کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نماز تراویح کے سبب اور اس کا مسجد میں باجماعت ادا کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 2235
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي رَمَضَانَ، فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ، قَالَ وَجَاءَ رَجُلٌ فَقَامَ إِلَى جَنْبِي، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ حَتَّى كُنَّا رَهْطًا، فَلَمَّا أَحَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّا خَلْفَهُ تَجَوَّزَ فِي الصَّلَاةِ ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَصَلَّى صَلَاةً لَمْ يُصَلِّهَا عِنْدَنَا، قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفَطِنْتَ بِنَا اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى الَّذِي صَنَعْتُ))، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ يُوَاصِلُ وَذَاكَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، قَالَ فَأَخَذَ رِجَالٌ يُوَاصِلُونَ مِنْ أَصْحَابِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ يُوَاصِلُونَ، إِنَّكُمْ لَسْتُمْ مِثْلِي، أَمَا وَاللَّهِ لَوْ مُدَّ لِيَ الشَّهْرُ وَأَصَلْتُ وِصَالًا يَدَعُ الْمُتَعَمِّقُونَ تَعَمُّقَهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں نماز پڑھ رہے تھے، پس میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، ایک اور آدمی آیا اور میرے پہلو میں کھڑا ہوگیا، پھر ایک اور آدمی آگیا، یہاں تک کہ ہم ایک جماعت بن گئے۔ لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محسوس کیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تخفیف کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور گھر تشریف لے گئے اور وہاں (لمبی) نماز پڑھی، وہ ہمارے پاس نہیں پڑھی تھی۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب صبح ہوئی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا آپ کو رات کے وقت ہمارے متعلق علم ہوگیا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور یہی وہ چیز تھی جس نے مجھے ایسے کرنے پر آمادہ کیا۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصال شروع کر دیا اور یہ مہینے کے آخری ایام کی بات ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی اقتداء میں) بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی وصال شروع کردیا۔ (جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہوا تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ بھی وصال کر رہے ہیں۔ (یاد رکھو کہ) تم میری مثل نہیں ہو، خبردار! اللہ کی قسم ہے کہ اگر یہ مہینہ میرے لیے لمبا کردیا جاتا تو میں وصال جاری رکھتا، اس طرح سے دین میں تشدّد کرنے والے اپنے تشدد سے باز آ جاتے۔
حدیث نمبر: 2236
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فِي رَمَضَانَ فَخَفَّفَ بِهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ فَخَفَّفَ بِهِمْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! جَلَسْنَا اللَّيْلَةَ فَخَرَجْتَ إِلَيْنَا فَخَفَّفْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ فَأَطَلْتَ؟ قَالَ: ((مِنْ أَجْلِكُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں صحابہ کے پاس تشریف لائے اور ہلکی سی نماز پڑھائی، پھر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)، پھر باہر تشریف لائے اور تخفیف کے ساتھ نماز پڑھائی اور پھر اندر چلے گئے اور کافی دیر لگائی (یعنی لمبی نماز پڑھی)۔ جب صبح ہوئی توہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہم رات کو بیٹھے تھے، پس آپ ہمارے پاس تشریف لے آئے اور ہلکی سی نماز پڑھائی اور پھرگھر میں داخل ہوگئے اور کافی دیر لگا دی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سارا کچھ تمہاری وجہ سے کیا تھا۔
حدیث نمبر: 2237
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّيْتَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ، قَالَ: ((قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) اس میں ہے کہ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم چاہ رہے تھے کہ آپ لمبی نماز پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارا پتہ چل گیا تھا اور میں نے جان بوجھ کر ایسے کیا۔
حدیث نمبر: 2238
