کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
حدیث نمبر: 2155
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا رَوْحٌ ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ الْعَمْيَاءِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى تَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ وَتَبَئَّسُ وَتَمَسْكَنُ وَتُقْنِعُ يَدَيْكَ وَتَقُولُ اللَّهُمَّ اللَّهُمَّ، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهِيَ خِدَاجٌ))، قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ صَلَاتُهُ خِدَاجٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا الْإِقْنَاعُ؟ فَبَسَطَ يَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَدْعُو
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مطلب سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعتیں ہے، ہر دو رکعتوں میں توتشہد پڑھے، تنگی اور مسکینی کا اظہار کرے اور تو اپنے ہاتھ اٹھائے اور کہے:اے اللہ! اے اللہ! (پھر اپنی دعا کرے) اور جو اس طرح نہیں کرے گا اس کی نماز ناقص ہو گی۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے کہا: یعنی اس کی نماز ناقص ہو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پھر میں نے ان سے کہا: اِقْنَاع سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے اس طرح اپنے ہاتھ پھیلائے کہ گویا وہ دعا کر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 2156
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَتَشَهَّدْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لْيُلْحِفْ فِي الْمَسْأَلَةِ، ثُمَّ إِذَا دَعَا فَلْيَتَسَاكَنْ وَلْيَتَبَئَّسْ وَلْيَتَضَعَّفْ فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَذَاكَ الْخِدَاجُ أَوْ كَالْخِدَاجِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا مطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعتیں ہے اور جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد کے لیے بیٹھے، پھر وہ اصرار کے ساتھ مانگنے، پھر جب دعا کرے تو مسکینی ظاہر کرے، تنگی کی حالت بنا لے اور کمزوری کا اظہار کرے، جو اس طرح نہیں کرے گا، تو وہ ناقص ہے یا ناقص کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 2157
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الصَّلَاةُ مَثْنَى مَثْنَى وَتَشَهَّدُ وَتُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، … )) الحديث بنحو ما تقدم
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز دو دو رکعتیں ہے اور تو ہر دو رکعتوں کے تشہد کے لیے بیٹھے اور سلام پھیرے، … ۔) پھر پہلے کی طرح کی حدیث بیان کی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، البتہ دو رکعتوں کے بعد تشہد اور دوسرے اذکار کے احکام واضح ہیں۔
حدیث نمبر: 2158
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَلْيَبْدَأْ (وَفِي رِوَايَةٍ فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ) بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز پڑھنے لگے تو وہ ہلکی پھلکی دو رکعتوں کے ساتھ اپنے قیام کی ابتدا کرے۔
حدیث نمبر: 2159
عَنْ شُرَحْبِيلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ رُجُوعِهِمْ مِنْ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ: ثُمَّ أَخَدْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْخْتُهَا، فَقَامَ فَصَلَّى الْعَتَمَةَ وَجَابِرٌ فِيمَا ذَكَرَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ غزوہ حدیبیہ سے واپسی کا واقعہ بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں؛ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑ لی اور اسے بٹھا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور نمازِ عشاء ادا کی۔ اس وقت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 2160
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَمَقْتُ صَلَاتَهُ لَيْلَةً، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ نَامَ، فَلَمَّا كَانَ نِصْفُ اللَّيْلِ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ الْعَشْرَ، آخِرَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ تَسَوَّكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَلَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ كَمَا يَفْعَلُ أَوَّلَ مَرَّةٍ حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، میں نے رات کے وقت آپ کی نماز پر نگاہ رکھی، آپ نے نمازِ عشاء پڑھی اور سوگئے، جب نصف رات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت کیں، پھر مسواک کر کے وضو کیا اور دو رکعتیں پڑھیں، میں نہیں جانتا کہ ان میں آپ کا قیام زیادہ طویل تھا یا رکوع یا سجدہ، پھر آپ نماز سے فارغ ہو کر سوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بار بار بیدار ہوتے رہے اور پہلی مرتبہ کی طرح عمل کرتے رہے، یہاں تک کہ کل گیارہ رکعتیں ہو گئیں۔
وضاحت:
فوائد: … آج کل کے نمازیوں اور تہجد گزاروں مین یہ سنت مفقود ہے کہ ان کے رکوع و سجود تین تسبیحات سے زیادہ نہیں ہوتے اور وہ بھی روایتی سی معلوم ہوتی ہیں، در حقیقت رکوع وسجود اللہ تعالیٰ کے سامنے بڑی عاجزی کا مقام ہیں، اس لیے ان کو لمبا کرنا چاہیے۔ اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ رات کی ہر بیداری کے بعد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کرنی چاہیے۔
حدیث نمبر: 2161
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَاكُ مِنَ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَإِذَا قَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَتَكَلَّمُ وَلَا يَأْمُرُ بِشَيْءٍ، وَيُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو دو یا تین مرتبہ مسواک کرتے اورجب رات کو اٹھ کر نماز پڑھتے توچار رکعت ادا کرتے، ان میں نہ کلام کرتے اورنہ کسی چیز کا حکم دیتے اور ہر دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ بات تو ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وقفے وقفے سے دو دو کر کے چار چار رکعتیں ادا کرتے تھے، لیکن پہلی دو رکعتوں سے سلام پھیرنے کے بعد کلام کرنے یا نہ کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے، اتفاقاً ایسی بات ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی۔
حدیث نمبر: 2162
عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ قَالَ: سَأَلْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ وَقِرَاءَتِهِ، فَقَالَتْ: مَا لَكُمْ وَلِصَلَاتِهِ وَلِقِرَاءَتِهِ، كَانَ يُصَلِّي قَدْرَ مَا يَنَامُ، وَيَنَامُ قَدْرَ مَا يُصَلِّي، وَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یعلی بن مملک کہتے ہیں: میں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز اور قراءت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تمہارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور قراءت سے کیا تعلق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جتنا سوتے تھے، اتنی نماز پڑھتے اور جتنی نماز پڑھتے تھے، اتنا سوتے تھے، پھر وہ آپ کی قراءت کی کیفیت بیان کر رہی تھیں کہ وہ ایک ایک حرف کے لحاظ سے بالکل واضح ہوتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … تمہارا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور قراء ت سے کیا تعلق ہے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز اور قراء ت تمہارے بس سے بڑھ کر ہے، تم اس کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ ان ابواب کی اور دیگر کئی احادیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل کی کیفیت و کمیت اور معیار و مقدار کا اندازہ ہو جاتا ہے اور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرنے کا مسئلہ واضح ہے۔
حدیث نمبر: 2163
عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: سُئِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیاگیا تو انہوں نے کہا: آپ رات کو سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2164
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو فرض نماز کے علاوہ سولہ رکعتیں پڑھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں رات کا ذکر کرنا کسی راوی کی غلطی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دن کو جو نفلی نماز پڑھتے تھے، ان کی رکعات کی تعداد سولہ تھی، اس کی تفصیل کا ذکر اس عنوان کے تحت دوسری حدیث میں گزر چکا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
حدیث نمبر: 2165
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَبِالنَّهَارِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رات) کو آٹھ رکعت نفل نماز اور دن کو بارہ رکعت ادا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو اسحاق سے صحیح اسانید سے مروی روایات میں دن میں سولہ رکعت نفلی نماز کا ذکر ہے، جیسا کہ پچھلی حدیث کی شرح میں حوالہ دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 2166
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: مَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ قَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَكَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حمید کہتے ہیں: سیدناانس رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا، انہوں نے کہا: ہم نہیں چاہتے تھے کہ رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں، مگر ہم آپ کو ایسے ہی دیکھ لیتے اور ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہم آپ کو سویا ہوا دیکھیں مگر ہم آپ کو ایسےبھی دیکھ لیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مہینہ میں اتنے روزے رکھنا شروع کر دیتے کہ ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ماہ کا کوئی روزہ ترک نہیں کریں گے، لیکن پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے ترک کرنا شروع کرتے تو ہم کہتے کہ اب اس ماہ کا کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مطلب یہ ہے کہ نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ساری رات سوئے رہتے اور نہ ساری رات قیام کرتے، بلکہ وقفے وقفے سے دونوں کام کرتے رہتے، اس طرح کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیام کرتے دیکھ لیتا اور کوئی سوتے ہوئے دیکھ لیتا۔
مطلبیہ ہے کہ آپ ایک عادت پر استمرار نہیں کرتے تھے۔ کبھی رات کے ایک حصہ میں قیام کر رہے ہیں، تو اس حصہ میں قیام کرنے کی عادت بدل دیتے۔ دیکھنے والا سمجھتا کہ اس وقت میں آپ کی عادت قیام کرنے کی ہے تو قیام کر رہے ہوں گے لیکن آپ نے اس وقت قیام کی بجائے آرام کرنا شروع کر دیا ہوتا۔ اسی طرح آرام کے حوالے سے ایک
وقت کی عادت بدل دیتے۔ گویا کبھی پہلی رات آرام کرنے کی عادت بدل کر قیام کرنا شروع کر دیا کبھی درمیانی رات قیام کرنے کی عادت بدل کر آرام کرنا شروع کر دیا۔ وَ عَلٰی ہٰذَا الْقِیَاسِ۔ (عبداللہ رفیق)
مطلبیہ ہے کہ آپ ایک عادت پر استمرار نہیں کرتے تھے۔ کبھی رات کے ایک حصہ میں قیام کر رہے ہیں، تو اس حصہ میں قیام کرنے کی عادت بدل دیتے۔ دیکھنے والا سمجھتا کہ اس وقت میں آپ کی عادت قیام کرنے کی ہے تو قیام کر رہے ہوں گے لیکن آپ نے اس وقت قیام کی بجائے آرام کرنا شروع کر دیا ہوتا۔ اسی طرح آرام کے حوالے سے ایک
وقت کی عادت بدل دیتے۔ گویا کبھی پہلی رات آرام کرنے کی عادت بدل کر قیام کرنا شروع کر دیا کبھی درمیانی رات قیام کرنے کی عادت بدل کر آرام کرنا شروع کر دیا۔ وَ عَلٰی ہٰذَا الْقِیَاسِ۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 2167
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: كُنْتُ أَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُعْطِيهِ وَضُوءَهُ (وَفِي رِوَايَةٍ كُنْتُ أَنَامُ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْمَعُهُ بَعْدَ هَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَأَسْمَعُهُ بَعْدَ هَوِيٍّ مِنَ اللَّيْلِ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (وَفِي رِوَايَةٍ:) ثُمَّ يَقُولُ: ((سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ)) الْهَوِيَّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وضو کا پانی دے سکوں، ایک روایت میں ہے: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجرے میں سویا کرتا تھا، میں آپ کو رات کا ایک حصہ گزرنے کے بعد سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے ہوئے سنتا اور پھر رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہتے ہوئے سنتا اور ایک روایت میں ہے: میں آپ کو رات کا کچھ حصہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہِ کہتے ہوئے سنتا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت یہ ہوا کہ نمازِ تہجد کی ساری کیفیات اور اذکار میں طوالت ہوتی تھی۔