کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: پانچ رکعت نمازِ وترکا بیان
حدیث نمبر: 2209
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً يُوْتِرُ بِخَمْسٍ وَلَا يَجْلِسُ إِلَّا فِي الْخَامِسَةِ فَيُسَلِّمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کوتیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، ان میں پانچ رکعت نمازِ وتر ہوتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ پانچ رکعتیں اکٹھی ادا کرتے) اور پانچویں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھتے اور پھر سلام پھیرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2209
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1170، ومسلم: 737، ورواية البخاري دون ذكر صلاة الوتر ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24239، 25447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24743»
حدیث نمبر: 2210
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ قَبْلَ الصُّبْحِ، إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ اللَّيْلِ، سِتٌّ مِنْهَا مَثْنَى مَثْنَى وَيُوْتِرُ بِخَمْسٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تیرہ رکعت نماز پڑھتے تھے، ان میں وہ دو سنتیں بھی شامل ہوتیں، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طلوعِ فجر کے بعد اور نمازِ فجر سے پہلے پڑھتے تھے، اس طرح رات کی کل گیارہ رکعتیں رہ گئیں، ان میں سے چھ رکعتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو کر کے ادا کرتے اور پانچ وتر اس طرح ادا کرتے کہ (درمیانے تشہد کے لیے) بیٹھتے نہیں تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2210
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح- أخرجه ابوداود: 1359، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26890»
حدیث نمبر: 2211
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ بِسَبْعٍ وَبِخَمْسٍ لَا يُفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِسَلَامٍ وَلَا بِكَلَامٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات اور پانچ وتر پڑھتے تھے اوران میں سلام یا کلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ پانچ رکعت وتر ادا کرنا مسنون عمل ہے، جبکہ ان رکعات کو ایک سلام کے ساتھ اور درمیانے تشہد کے بغیر ادا کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2211
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لانقطاعه، مِقسم لم يسمع من ام سلمة- أخرجه النسائي: 3/ 239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26486 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27019»
حدیث نمبر: 2212
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ بِتِسْعٍ حَتَّى إِذَا بَدُنَ وَكَثُرَ لَحْمُهُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَقَرَأَ بِـ{إِذَا زُلْزِلَتْ} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو(۹) وتر پڑھا کرتے تھے، لیکن جب آپ موٹے ہوگئے اور آپ کا گوشت زیادہ ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سات وتر پڑھتے تھے اور (وتروں کے بعد) بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے، ان میں سورۂ زلزال اور سورۂ کافرون کی تلاوت کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2212
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، دون تعيين قراء ة النبي صلي الله عليه وآله وسلم في الركعتين بعد الوتر۔ أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار : 1/ 290، والبيھقي: 3/ 33، والطبراني في الكبير : 8064 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22669»
حدیث نمبر: 2213
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَرَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو رکعت وتر ادا کرتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، جب آپ ضعیف ہوگئے تو سات وتر پڑھتے اور دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2213
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1343، والنسائي: 3/ 242 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24269، 25346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25860»
حدیث نمبر: 2214
وَعَنْهَا أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ، لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَقْعُدُ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو رکعت نماز پڑھتے،اور ان میں آٹھویں رکعت کے بعد بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر کھڑے ہو جاتے اور سلام نہ پھیرتے، اس طرح نوویں رکعت ادا کرتے اور پھر بیٹھ جاتے اور اللہ تعالی ٰکی تعریف ، اس کا ذکر اور اس سے دعا کرتے اور پھر اس طرح سلام پھیرتے کہ ہم سن رہے ہوتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر دو رکعتیں ادا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2214
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 746 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25861»
حدیث نمبر: 2215
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ بِكَمْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ؟ قَالَتْ: بِأَرْبَعٍ وَثَلَاثٍ وَسِتٍّ وَثَلَاثٍ، وَثَمَانٍ وَثَلَاثٍ، وَعَشْرَةٍ وَثَلَاثٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُوْتِرُ بِأَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَلَا أَنْقَصَ مِنْ سَبْعٍ وَكَانَ لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: چار اور تین، چھ اور تین، دس اورتین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرہ سے زیادہ اور سات سے کم وتر نہیں پڑھتے تھے اور آپ (فجر سے پہلے) دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2215
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 1362 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25674»
حدیث نمبر: 2216
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَهُوَ جَالِسٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ایک سلام کے ساتھ زیادہ سے زیادہ نو وتر ثابت ہیں۔ جب کوئی نمازی ایک سلام کے ساتھ سات یا نو وتر ادا کرے گا تو وہ چھ اور آٹھ رکعات کے بعد درمیانہ تشہد بیٹھے گا، پھر ساتویںیا نویں رکعت ادا کرے گا۔ ہم نے ان ابواب کے شروع میں ان تمام امور کا دلائل کے ساتھ خلاصہ پیش کر دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2216
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح من حديث عائشة، وھذا اسناد ضعيف، ميمون بن موسي مدلس وقد عنعن، ثم انه اختلف علي الحسن۔ أخرجه الترمذي: 471، وابن ماجه: 1195 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26553 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27088»
