَقْرَبُ مَغْزًى وَأَكْثَرُ غَنِيمَةً وَأَوْشَكُ رَجْعَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، پس انہوں نے غنیمت حاصل کی اور جلدی واپس لوٹ آئے، لوگوں نے اس غزوے میں (لڑائی کے)جلدی ختم ہو جانے ، کثیر مقدار میں غنیمت حاصل کرنے اور ان کے جلدی واپس لوٹ آنے کے بارے میں باتیں کیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری اس چیز کی طرف رہنمائی نہ کردوں کہ جو غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہو، غنیمت کے لحاظ سے زیادہ ہو اور لوٹنے کے لحاظ سے بھی قریب ہو؟ جس نے وضو کیا، پھر چاشت کی نماز پڑھنے کے لیے مسجد گیا، وہ شخص غزوہ کے لحاظ سے نزدیک ہے اور زیادہ غنیمت والا اور جلدی لوٹنے والا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2247
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وابن لھيعة قد تابعه ابن وھب عند الطبراني، وحيي بن عبد الله ضعيف لكن في الباب ما يقويه، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6638 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6638»
حدیث نمبر: 2248
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے چاشت کی دو رکعتوں کی حفاظت کی اس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابرہوں ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2248
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف النھاس بن قھم، وشداد بن عبد الله القرشي مولاھم لم يسمع من ابي ھريرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10451»
حدیث نمبر: 2249
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ: صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَصَلَاةِ الضُّحَى، وَلَا أَنَامُ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے مجھے یہ تین وصیتں کیں: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، چاشت کی نماز پڑھنااور نمازِ وتر پڑھ کر سونا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2249
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 1432، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7503»
حدیث نمبر: 2250
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ فَقَالَ: ((مَنْ قَامَ إِذَا اسْتَقَلَّتِ الشَّمْسُ فَتَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ فَكَانَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں سے گفتگو فرما رہے تھے، ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس وقت کھڑا ہو، جب سورج بلند ہوچکا ہو، پھر اچھی طرح وضو کر کے دو رکعت نماز پڑھے تو اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور وہ ایسے ہوجائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے اسی دن جنم دیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2250
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لجھالة ابن عم ابي عقيل، أخرجه مسلم: 234، وابوداود: 170 بذكر وجوب الجنة مكان مغفرة الخطايا، ولم يذكرا امر استقلال الشمس ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 121، 17392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 121»
حدیث نمبر: 2251
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ! لَا تَعْجِزَنْ مِنَ الْأَرْبَعِ رَكَعَاتٍ مِنْ أَوَّلِ نَهَارِكَ أَكْفِكَ آخِرَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: آدم کے بیٹے! دن کے شروع میں چار رکعتوں کو پڑھنے سے عاجز نہ آجا، (اگر تو یہ نماز پڑھے گا تو) میں تجھے دن کے آخر میں کافی ہوجاؤں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2251
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد منقطع، شريح بن عبيد لم يسمع من ابي الدردائ، أخرجه الترمذي: 475 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28028»
حدیث نمبر: 2252
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَمَّارٍ الْغَطْفَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ: صَلِّ لِي يَا ابْنَ آدَمَ! أَرْبَعًا فِي أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا نعیم بن ہمار غطفانی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا رب فرماتاہے: اے آدم کے بیٹے!تو میرے لیے دن کے شروع میں چار رکعت نماز پڑھ، میں تجھے دن کے آخر میں (تمام حاجات و مشکلات سے) کافی ہو جاؤں گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2252
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 1289، والبخاري في ’’تاريخه‘‘: 8/ 93 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22470، 22472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22839»
حدیث نمبر: 2253
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ لِشَيْءٍ أَوْصَانِي بِثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَأَنْ لَّا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ وَسُبْحَةِ الضُّحَى فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی، میں ان کو کسی وجہ سے نہیں چھوڑوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نصیحت کی کہ میں ہر مہینے میں تین دن روزے رکھوں، وتر کی نماز پڑھ کر ہی سوؤں، اور سفر و حضر میں چاشت کی نماز ادا کروں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2253
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح دون قوله: ((في الحضر والسفر))، وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي عن ابي ادريس السكوني، ولجھالة ابي ادريس السكوني، أخرجه مسلم: 722 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27481 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28029»
حدیث نمبر: 2254
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَتَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَتَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَتَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِي أَحَدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرتا ہے تو اس کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے اورتسبیح کرنا صدقہ ہے، لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دیناصدقہ ہے اور برے کام سے روکنا صدقہ ہے (اس طرح یہ امور سر انجام دے کر ان اعضاء کا صدقہ ادا کیا جا سکتا ہے) اور ان تمام چیزوں سے دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں، جو آدمی چاشت کے وقت ادا کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2254
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 1285، 1286، 5244، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21475، 21548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21807»
حدیث نمبر: 2255
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ، وَأُمِرْتُ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا)) (مسند أحمد: 2917)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر( عیدالالضحیٰ کی) قربانی فرض کی گئی ہے، لیکن تم پر اس کو فرض نہیں کیا گیا اورمجھے چاشت کی دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ تم کو اس کا حکم نہیں دیا گیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2255
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف جابر بن يزيد الجعفي، أخرجه الطبراني: 11802، 11803، والبزار: 2434، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2917، 2065 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
حدیث نمبر: 2256
(وَمِنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَبِالْوِتْرِ وَلَمْ يُكْتَبْ، وَفِي رِوَايَةٍ: ((عَلَيْكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تو چاشت کی دو رکعت اور وتر پڑھنے کا حکم دیا گیا، لیکن (تم پر) یہ چیزیں فرض نہیں کی گئیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الضحى / حدیث: 2256
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف جابر بن يزيد الجعفي، أخرجه الطبراني: 11802، والبزار: 2434، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2065»