حدیث نمبر: 2178
عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا بَصْرَةَ حَدَّثَنِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ زَادَكُمْ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ، فَصَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الْفَجْرِ))، قَالَ أَبُو تَمِيمٍ: فَأَخَذَ بِيَدِي أَبُو ذَرٍّ فَسَارَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَى أَبِي بَصْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ عَمْرٌو؟ قَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو تمیم جیشانی سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک نماز اور دی ہے اور وہ وتر ہے،تم اس کو نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانےوقت میں ادا کیا کرو۔ ابو تمیم کہتے ہیں: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں سیدنا ابو بصرۃ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان سے کہا: جو بات سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، کیا آپ نے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، انھوں نے کہا: ہاں، میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔
حدیث نمبر: 2179
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ: فَانْطَلَقْنَا إِلَى أَبِي بَصْرَةَ فَوَجَدْنَاهُ عِنْدَ الْبَابِ الَّذِي يَلِي دَارَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا أَبَا بَصْرَةَ! أَنْتَ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَادَكُمْ صَلَاةً، صَلُّوهَا فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ، الْوِتْرُ الْوِتْرُ))؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اسی طرح ہی ہے، البتہ کچھ تفصیل اس طرح ہے: تو ہم سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان کو اس دروازے کے پاس پایا جو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے قریب تھا، سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابو بصرہ! کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک اور نماز دی ہے، تم اس کو نماز عشاء اور نمازِ فجر کے درمیانی وقت میں ادا کیا کرو، وہ وتر ہے، وہ وتر ہے ۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اِنہوں نے پھر کہا: کیا آپ نے واقعی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔
حدیث نمبر: 2180
عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ ضِفْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَتَنَاوَلَ امْرَأَتَهُ فَضَرَبَهَا وَقَالَ: يَا أَشْعَثُ! اِحْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا، حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسْأَلِ الرَّجُلَ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اشعث بن قیس کہتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا، پہلے تو انہوں نے اپنی بیوی کو پکڑ کر مارا اور پھر کہا: اے اشعث! تین چیزیں مجھ سے یاد کرلو، میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یاد کی تھیں، آدمی سے یہ سوال مت کرو کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے، وتر ادا کیے بغیر نہ سوؤ اور تیسری بات میں بھول گیا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، بہرحال جس آدمی کو نہ جاگنے کا خطرہ ہو اس کے لیےیہی بہتر ہے کہ وہ سونے سے پہلے نمازِ وتر ادا کر لیا کرے، لیکن اس نماز کو رات کے آخری ایک تہائی میں ادا کرنا افضل ہے۔
حدیث نمبر: 2181
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَفِي وَسَطِهِ وَفِي آخِرِهِ، ثُمَّ ثَبَتَ لَهُ الْوِتْرُ فِي آخِرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے، کبھی درمیانی حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں وتر ادا کرتے تھے، پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وتر رات کے آخری حصہ میں ہی ہوتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث مسند احمد میں دوسرے مقامات میں بھی موجود ہے، ان میں آخری جملہ ان الفاظ کے ساتھ ہے: فانتھی وترہ الی السحر) یا وانتھی وترہ الی آخر اللیل کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازِ وتر پڑھنے کا وقت سحری تک یا رات کے آخری حصہ تک پہنچ جاتا تھا۔۔
حدیث نمبر: 2182
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي زَوَائِدِ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى مُسْنَدِ أَبِيهِ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک اور حدیث بیان کی، ہے جو مسند احمد کی حدیث جیسی اور زوائد عبداللّٰہ میں ہے۔
حدیث نمبر: 2183