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ فَثَابَ رِجَالٌ فَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الْمُقْبِلَةَ أَكْثَرُ مِنْهُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ بِصَلَاتِهِ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَتَحَدَّثُوا بِذَلِكَ، فَاجْتَمَعَ اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ نَاسٌ كَثِيرٌ حَتَّى كَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّى فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ اجْتَمَعَ النَّاسُ حَتَّى كَادَ الْمَسْجِدُ يَعْجِزُ عَنْ أَهْلِهِ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَخْرُجْ، قَالَتْ: حَتَّى سَمِعْتُ نَاسًا مِنْهُمْ يَقُولُونَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ سَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَتَشَهَّدَ، ثُمَّ قَالَ: ((أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُكُمُ اللَّيْلَةَ وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی، پس کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر نماز پڑھی، پس جب لوگوں نے صبح کی تو انہوں نے گفتگو کی کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسجد میں) نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں رات کے درمیانی حصے میں نماز پڑھی، آنے والی رات میں لوگ پہلے سے زیادہ جمع ہوگئے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے اور رات کے درمیانی حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر لوگوں نے صبح کی پس انہوں نے رات کے معاملے میں گفتگو کی، پس تیسری رات میں لوگ پہلے سے بھی زیادہ جمع ہوگئے حتیٰ کہ مسجد والے زیادہ ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے درمیانی حصے میں نکلے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پس جب چوتھی رات ہوئی تو لوگ پھر جمع ہوگئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ مسجد لوگوں سے عاجز آجائے گی، (لوگوں کی کثرت کی وجہ سے) پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں بیٹھ گئے اور مسجد میں نہ نکلے، عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یہاں تک کہ میں نے لوگوں کی آوازیں سنیں وہ کہہ رہے تھے، نماز، نماز پس نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی طرف نہ نکلے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھ لی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا پھر لوگوں میں کھڑے ہوئے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ پڑھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حمد و ثناء کے بعد، پس بے شک تمہاری رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہیں رہی اور لیکن میں اس بات سے ڈر گیا کہ کہیں اس کو تم پر فرض نہ کردیا جائے (اگر تم پر فرض کردی گئی تو)تم اس سے عاجزآجاؤ گے، ایک روایت میں یہ اضافہ ہے، اور یہ رمضان کی بات ہے۔
حدیث نمبر: 2239
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ أَوْزَاعًا يَكُونُ مَعَ الرَّجُلِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ فَيَكُونُ مَعَهُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ أَوِ السِّتَّةُ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرُ فَيُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ، قَالَتْ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنْ ذَلِكَ أَنْ أَنْصِبَ لَهُ حَصِيرًا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَفَعَلْتُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ قَالَتْ فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مَنْ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا طَوِيلًا ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ وَتَرَكَ الْحَصِيرَ عَلَى حَالِهِ فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ تَحَدَّثُوا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ كَانَ مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَتْ وَأَمْسَى الْمَسْجِدُ رَاجًّا بِالنَّاسِ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ وَثَبَتَ النَّاسُ قَالَتْ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا شَأْنُ النَّاسِ يَا عَائِشَةُ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! سَمِعَ النَّاسُ بِصَلَاتِكَ الْبَارِحَةَ بِمَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ فَحَشَدُوا لِذَلِكَ لِتُصَلِّيَ بِهِمْ، قَالَتْ: فَقَالَ: اطْوِي عَنَّا حَصِيرَكِ يَا عَائِشَةُ!)) قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ غَافِلٍ وَثَبَتَ النَّاسُ مَكَانَهُمْ حَتَّى خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصُّبْحِ فَقَالَتْ: فَقَالَ: ((أَيُّهَا النَّاسُ! أَمَا وَاللَّهِ! مَا بِتُّ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَيْلَتِي هَٰذِهِ غَافِلًا وَمَا خَفِيَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ وَلَكِنِّي تَخَوَّفْتُ أَنْ يُفْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَاکْلَفُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا))، قَالَ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمَهَا وَإِنْ قَلَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوسلمہ بن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ لوگ رمضان کی راتوں کو مسجد نبوی میں مختلف ٹولیوں کی صورت میں نماز پڑھا کرتے تھے، ایک آدمی کو کچھ قرآن یاد ہوتا تو اس کے ساتھ پانچ یا چھ یا اس سے کم یا زیادہ لوگ نمازادا کرتے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک رات حکم دیا کہ میں اپنے حجرے کے دروازے پر ایک چٹائی بچھا دوں۔