حدیث نمبر: 2217
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُفْصِلُ بَيْنَ الْوِتْرِ وَالشَّفْعِ بِتَسْلِيمَةٍ وَيُسْمِعُنَا إِيَّاهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (تین) وتروں میں ایک اور دو رکعتوں کے درمیان ایک دفعہ سلام کے ساتھ فاصلہ کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں یہ سلام سناتے بھی تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2217
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه ابن حبان: 2433، 2435، والطبراني في الاوسط : 757 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5461»
حدیث نمبر: 2218
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْحُجْرَةِ وَأَنَا فِي الْبَيْتِ فَيُفْصِلُ بَيْنَ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِ بِتَسْلِيمٍ يُسْمِعُنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجرے میں نماز پڑھتے اور میں گھر میں ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کی دو اور ایک رکعت میں فاصلہ کرنے کے لیے سلام پھیرتے تو آپ ہمیں وہ سلام سناتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بھی تین رکعت نماز وتر کا ایک طریقہ ہے کہ دو رکعات کے بعد سلام پھیر کر تیسری رکعت علیحدہ پڑھی جائے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وتر کی دو اور ایک رکعت کے مابین سلام پھیرتے تھے اور اپنی کسی ضرورت کا حکم بھی دے دیا کرتے تھے۔ (بخاری: ۹۹۱) سیدنا ابو موسی اشعری، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان سلام پھیرا کرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۴۶۷۲)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع، عمر بن عبد العزيز لم يدرك عائشة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25046»
حدیث نمبر: 2219
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ بِتِسْعِ سُوَرٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ، يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى {أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ} وَ{إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} وَ{إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ} وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ {وَالْعَصْرِ} وَ{إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} وَ{إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ} وَفِي الثَّالِثَةِ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (۹)مفصل سورتوں کے ساتھ وتر پڑھتے تھے، آپ پہلی رکعت میں {أَلْھَاکُمُ التَّکَاثُرُ … }، {إِنَّا أَنْزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ … } اور {إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ … } اور دوسری رکعت میں { وَالْعَصْرِ … }، {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ … } اور {إِنَّا أَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ … } اور تیسری رکعت میں {قُلْ یَاأَیُّہَا الْکَافِرُوْنَ … }، {تَبَّتْ یَدَا أَبِیْ لَھَبٍ … } اور {قُلْ ھُوَ اللّٰہُ أَحَدٌ … } پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2219
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجه عبد بن حميد: 68، والبزار: 851، وابو يعلي: 460، والطحاوي: 1/ 290 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 678 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 678»
حدیث نمبر: 2220
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنَ الْوِتْرِ قَالَ: ((سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ فِي الثَّالِثَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد الرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ وتر میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے اور جب وتر سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ کہتے اور تیسری مرتبہ آواز بلند کرتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2220
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/244، 251 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15354، 15355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15429»
حدیث نمبر: 2221
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: ((سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ)) يُطَوِّلُهَا ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرتے تو تین دفعہ لمبا کر کے سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ کہتے۔
وضاحت:
فوائد: … سنن دار قطنی میں رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ کے الفاظ بھی ثابت ہیں، اس طرح وتروں کے بعد والی پوری دعا یہ بنتی ہے: سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ، سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ، سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ،رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوْحِ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2221
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15430»
حدیث نمبر: 2222
عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوْتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَفِي الثَّانِيَةِ بِـ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَفِي الثَّالِثَةِ بِـ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد العزیز بن جریج کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز کے ساتھ وتر پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ پہلی رکعت میں سورۂ اعلی، دوسری رکعت میں سورۂ کافرون اور تیسری رکعت میں سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2222
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1423، وابن ماجه: 1171، والنسائي: 3/ 244 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26431»
حدیث نمبر: 2223
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ بِـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} وَ{قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} وَ{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر میں سورۂ اعلی، سورۂ کافرون اور سورۂ اخلاص کی تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2223
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21459»
حدیث نمبر: 2224
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی قسم حدیث بیان کی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2224
درجۂ حدیث محدثین: صحیح