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يُوْتِرُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَيُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ) عِنْدَ الْإِقَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اذان کے وقت وتر پڑھتے اور اقامت کے وقت فجر کی دو سنیں ادا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اگر اذان اور اقامت کے وقت سے مراد یہ ہو کہ اذان سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیتے اور اقامت سے پہلے پہلے فجر کی سنتیں پڑھ لیتے، تو اس روایت کا مفہوم درست ہو گا۔
حدیث نمبر: 2184
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْوِتْرُ بِلَيْلٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وتر رات کی نماز ہے۔
حدیث نمبر: 2185
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: ((مَتَى تُوْتِرُ؟)) قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، قَالَ: ((فَأَنْتَ يَا عُمَرُ؟)) قَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، قَالَ: ((أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ! فَأَخَذْتَ بِالثِّقَةِ وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ! فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم کب وتر پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے شروع میں ہی عشاء کی نماز کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم کب پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: رات کے آخر میں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوبکر! تم نے احتیاط کو اور اے عمر! تم نے قوت کواختیار کیاہے۔
حدیث نمبر: 2186
عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى بِاللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِهِ وَتْرًا، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَهَبَتْ كُلُّ صَلَاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جناب نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ جو رات کو نماز پڑھے وہ آخر میں وتر پڑھا کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی حکم دیا ہے، اور جب فجر ہوگئی تورات کی ساری نماز اور وتر (کا وقت) ختم ہوگیا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فجر سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔
حدیث نمبر: 2187
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ: ((أَوْتِرُوا قَبْلَ الصُّبْحِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صبح سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو۔
حدیث نمبر: 2188
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ وَأَوْسَطَهُ وَآخِرَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی تو رات کے ابتدائی حصے میں، کبھی درمیانے حصے میں اور بسا اوقات آخری حصے میں نمازِ وتر پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2189
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَى وَتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رات کے ہر حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وتر سحری تک ختم ہو جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 2190
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا أَوْتَرَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا أَوْتَرَ بَعْدَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، وَرُبَّمَا نَامَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات سونے سے پہلے وتر پڑھا کرتے اور کبھی کبھار سونے کے بعد پڑھ لیتے، اسی طرح بسا اوقات سونے سے پہلے غسل جنابت کر لیا کرتے اور کبھی کبھار اِس غسل سے پہلے سو جاتے۔
حدیث نمبر: 2191
عَنْ أَبِي نَهِيكٍ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ أَنْ لَا وَتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصَّبْحَ، فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَخْبَرُوهَا، فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فَيُوْتِرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو نہیک سے مروی ہے کہ سیدناابو الدردا رضی اللہ عنہ لوگوں کو خطبہ دیا کرتے تھے، ایک دن انھوں نے کہا کہ جو آدمی صبح کو پا لے، اس کے لیے کوئی وتر نہیں ہے، یہ سن کر کچھ لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چلے گئے اور ان کو یہ بات بتلائی، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو صبح ہو جانے کے باوجود وتر پڑھ لیتے تھے اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی عذر کی بنا پر طلوع فجر تک وتر نہ پڑھ سکتے تو بعد میں ادا کر لیا کرتے تھے، امام مالک نے مؤطا: ۱/ ۱۲۶ میں کئی صحابہ سے طلوع فجر کے بعد وتر پڑھنے کے آثار نقل کیے ہیں اور پھر کہا: وہ شخص طلوع فجر کے بعد وتر پڑھے گے جو سو جائے گا، وگرنہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ جان بوجھ نماز وتر کی ادائیگی میں تاخیر کرے، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو جائے۔
