کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: وتر کی فضیلت، تاکید اور حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2168
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ! أَوْتِرُوا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اہل قرآن! وتر پڑھا کرو، یقینا اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … احادیث ِ مبارکہ سے نمازِ وتر کییہ تعداد ثابت ہے: ۱، ۳، ۵، ۷، ۹۔ یہ پانچوں کمیتیں طاق ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات بھی طاق ہے، اگرچہ وہ صرف ایک ہے، تینیا پانچ نہیں، لیکن اس سے یہ اندازہ ہوجانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو توحید کس قدر پسند ہے کہ جو چیز طاق ہے، اللہ تعالیٰ اس سے اس وجہ سے محبت کرتا ہے کہ وہ بھی طاق ہے۔ سبحان اللہ۔ اس سے ان لوگوں کو متنبہ ہو جانا چاہیے کہ جو اللہ تعالیٰ کے لیے خاص چیزوں کو مخلوق کے لیے ثابت کرتے ہیں، مثلا: بشر کو عالم الغیب کہنا، بندے کے لیے نذر و نیاز کرنا، مردوں سے مدد مانگنا، مخلوق کے ماوراء الاسباب سننے کا قائل ہونا اور اس وجہ سے اس کو پکارنا۔ ہمارا نظریہیہ ہے کہ وتر نفلی نماز ہے، آپ سے گزارش ہے کہ درج ذیل تمام احادیث اور ان کے تحت ذکر کردہ فوائد کا بغور مطالعہ کریں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2168
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي، ابن ابي زائدة قد توبع۔ أخرجه ابوداود: 1416، وابن ماجه: 1169، والترمذي: 453، والنسائي: 3/ 228 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 877، 1262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 877»
حدیث نمبر: 2169
عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ وَتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ))، قَالَ نَافِعٌ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَصْنَعُ شَيْئًا إِلَّا وَتْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے) نافع کہتے ہیں : سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ ہر کام میں وتر (یعنی طاق) کا خیال رکھتے تھے ۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2169
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عمر العمري۔ أخرجه البزار: 743 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5880 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 877»
حدیث نمبر: 2170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((ان للہ تسعۃ و تسعین اسما، مئۃ غیر واحد، من احصاھا دخل الجنۃ، انہ وتر یحب الوتر۔)) یعنی: بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں،یعنی ایک کم سو، جس نے ان کو یاد کر لیا وہ جنت میں داخل ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ وتر (طاق) ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2170
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6410، ومسلم: 2677 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7502 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7493»
حدیث نمبر: 2171
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ لَمْ يُوْتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو وتر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہم نے ان دونوں احادیث کا حکم (ارواء الغلیل: ۲/ ۱۴۷) سے نقل کیا ہے، جناب شعیب الارنؤوط نے اس کو حسن لغیرہ قرار دیا ہے، لیکن پہلی حدیث کا ضعف سخت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2171
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، الخليل بن مرة ضعفه يحييٰ والنسائي وقال البخاري: منكر الحديث، وفي الاسناد انقطاع، معاوية بن قرة لم يسمع من أبي ھريرة۔ أخرجه اسحاق بن راھويه: 97، وابن ابي شيبة: 2/ 297 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9717 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9715»
حدیث نمبر: 2172
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوْتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا))، قَالَهَا ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: وتر حق ہے، جو وتر نہیں پڑھتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ہم نے ان دونوں احادیث کا حکم (ارواء الغلیل: ۲/ ۱۴۷) سے نقل کیا ہے، جناب شعیب الارنؤوط نے اس کو حسن لغیرہ قرار دیا ہے، لیکن پہلی حدیث کا ضعف سخت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2172
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ضعيف، ابو المنيب العتكي، قال البخاري: عنده مناكير۔ أخرجه ابوداود: 1419 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23407»
حدیث نمبر: 2173
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَنَّ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ الْقُرَشِيِّ ثُمَّ الْجُمَحِيِّ أَخْبَرَهُ وَكَانَ بِالشَّامِ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مُعَاوِيَةَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُخْدِجِيَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بِالشَّامِ يُكَنَّى أَبَا مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَذَكَرَ الْمُخْدِجِيُّ أَنَّهُ رَاحَ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ أَنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: الْوِتْرُ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ مَنْ أَتَى بِهِنَّ، لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن محیریز جمحی شام میں تھے، انھوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو بھی پایا تھا، انھوں