کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: اس کی دلیل کا بیان جو یہ کہتا ہے کہ وتر کے علاوہ نماز تراویح آٹھ رکعت ہے
حدیث نمبر: 2244M
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَمِلْتُ اللَّيْلَةَ عَمَلًا، قَالَ: ((مَا هُوَ؟)) قَالَ: نِسْوَةٌ مَعِيَ فِي الدَّارِ قُلْنَ لِي: إِنَّكَ تَقْرَأُ وَلَا نَقْرَأُ، فَصَلِّ بِنَا، فَصَلَّيْتُ ثَمَانِيًا وَالْوِتْرَ، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَرَأَيْنَا أَنَّ سُكُوتَهُ رِضًا بِمَا كَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، سیّدناابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے رات کو ایک عمل کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سا عمل ہے۔ اس نے کہا: میرے ساتھ گھر میں کچھ خواتین تھیں، انہوں نے مجھے کہا: تم قرآن پڑھتے ہو اور ہم نہیں پڑھتیں،اس لیے ہمیں نماز پڑھاؤ، پس میں نے ان کو آٹھ رکعتیں اور وتر پڑھائے۔ جواباً نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاموشی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راضی ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2244M
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف عيسي بن جارية الانصاري المدني، ولابھام الراوي له عن يعقوب بن عبد الله، لكن قد رواه غير واحد عن يعقوب، أخرجه ابن حبان: 2549، 2550، وابويعلي: 1801، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3743 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21098)۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21415»
حدیث نمبر: 2245
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا فِي غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوْتِرَ؟ قَالَ: ((يَا عَائِشَةُ! إِنَّهُ أَوْ إِنِّي تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رمضان میں نماز کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے،پس تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں سوال نہ کر، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعتیں پڑھتے، پر تو ان کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں کچھ نہ پوچھ، پھر تین رکعتیں پڑھتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! کیاآپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ!بے شک میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2245
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1147، 2013، ومسلم: 738، ومالك في ’’المؤطا‘‘: 1/ 120، وابوداود: 1341، والترمذي: 439 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24574»
حدیث نمبر: 2246
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَيُّ أُمَّاهْ! أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَتْ صَلَاتُهُ فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ سَوَاءً، ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِيهَا رَكْعَتَا الْفَجْرِ، قُلْتُ: فَأَخْبِرِينِي عَنْ صِيَامِهِ، قَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ إِلَّا قَلِيلًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اماں جی! مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں بتلائیے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز تیرہ رکعت ہوتی تھی ، ان میں دو رکعتیں فجر کی سنتیں ہوتی تھیں۔ میں نے کہا: مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں بتائیے۔ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسلسل) روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ روزے رکھیں گے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تسلسل کے ساتھ) روزے ترک کرنے لگ جاتے، یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے ترک کر دیں گے۔ اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی مہینے میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان میں رکھتے تھے۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ سارے شعبان کے روزے رکھتے تھے، سوائے تھوڑے دنوں کے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2246
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 738 بذكر صلاته في رمضان، و1156 بذكر صيامه، وانظر الحديث السابق برقم: 1115 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24617»