درج حدیث میں اسی مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہٗ، فَلْیُوْتِرْ إِذَا ذَکَرَہٗأَوِاسْتَیْقَظَ۔)) یعنی: جو آدمی سو جانے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر وقت پر نہ پڑھ سکے تو وہ اس وقت یہ نماز ادا کرے جب اسے یاد آئے یا جب بیدار ہو۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۴، ابوداود: ۱۴۳۱، ترمذی: ۴۶۵، ابن ماجہ: ۱۱۸۸) معلوم ہوا کہ جو آدمی جان بوجھ طلوعِ فجر سے پہلے وتر ادا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس نماز کو پا لینے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گا اور اس طرح وہ اس رات کو نمازِ وتر سے محروم ہو جائے گا۔
درج حدیث میں اسی مسئلے کی وضاحت کی گئی ہے: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِیَہٗ، فَلْیُوْتِرْ إِذَا ذَکَرَہٗأَوِاسْتَیْقَظَ۔)) یعنی: جو آدمی سو جانے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر وقت پر نہ پڑھ سکے تو وہ اس وقت یہ نماز ادا کرے جب اسے یاد آئے یا جب بیدار ہو۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۴، ابوداود: ۱۴۳۱، ترمذی: ۴۶۵، ابن ماجہ: ۱۱۸۸) معلوم ہوا کہ جو آدمی جان بوجھ طلوعِ فجر سے پہلے وتر ادا نہیں کرے گا، اس کے لیے اس نماز کو پا لینے کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گا اور اس طرح وہ اس رات کو نمازِ وتر سے محروم ہو جائے گا۔
حدیث نمبر: 2192
عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَّا فِي رَكْعَةٍ شَفَعَ إِلَيْهَا أُخْرَى حَتَّى اجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوْتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ أَوْتَرَ فِي وَسَطِهِ، ثُمَّ أَثْبَتَ الْوِتْرَ فِي هَٰذِهِ السَّاعَةِ، قَالَ: وَذَلِكَ عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد خیر کہتے ہیں: ہم مسجد میں تھے، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا کہ وتر کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے، ہم سے جو ایک رکعت پڑھ چکا تھا، (لیکن اس کی ایک رکعت باقی تھی تو) اس نے وہ رکعت ادا کی،یہاں تک کہ ہم سب ان کے پاس جمع ہو گئے، انہوں نے کہا: پہلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے شروع میں وتر پڑھتے تھے، پھر اس کے درمیان میں پڑھنے لگے، لیکن بعد میں اس وقت میں نمازِ وترکی ادائیگی کو برقرار رکھا۔ یہ طلوعِ فجر کے قریب کا وقت تھا۔
وضاحت:
فوائد: … رات کے آخری وقت کے افضل ہونے کی بعض وجوہات پہلے بھی گزر چکی ہیں کہ اس وقت میں آسمانِ دنیا پر اللہ تعالیٰ کا نزول ہوتا ہے، دعائیں قبول ہوتی ہیں اور اس وقت میں پڑھی جانے والی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2193
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلُوهُ عَنِ الْوِتْرِ، قَالَ: فَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُّوْتِرَ هَٰذِهِ السَّاعَةَ، ثَوِّبْ يَا ابْنَ التَّيَّاحِ! أَوْ أَذِّنْ أَوْ أَقِمْ (وَفِي لَفْظٍ:) قَالَ: خَرَجَ عَلِيٌّ حِينَ ثَوَّبَ الْمُثَوِّبُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
بنو اسد کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: ہمارے پاس سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے،لوگوں نے ان سے وتر کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس وقت وتر پڑھیں۔ پھر کہا: ابن تَیّاح! الصلاۃ خیر من نوم کہو یا اذان کہو یا اقامت کہو۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس وقت نکلے، جب مؤذن نے نمازِ فجر کے لیے الصلاۃ خیر من نوم کے الفاظ پر مشتمل اذان کہی۔ پھر باقی حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 2194
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي اللَّيْلَ مَثْنَى مَثْنَى، ثُمَّ يُوْتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّ الْأَذَانَ أَوِ الْإِقَامَةَ فِي أُذُنَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو دو رکعت نماز پڑھتے اور رات کے آخری حصے میں ایک رکعت وتر ادا کرتے، پھر (فجر کی دو سنتیں ادا کرنے کے لیے) کھڑے ہوتے اور (اتنا جلدی ادا کر لیتے) کہ گویا کہ اذان یا اقامت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کان میں ہوتی۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں آخری الفاظ یہ ہیں: وَیُصَلِّیْ رَکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْغَدَاۃِ کَاَنَّ الْاَذَانَ بِاُذُنَیْہِ (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے پہلے (اتنی جلدی سے) دو رکعتیں ادا کر لیتے کہ یوں لگتا کہ اذان ابھی تک آپ کے کانوں میں ہے)۔ ان ہی الفاظ کی روشنی میں حدیث ِ مبارکہ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ متن میں زیرِ مطالعہ حدیث میں لفظ اذان یا اقامت شک کے ساتھ ہے، اور فوائد کے تحت درج صحیح مسلم کی حدیث میں شک کے بغیر اذان کا لفظ ہے لیکن شارح صحیح مسلم نے بھی لکھا ہے کہ اس سے مراد اقامت ہے مگر ایک دوسری حدیث میں بھی اقامت کو اذان کہا گیا ہے ((بَیْنَ کُلِّ اَذَانَیْنِ صَلٰوۃٌ)) (بخاری: ۶۳۲) حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ صبح کی سنتیں آپ جلدی ادا کر لیتے گویا آپ اقامت کی آواز سن رہے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 2195
عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وتر کی نماز کو صبح سے پہلے پہلے ادا کر لیاکرو۔
حدیث نمبر: 2196
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وَتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ، فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ، وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مغرب کی نماز، دن کی نماز کا وتر ہے، اور تم (نماز وتر ادا کر کے) رات کو نماز کو طاق کر لیا کرو، اور رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخر میں وتر ایک رکعت ہے۔
حدیث نمبر: 2197
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وَتْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وتر کو اپنی رات کی آخری نماز بناؤ۔
وضاحت:
فوائد: … کیا نماز وتر کے بعد نفل پڑھے جا سکتے ہیں؟ اس کا ذکر اگلے ساتویں باب میں آئے گا۔
حدیث نمبر: 2198
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَسْتَيْقِظَ آخِرَهُ فَلْيُوْتِرْ أَوَّلَهُ، وَمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ يَسْتَيْقِظُ آخِرَهُ فَلْيُوْتِرْ آخِرَهُ، فَإِنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ وَهِيَ أَفْضَلُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جس شخص کو یہ گمان ہو کہ وہ رات کے آخرحصے میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ رات کے شروع میں ہی وتر پڑھ لے، لیکن جس شخص کا یہ خیال ہو کہ وہ رات کے آخر میں بیدار ہوجائے گا، تو وہ اس کے آخر میں ہی وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور وہ سب سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 2199
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: أَيُّ سَاعَةٍ تُوْتِرِينَ؟ قَالَتْ: مَا أُوْتِرُ حَتَّى يُؤَذَّنُ وَمَا يُؤَذَّنُ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ، قَالَتْ: وَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ، بِلَالٌ وَعَمْرُو بْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا أَذَّنَ عَمْرٌو فَكُلُوا وَاشْرَبُوا، فَإِنَّهُ رَجُلٌ ضَرِيرُ الْبَصَرِ وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَارْفَعُوا أَيْدِيَكُمْ فَإِنَّ بِلَالًا لَا يُؤَذِّنُ (كَذَا قَالَ) حَتَّى يُصْبِحَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود بن یزید کہتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کس وقت وتر پڑھتی ہیں؟ انہوں نے کہا: میں تو اس وقت تک وتر نہیں پڑھتی، جب تک مؤذن اذانیں نہ دے دیں اور وہ اذانیں بھی طلوعِ فجر کے بعد دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو مؤذن تھے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ: جب عمرو اذان کہے تو تم کھا پی لیا کرو، کیونکہ وہ نابینا آدمی ہے، لیکن جب بلال اذان کہے تو کھانے پینے سے ہاتھ اٹھالیا کرو، کیونکہ جب تک صبح نہ ہو جائے، اس وقت تک بلال اذان نہیں دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلی اذان دینے والے سیدنا عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اور دوسری اذان دینے والے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہوتے تھے، جبکہ درج ذیل حدیث کی ترتیب اس کے الٹ نظر آتی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک بلال رات کو اذان دیتا ہے، اس لیے (سحری کا کھانا پینا) کھاتے پیتے رہا کرو، یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے دیں۔ (بخاری: ۶۲۲، ۶۳، مسلم: ۱۰۹۲) جمع و تطبیقیہ صورت ہے کہ ان دو مؤذنوں کی باریاں بدلتی رہتی تھی، کبھی بلال رضی اللہ عنہ پہلی اذان دیتے تھے اور کبھی سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل سے پتہ چلتا ہے کہ بلاضرورت طلوع فجر کے بعد نماز وتر ادا کرنا درست ہے، ممکن ہے کہ ان کی مراد پہلا مؤذن اور فجر کاذب کا طلوع ہونا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات وہ کسی شرعی عذر کی وجہ سے لیٹ ہو جاتی ہوں اور اسی عمل کو یہاں بیان کر دیا ہو۔ (واللہ اعلم) مرفوع احادیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت پچھلے باب میں ہو چکی ہے، نیز اس سے پہلے کئی ایسی احادیث گزر چکی ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ نماز وتر کی ادائیگی طلوع فجر سے پہلے ہونی چاہیے۔