کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: اس کی دلیل کا بیان، جو یہ کہتا ہے کہ گھر میں تراویح ادا کرنا افضل ہے
حدیث نمبر: 2243
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: ((مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْئِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں چٹائی کا ایک حجرہ بنایااور اس میں رات کو نماز پڑھی، جب لوگوں کو علم ہوا تو وہ بھی جمع ہوگئے، لیکن پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز کو گم پایا، ان کا خیال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے ہیں، اس لیے بعض لوگوں نے کھانسنا شروع کر دیاتاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف آ جائیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو کچھ تم کرتے رہے، مجھے اس کا اندازہ ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ قیام تم پر فرض نہ کر دیا جائے اور اگر یہ فرض کر دیا گیا تو تم اس کو قائم نہ رکھ سکو گے۔ اس لیے (میں کہتا ہوں کہ) لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو، آدمی کا گھر میں نماز پڑھنا افضل عمل ہے، سوائے فرض نماز کے۔
حدیث نمبر: 2244
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّمَا أَفْضَلُ؟ الْصَّلَاةُ فِي بَيْتِي أَوِ الْصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَلَا تَرَى إِلَى بَيْتِي؟ مَا أَقْرَبَهُ مِنَ الْمَسْجِدِ! فَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً)) (سنن ابن ماجة: 1378)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ میرا گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے یا مسجد میں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آپ میرے گھر کو نہیں دیکھتے؟ وہ مسجد کے بہت زیادہ قریب ہے، لیکن پھر بھی مجھے مسجد میں نماز پڑھنے کی بہ نسبت گھر میں نماز ادا کرنا زیادہ محبوب ہے، سوائے فرضی نماز کے (وہ مسجد میں ہی ادا کرنی چاہئے)۔