کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعت وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھنے¤اور اس سے پہلے جفت رکعات ادا کرنے کا بیان¤ایک رکعت وتر پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2200
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يُوْتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهُ: أَتُوْتِرُ بِوَاحِدَةٍ لَا تَزِيدُ عَلَيْهَا يَا أَبَا إِسْحَاقَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الَّذِي لَا يَنَامُ حَتَّى يُوْتِرَ حَازِمٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
محمد بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں نماز عشاء ادا کرتے اور اس کے بعد صرف ایک رکعت وتر ادا کرتے، مزید کوئی نفل نہ پڑھتے، کسی نے ان سے کہا: اے ابو سحاق! کیاآپ ایک ہی رکعت پڑھتے ہیں اوراس سے زیادہ کچھ نہیں پڑھتے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص وتر پڑھ کر ہی سوتا ہے، وہ محتاط ہے۔
حدیث نمبر: 2201
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَ: ((يُصَلِّي أَحَدُكُمْ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيَ الصُّبْحَ صَلَّى وَاحِدَةً فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں رات کو کیسے نماز پڑھنے کا حکم دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی دو دو رکعت کر کے نماز پڑھتا رہے، جب صبح طلوع ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ ایک رکعت اس کی رات کو پڑھی ہوئی نماز کو طاق کر دے گی۔
حدیث نمبر: 2202
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ: صَلَاةُ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ وَالنَّهَارِ) مَثْنَى مَثْنَى تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَصَلِّ رَكْعَةً تُوْتِرُ لَكَ مَا قَبْلَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اس میں یہ تفصیل ہے: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے،تو ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتا رہے، لیکن جب تو صبح کے طلوع ہونے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ تیرے لئے پہلے والی ساری نماز کو وتر یعنی طاق بنا دے گی۔
وضاحت:
فوائد: … سنتوں اور نوافل کی بحثوں میں اِن دو ابواب ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان اور عصر کی سنتوں اور ان کی فضیلت کا بیان مین یہ بات گزر چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر اور عصر سے پہلے والی چار سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرتے تھے، تو پھر اِس حدیث دن کی نماز دو دو رکعت ہے کا کیا معنی ہو گا، جمع وتطبیق کی صورتیں اسی مقام میں گزر چکی ہیں۔
حدیث نمبر: 2203
عَنْ أَبِي مِجْلَزَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ))، وَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مجلز کہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا توانہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔ پھر میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہے۔
حدیث نمبر: 2204
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَوْتِرْ بِخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِثَلَاثٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَبِوَاحِدَةٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَأَوْمِئْ إِيمَاءً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پانچ رکعت وتر پڑھ، اگر تجھے اتنی طاقت نہ ہو تو تین پڑھ لے، اگر تجھے یہ قدرت بھی نہ ہو تو ایک پڑھ لے اور اگر تجھے یہ استطاعت بھی حاصل نہ ہو تو اشارہ کرکے پڑھ لے۔
حدیث نمبر: 2205
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِّي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: لَأَرْمُقَنَّ اللَّيْلَةَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَتَوَسَّدْتُ عَتَبَتَهُ أَوْ فُسْطَاطَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُمَا دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ دُونَ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا، ثُمَّ أَوْتَرَ فَذَلِكَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: میں آج رات ضرور بالضرور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز دیکھوں گا، پس میں نے آپ کی دہلیز پر یا خیمے کو تکیہ بنا اور دیکھنے لگ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں، پھر طویل دو رکعتیں ادا کیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکن یہ پہلے والیوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، لیکن اپنے والی پہلے دو سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں،یہ بھی اپنے سے پہلے والی دو سے کم تھیں، پھر وتر ادا کیے، اس طرح یہ کل تیرہ رکعتیں ہو گئیں۔
وضاحت:
فوائد: … حیدث کے لفظ ثم اوتر مین یہ تو واضح نہیں کہ وتر کتنے پڑھے گئے البتہ کل رکعات شمار کر کے تعداد تیرہ بتائی گئی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وتر تین ادا کیے گئے کیونکہ وتر کے علاوہ اس حدیث میں دس رکعات کا ذکر ہے۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ ایک رکعت نماز وتر ادا کرنا بھی درست ہے، اس موضوع پر درج ذیل حدیث سب سے واضح ہیـ: ابو مجلز کہتے ہیں: صَلّٰی أَبُوْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیُّ رضی اللہ عنہ بِأَصَحِابِہِ وَھُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ مِائَۃَ آیَۃٍ مِنْ سُوْرَۃِ النِّسَآئِ فِیْ رَکْعَۃٍ فَأَنْکَرُوْا ذَلِکَ عَلَیْہِ فَقَالَ مَا اَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمِیْ حَیْثُ وَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَدَ مَہُ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَاصَنَعَ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کررہے تھے، انہوں نے دو رکعت نماز ِ عشاء پڑھائی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں سورۂ نساء کی سو آیات پڑھ دیں۔ جب لوگوں نے اس چیز کا ان پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم رکھا، میں نے اسی جگہ پر قدم رکھنے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کیا، میں نے اسی طرح کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ (نسائی: ۳/ ۲۴۳،مسند احمد: ۱۹۹۹۸) آخری جملے میں سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی شدت کو مبالغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، ان کا مقصدیہ ہے کہ یہ عمل ان کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وتر سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھے بغیر صرف ایک رکعت وتر ادا کرنا بھی درست ہے۔
اس باب سے ثابت ہوا کہ ایک رکعت نماز وتر ادا کرنا بھی درست ہے، اس موضوع پر درج ذیل حدیث سب سے واضح ہیـ: ابو مجلز کہتے ہیں: صَلّٰی أَبُوْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیُّ رضی اللہ عنہ بِأَصَحِابِہِ وَھُوَ مُرْتَحِلٌ مِنْ مَکَّۃَ إِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَصَلَّی الْعِشَائَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ مِائَۃَ آیَۃٍ مِنْ سُوْرَۃِ النِّسَآئِ فِیْ رَکْعَۃٍ فَأَنْکَرُوْا ذَلِکَ عَلَیْہِ فَقَالَ مَا اَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمِیْ حَیْثُ وَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَدَ مَہُ، وَأَنْ أَصْنَعَ مِثْلَ مَاصَنَعَ رَسُولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ سیدناابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی، جبکہ وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف سفر کررہے تھے، انہوں نے دو رکعت نماز ِ عشاء پڑھائی، پھر کھڑے ہوئے اور ایک رکعت میں سورۂ نساء کی سو آیات پڑھ دیں۔ جب لوگوں نے اس چیز کا ان پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا قدم رکھا، میں نے اسی جگہ پر قدم رکھنے میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کیا، میں نے اسی طرح کرنے میں کوئی کمی نہیں کی۔ (نسائی: ۳/ ۲۴۳،مسند احمد: ۱۹۹۹۸) آخری جملے میں سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی شدت کو مبالغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، ان کا مقصدیہ ہے کہ یہ عمل ان کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ اس سلسلے میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتداء کی ہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ وتر سے پہلے کوئی نفل نماز پڑھے بغیر صرف ایک رکعت وتر ادا کرنا بھی درست ہے۔