پس میں نے ایسے ہی کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء ادا کرنے کے بعد اس کی طرف نکلے (اور رات کی نماز پڑھنے لگے، جو لوگ مسجد میں تھے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوگئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو طویل رات نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے اور چٹائی کو اسی طرح رہنے دیا۔جب صبح ہوئی تو لوگوں نے رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ صحابہ کی نماز کی باتیں کیں۔ (اس کا اثر یہ ہوا کہ ) شام کے وقت مسجد لوگوں سے بھر گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عشاء کی نماز پڑھائی اور فارغ ہو کر گھر چلے گئے، لیکن لوگ وہیں پر ٹھہرے رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: عائشہ!لوگوں کی کیا صورتحال ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ لوگ رات کو بعض صحابہ کے ساتھ آپ کی نماز کے بارے میں سن کر اب جمع ہو گئے ہیں، تاکہ آپ ان کو نماز پڑھائیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! اپنی چٹائی لپیٹ لو۔ پس میں نے ایسے ہی کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھرمیں ہی رات گذاری، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز وغیرہ پڑھنے سے) غافل نہ رہے، لیکن لوگ اسی مقام پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر کے لیے نکلے اور فرمایا: لوگو! اللہ کا شکر ہے کہ نہ میں نے یہ رات غفلت میں گزاری ہے اور نہ تمہاری حالت مجھ سے پوشیدہ رہی ہے، دراصل بات یہ ہے کہ میں ڈرتا ہوں کہ یہ رات کی نماز تم پر فرض کردی جائے گی، اس لیے اپنی طاقت کے مطابق اعمال کے مکلف بنو،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک نہیں اکتاتا، جب تک تم نہیں اکتا جاتے۔ ابوسلمہ نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : بے شک اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو۔
حدیث نمبر: 2240
عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ يَرُدُّهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ اثْنَيْ عَشَرَ قَالَ: ((إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ))، وَهِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعَشَرَ، فَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةً بَعْدَ الْعَتَمَةِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعَشَرَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ خَمْسٍ وَعَشَرَ قَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ يَوْمَ أَرْبَعٍ وَعَشَرَ فَقَالَ: ((إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، يَعْنِي لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعَشَرَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُمْ))، فَصَلَّى بِالنَّاسِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعَشَرَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ سِتٍّ وَعَشَرَ قَامَ فَقَالَ: ((إِنَّا قَائِمُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعَشَرَ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ))، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِيَامِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى قُبَّتِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنْ كُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْ تَقُومَ بِنَا حَتَّى تُصْبِحَ، فَقَالَ: ((يَا أَبَا ذَرٍّ! إِنَّكَ إِذَا صَلَّيْتَ مَعَ إِمَامِكَ وَانْصَرَفْتَ إِذَا انْصَرَفَ كُتِبَ لَكَ قُنُوتُ لَيْلَتِكَ))، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَدْتُّ هَٰذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شریح بن عبید حضرمی سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کے آخری دس دنوں میں مسجد میں اعتکاف کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیسویں تاریخ کو عصر کی نماز ادا کی تو فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں گے، اس لیے تم میں سے جو قیام کرنا چاہتا ہے، وہ قیام کرے۔ یہ تئیسویں رات بنتی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اندھیرا چھا جانے کے بعد عشاء کی نماز باجماعت پڑھائی، یہاں تک کہ رات کا تیسرا حصہ بیت گیا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے خیمے میں) چلے گئے۔ جب چوبیسویں رات آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ قیام کیا اور نہ ہی کچھ ارشاد فرمایا، لیکن جب پچیسویں رات آنی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان کی چوبیس تاریخ کو عصر کے بعد کھڑے ہوکر ارشاد فرمایا: آج ہم رات کو ان شاء اللہ قیام کریں کے، تم میں جو چاہتا ہے، وہ قیام کرسکتا ہے۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رات کو قیام کیا یہاں تک کے رات کا تیسرا حصہ گزرگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اپنے خیمے میں) تشریف لے گئے، چھبیسویں رات کو نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام کیا اورنہ کچھ ارشاد فرمایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھبیسویں روز عصر کی نماز ادا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا: ہم آج رات کوان شاء اللہ قیام کریں گے، پس جو کوئی قیام کرنا چاہتا ہے وہ قیام کرلے۔ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پس ہم نے قیام کرنے کے لیے صبر و استقامت کا اظہار کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو نماز پڑھائی ، یہاں تک کہ رات کا دو تہائی حصہ گزر گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرے میں تشریف لے گئے ، میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم اس بات کے حریص ہیں کہ آپ ہمیں صبح تک نماز پڑھائیں ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اے ابوذر ! جب تو امام کے ساتھ نماز پڑھے گا اور اس وقت واپس جائے گا ، جب امام واپس جائے تو تیرے لیے ساری رات کے قیام کا ثواب لکھ دیا جائے گا ۔‘‘ ابو عبد الرحمان کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کو اپنے باپ (امام احمدؑ) کی کتاب میں ان کے ہاتھ سے لکھا ہوا پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 2241
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ وَقَامَ بِنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَٰذِهِ، قَالَ: ((إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ بَقِيَّةُ لَيْلَتِهِ))، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا السَّادِسَةَ وَقَامَ بِنَا السَّابِعَةَ، وَقَالَ وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ، قَالَ قُلْتُ: مَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جبیر بن نفیر حضرمی سے مروی ہے کہ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے، ہوا یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہ کیا، یہاں تک کہ سات راتیں باقی رہ گئیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (تئیسویں رات کو) ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوبیسویں رات کو قیام نہ کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پچیسویں رات کو اتنا طویل قیام کرایا کہ تقریبا آدھی رات گزر گئی۔ سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ صحابہ نے یہ فرمائش کی کہ اے اللہ کے رسول! کاش آپ ہمیں باقی رات بھی نوافل پڑھا دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی امام کے ساتھ قیام کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ چلا جاتا ہے تو اس کے لیے باقی رات کے قیام کا بھی ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھبیسویں رات کو ہمیں قیام نہیں کرایا، البتہ ستائیسویں رات کو قیام کروایا ۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو (قیام کے لیے جمع ہونے کے لیے) پیغام بھیجا، دوسرے لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اتنی طویل نماز پڑھائی کہ ہم ڈرنے لگے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج فلاح رہ جائے۔ جبیر بن نفیر کہتے ہیں: میں نے سیّدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ فلاح کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: اس کا مطلب سحری ہے۔
حدیث نمبر: 2242
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ زِيَادٍ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيِّ إِنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشَرَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَامَ بِنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشَرَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ، قَالَ: وَكُنَّا نَدْعُو السُّحُورَ الْفَلَاحَ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ لَيْلَةَ السَّابِعَةِ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشَرَ وَأَنْتُمْ تَقُولُونَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشَرَ السَّابِعَةَ فَمَنْ أَصْوَبُ؟ نَحْنُ أَوْ أَنْتُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
نعیم بن زیاد ابی طلحہ الا نماری سے روایت ہے کہ انہوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ حمص کے منبر پر کھڑے ہو کر کہہ رہے تھے، کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رمضان کے مہینے میں تئیسویں رات کو ایک تہائی رات تک اور پچیسویں رات کو نصف رات تک قیام کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ستائیسویں کو تو اتنا طویل قیام کروایا کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ ہم سحری نہیں کر سکیں گے۔ وہ کہتے ہیں: ہم لوگ سحری کو فلاح کہتے تھے۔ ہم لوگ ساتویں رات سے مراد ستائیسویں رات لیتے ہیں، لیکن تم کہتے ہو کہ تئیسویں رات ساتویں ہے، اب پتہ نہیں کہ کون زیادہ درست ہے، ہم یا تم؟