کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: یہ باب نماز تروایح کی فضیلت کے بارے میں ہے¤اور اس بارے میں کہ نماز تراویح سنت ہے واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 2233
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ثَنَا مَالِكُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِقِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ وَكَانَ يَقُولُ: ((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں قیام کرنے کا حکم دیتے تھے، لیکن وہ یہ حکم وجوب کے ساتھ نہیں دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمایاکرتے تھے: جس نے رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2233
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 1371، والنسائي: 3/ 201 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10855»
حدیث نمبر: 2234
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ وَسَنَنْتُ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ احْتِسَابًا خَرَجَ مِنَ الذُّنُوبِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے فرض کیے اور میں نے اس کے قیام کو سنت (بنادیا ہے)، پس جس نے ثواب کے حصول کے لیے اس کے روزے رکھے اور اس کا قیام کیا، وہ گناہوں سے ایسے نکل آئے گا، جیسے آج اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2234
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 1371، والنسائي: 3/ 201 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1660»