نے بتایا کہ بنوکنانہ کے مخدجی آدمی نے بتلایا کہ شام میں سکونت پذیر ایک انصاری آدمی ابو محمد نے کہا کہ وتر واجب ہے، یہ سن کر مخدجی، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو بتایا کہ ابو محمدانصاری کہہ رہا ہے کہ وتر واجب ہے۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو محمد نے جھوٹ بولا ہے، میں نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: پانچ نمازیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بندوں پر فرض کیا ہے، جس نے ان کو ادا کیا اور کسی کے حق کو کمزور سمجھتے ہوئے ان میں سے کسی نماز کو ضائع نہیں کیا، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے یہ عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل کرے گا، لیکن جس نے ان کو ادا نہ کیا تو اس کے لئے اللہ کے ہاں کوئی عہد نہیں ہے، اگر اس نے چاہا تو اسے عذاب دے گا اور چاہا تو بخش دے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2173
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1420، والنسائي: 1/ 230، وابن ماجه: 1401 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23069»
حدیث نمبر: 2174
عَنْ نَافِعٍ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْوِتْرِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جنابِ نافع کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا کہ کیایہ نماز واجب ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور مسلمانوں نے نمازِ وتر پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2174
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 295، 14/ 236، ومالك في المؤطا : 1/ 124 بلاغا، وابن عدي في الكامل : 5/ 1680 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4834، 5216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5216»
حدیث نمبر: 2175
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عُمَرَ: أَرَأَيْتَ الْوِتْرَ أَسُنَّةٌ هُوَ؟ قَالَ: مَا سُنَّةٌ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ، قَالَ: لَا، أَسُنَّةٌ هِيَ؟ قَالَ: مَهْ، أَتَعْقِلُ؟ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَوْتَرَ الْمُسْلِمُونَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)ایک آدمی نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: وتر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ سنت ہے؟ انہوں نے کہا: سنت کیا ہوتی ہے؟ بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھی یہ نماز پڑھی ہے۔ اس نے کہا: نہیں، نہیں، میں یہ پوچھ رہا ہوں کہ کیاوہ سنت ہے؟ انہوں نے فرمایا: ٹھہر جا ذرا، کیا تیری عقل کام کرتی ہے؟ میں کہہ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ وتر پڑھی ہے اور مسلمانوں نے بھی ہے، (لہٰذا ہمیں پڑھنی چاہیے)۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2175
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4834»
حدیث نمبر: 2176
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَاضِي إِفْرِيقِيَّةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَدِمَ الشَّامَ وَأَهْلُ الشَّامِ لَا يُوْتِرُونَ، فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُوْتِرُونَ؟ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: وَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((زَادَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ، وَوَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قاضی افریقہ عبد الرحمن بن رافع تنوخی سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام میں آئے، جبکہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے تھے، انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے؟ انھوں نے کہا: کیایہ نماز ان پر ضروری ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے ایک اور نماز دی ہے اوروہ وتر ہے اور اس کا وقت عشاء سے لے کر فجر کے طلوع ہونے تک ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2176
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «المرفوع منه صحييح، وھذا اسناد ضعيف، عبيد الله بن زحر وعبد الرحمن بن رافع التنوخي ضيعفان، ثم انه منقطع، عبد الرحمن بن رافع لم يدرك معاذا ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22095 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22446»
حدیث نمبر: 2177
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وتر کی نماز فرض نمازوں کی طرح حتمی نہیں ہے، بلکہ یہ سنت ہے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسنون قرار دیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … نماز وتر کے واجب یا سنت ہونے کے بارے میں مذکورہ بالا اور دیگر کئی احادیث پائی جاتی ہیں، چونکہ بعض احادیث میں نماز وتر کا حکم بھی دیا گیا ہے، اسی قسم کی حدیث پر بحث کرتے شیخ البانی کہتے ہیں: اس حدیث میں نماز وتر پڑھنے کا حکم دیا گیا اور امر کا ظاہری معنی وجوب کا تقاضا کرتا ہے، احناف اسی کے قائل ہے، لیکن جمہور علما کے نزدیک نمازِ وتر واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے۔ اگر انتہائی قطعی دلائل کی روشنی میں ایک دن اور رات میں حصر کے ساتھ صرف پانچ فرض نمازوں کا تذکرہ نہ ہوتا تو احناف کا قول برحق ہوتا۔ لیکن ایک دن میں صرف پانچ نمازوں کی فرضیت پر دلالت کرنے والی احادیث کی روشنی مین یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں دیا گیا حکم وجوب کے لیے نہیں، بلکہ استحباب کی تاکید کے لیے ہے۔ اس تاویل پر حیرانگی کی ضرورت نہیں کیونکہ احادیث مبارکہ میں مذکورہ کئی اوامر کو قطعی دلائل سے کم اہمیت والے قرائن کی روشنی میں وجوب سے پھیر دیا گیا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس معاملے احناف نے خود امر کے حقیقی معانی سے انحراف کیا ہے اور نماز وتر کو پانچ نمازوں کی طرح واجب نہیں قرار دیا۔ ان کا خیال ہے کہ فرض نمازوں اور سنت نمازوں کے درمیان کا مرتبہ نماز وتر کا ہے، ثبوت کے لحاظ سے یہ نماز، فرض نمازوں سے کمزور اور تاکید کے اعتبار سے سنت نمازوں سے قوی ہے۔ واضح رہے کہ حنفیوں کے اس قول کی بنیاد ان کی مخصوص اور جدید اصطلاح پر ہے، صحابہ کرام اور سلف صالحین اس اصطلاح سے غیر متعارف تھے۔ اِن کا خیال ہے کہ ثبوت اور ثواب کے لحاظ سے واجب اور فرض میں فرق ہے، ان کی کتب میں مزید تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔ احناف کی اصطلاح کا مطلب یہ ہوا کہ وتر کی نماز ترک کرنے والے کو فرض نماز ترک کرنے والے کی بہ نسبت کم عذاب دیا جائے گا، یہی ان لوگوں کے تقلیدی مسلک کا تقاضا ہے۔ اِن سے پوچھا جائے گا کہ جب ایک بدو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے عزم کا یوں اظہار کیا تھا کہ وہ ان پانچ فرض نمازوں کی ادائیگی میں کوئی کمی نہیں کرے گا، لیکن ان سے زیادہ بھی نہیں پڑھے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ آدمی اپنے دعوے میں سچا ہے تو کامیاب ہو جائے گا۔ (بخاری، مسلم) سوال یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف پانچ نمازوں کی ادائیگی پر کامیابی کی جو بشارت سنائی ہے، کیا اس کے ساتھ وتر کی نماز ترک کرنے کی وجہ سے عذاب بھی ہوگا؟ کوئی شک نہیں کہ بدو کے عزم پر کامیابی وکا مرانی کی بشارت سنانا وتر کو غیر واجب ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، اسی لیے جمہور علما کا اِس نماز کے سنت ہونے اور واجب نہ ہونے پر اتفاق ہے اور یہی مسلک برحق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم خیر خواہی کرتے ہوئے اور وعظ و نصیحت کرتے ہوئے کہیں گے کہ نمازِ وتر کا اہتمام کیا جائے اور اس معاملے میں کاہلی و سستی برتنے سے گریز کیا جائے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۱۰۸)
مزید دو دلائل پر غور کریں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تھا، تو ان کو جو ہدایات دی تھیں، ان میں سے ایکیہ تھی: ((فَاَعْلِمْھُمْ اَنَّ اللّٰہَ افْتَرَضَ عَلَیْھِمْ خَمْسَ صَلَوٰاتٍ فِیْ الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ۔)) یعنی: ان کو بتلانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)) ہمارے نزدیک وتر کے واجب نہ ہونے کی سب سے واضح دلیلیہی حدیث ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی وفات سے تھوڑا عرصہ پہلے سیدنا معاذ کو یمن کی طرف بھیجا تھا، لیکن صرف پانچ نمازوں کی تعلیم دینے کی ہدایت کی تھی۔ قارئین کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ وتر نمازِ عشاء کا حصہ نہیں ہے، بلکہ یہ رات کی علیحدہ نماز ہے، اگر اس کو فرض سمجھا جائے تو ایک دن رات میں چھ نمازیں بنتی ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زندگی کے آخری ایام میں پانچ نمازوں کی تلقین کر رہے ہیں۔
سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یُسَبِّحُ عَلَی الرَّاحِلَۃِ قِبَلَ اَیِّ وَجْہٍ تُوَجِّہُ وَیُوْتِرُ عَلَیْھَا غَیْرَ اَنَّہٗلَایُصَلِّیْ عَلَیْھَا الْمَکْتُوْبَۃَ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر نفلی نماز پڑھتے تھے، جس جہت کی طرف وہ متوجہ ہوتی (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس چیز کی کوئی پروا نہ کرتے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ وتر بھی سواری پر ادا کر لیتے تھے، لیکن فرضی نماز نہیں پڑھتے تھے۔ (مسلم: ۷۰۰) اس حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ وتر نفل ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر اس کی ادائیگی کر لیتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف نفلی نماز سواری پر پڑھا کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ مجبوری میں فرض نماز بھی سواری پر ادا کی جا سکتی ہے۔
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اہل نجد میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، …، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِیْ الْیَوْمِ وَاللَّیْلَۃِ۔)) قَالَ: ھَلَ عَلَیَّ غَیْرُھَا؟ قَالَ: ((لَا، اِلَّا اَنْ تَطَوَّعَ۔)) … ایک دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ اس نے کہا: کیا مجھ پر کوئی اور نماز فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، الا یہ کہ تم نفل پڑھو۔ یہ ساری باتیں سن کر اس آدمی نے کہا تھا کہ میں نہ ان (فرائض) میں کمی کروں گا اور نہ ان سے زیادہ کچھ کروں گا۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اگر یہ آدمی اپنے دعوے میں سچا ہے تو کامیاب ہو جائے گا۔ (بخاری، مسلم) شیخ البانی نے اسی حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے۔ امام احمد، امام شافعی، امام مالک اور جمہور علما کا بھییہی مسلک ہے کہ وتر کا حکم سنت مؤکدہ کا ہے۔ مذکورہ بالا دلائل کی روشنی مین یہ کہنا درست ہے کہ وتر نفلی نماز ہے، چونکہ یہ دلائل قوی ہیں، اس لیے جن احادیث ِ مبارکہ میں نمازِ وتر کا حکم دیا گیا ہے، اس حکم سے مراد استحباب لیں گے، نہ کہ وجوب، مذکورہ بالا احادیث اس حکم کو وجوب سے استحباب کی طرف پھیرنے کے لیے قرینہ صارفہ ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2177
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه الترمذي: 453، 454، وابن ماجه: 1169، والنسائي: 3/ 228 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 761، 1262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 761»