کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی وہ حدیث، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کی کیفیت بیان کی گئی
حدیث نمبر: 2138
عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ خَالَتُهُ قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ خَوَاتِيمَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وَضُوءَهُ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي وَأَخَذَ أُذُنِي الْيُمْنَى فَفَتَلَهَا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ کے پاس رات گزاری،یہ ان کی خالہ تھیں، وہ کہتے ہیں: میں تکیے کی چوڑائی والی طرف میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی اہلیہ اس کی لمبائی والی طرف میں لیٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوگئے، جب نصف رات یا اس سے تھوڑا پہلے یا تھوڑا بعد کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ گئے اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کرنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی، بعد ازاں لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف گئے اور اس سے بڑے اچھے انداز میں وضو کیا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں بھی اٹھ کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا وضو کر کے آپ کی ایک جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان پکڑکر اسے بل دیا، پھر آپ نے دو رکعتیں پڑیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں، پھر دو رکعتیں ادا کیں، اور پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے، حتیٰ کہ آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مؤذن آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اورہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں اور پھر چلے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے کانوں کو مروڑنا، اس کی وجہ یہ تھی ان پر نیند غالب آ رہی تھی، اس سے بچوں کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
روایات میں صراحت آ رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا کان پکڑ کر اسے اپنی دائیں جانب کھڑا کیا تھا۔ وہ پہلے آپ کی بائیں جانب آ کر کھڑے ہو گئے تھے۔ کان مروڑنے کی ظاہری وجہ تو یہ محسوس ہوتی ہے۔ و اللہ اعلم بالصواب۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2138
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 183، 992، 1198، ومسلم: 763 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2164»
حدیث نمبر: 2139
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى أَرْبَعًا ثُمَّ نَامَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: ((نَامَ الْغُلَامُ؟)) أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى خَمْسَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَامَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ أَوْ خَطِيطَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ ، جو کہ میری خالہ ہیں، کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر گھر آکر چار رکعتیں ادا کیں اور پھر سوگئے، پھر اٹھے اور چار رکعت نماز پڑھی اور پوچھا: کیا چھوٹا بچو سویا ہوا ہے؟ یا اس قسم کی بات کی،پس میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانچ رکعتیں ادا کیں، اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کی اور پھر سوگئے اور اس قدر سوئے کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ نمازِ فجر کے لیے تشریف لے گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2139
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 117، 1342 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3170»
حدیث نمبر: 2140
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ قَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثُمَّ قَامَ فَأَتَى الْقِرْبَةَ فَأَطْلَقَ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءً بَيْنَ الْوُضُوءَيْنِ لَمْ يُكْثِرْ وَقَدْ أَبْلَغَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى فَقُمْتُ فَتَمَطَّأْتُ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَرَى أَنِّي كُنْتُ أَرْتَقِبُهُ، فَتَوَضَّأْتُ فَقَامَ يُصَلِّي فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَتَتَمَّمَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّى نَفَخَ، وَكَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ، فَأَتَاهُ بِلَالٌ فَأَذَّنَهُ بِالصَّلَاةِ فَقَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ: ((اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ يَسَارِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَمِنْ أَمَامِي نُورًا، وَمِنْ خَلْفِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا))، قَالَ كُرَيْبٌ وَسَبْعٌ فِي التَّابُوتِ، قَالَ فَلَقِيْتُ بَعْضَ وَلَدِ الْعَبَّاسِ فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ فَذَكَرَ عَصَبِي وَلَحْمِي وَدَمِي وَشَعْرِي وَبَشَرِي قَالَ وَذَكَرَ خَصْلَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے، قضائے حاجت کی، پھر (صفائی اور نشاط کے لیے) چہرہ اور ہاتھ دھوئے، پھر اٹھ کر مشکیزے کے پاس آئے، اس کا تسمہ کھولا اور درمیانہ سا وضو کیا، بہرحال وضو مکمل ضرور تھا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز شروع کر دی، میں بھی اٹھا اور میں نے انگڑائی لی (اور ظاہر کرایا کہ میں سو رہا تھا)، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس چیز کا پتا نہ چلے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی حرکات و سکنات کو نوٹ کرنے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ رکھی ہوئی ہے، بہرحال میں نے وضوء کیا، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، میں بھی آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا کان پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف گھمادیا، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز تیرہ رکعت رہی، پھر آپ لیٹ کر سوگئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خراٹے سنائی دینے لگے،عام طور پر آپ جب بھی سوتے تو خراٹوں کی آواز آتی تھی، اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے پاس آکر آپ کو نماز کی اطلاع دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر نماز پڑھی اور وضوء نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعا میں یہ کہہ رہے تھے: اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا، وَفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا، وَعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا، وَمِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا، وَمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا، وَمِنْ أَمَامِیْ نُوْرًا، وَمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا، وَأَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا۔ (اے اللہ! میرے دل میں، میری آنکھ میں، میرے کان میں، میری دائیں جانب، میری بائیں جانب، میرے اوپر، میرے نیچے، میرے سامنے اور میرے پیچھے نور بنادے اور میرے لیے نور بڑا کر دے) کریب کہتے ہیں: سات چیزیں تابوت میں تھیں، (لیکن اب مجھے بھول گئی ہیں)، میں سیدنا عباس کے کسی بچے کو ملا، اس نے مجھے وہ چیزیں بیان کرتے ہوئے اس طرح ذکر کیں: عَصَبِیْ وَلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَشَعْرِیْ وَبَشَرِیْ (میرے پٹھے، میرے گوشت، میرے خون، میرے بال اور میرے چمڑے میں نور بنا دے) اور انھوں نے دو اور خصلتوں کا ذکر بھی کیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … کریب کہتے ہیں: وَسَبْعٌ فِی التَّابُوتِ (سات چیزیں تابوت میں ہیں) کا معنی و مفہوم مختلف فیہ ہے، حافظ ابن حجر نے کہا: ابن بطال اور داودی نے کہا: اس سے مراد سینہ ہے، ابن بطال نے یہ مثال بھی بیان کی کہ جیسے علم یاد کرنے والے شخص کو کہا جاتا ہے کہ اس کا علم تابوت میں رکھا ہوا ہے۔ امام نووی وغیرہ نے کہا: تابوت سے مراد دل کا احاطہ کرنے والی پسلیاں اور دوسری اشیا ہیں، ان کو اس تابوت سے تشبیہ دی گئی ہے، جس میں حفاظت سے سامان رکھا جاتا ہے، مرادی معنییہ ہے کہ راوییہ کہنا چاہتا ہے کہ سات کلمات اس کے دل میں تھے، لیکن وہ بھول گیا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد سات انوار ہیں، جو اس تابوت میں لکھے ہوئے تھے، جس میں بنی اسرائیل کے لیے سکینت تھی۔ ابن جوزی نے کہا: تابوت سے راوی کی مراد صندوق ہے، یعنی سات چیزیں اس کے پاس صندوق میں لکھی ہوئی، جو اسے اس وقت یاد نہیں ہیں۔ میں (ابن حجر) کہتا ہوں: آخری معنی کی تائید ابو عوانہ (۲/ ۳۱۲) کی اس روایت سے ہوتی ہے، جس کے مطابق کریب کہتے ہیں: اور چھ میرے پاس تابوت میں لکھے ہوئے ہیں۔ جبکہ قرطبی نے المفھم میں اور کوئی ایک نے بالیقین کہا ہے کہ تابوت سے مراد جسم ہے، یعنیسات مذکورہ چیزیں انسان کے جسم سے متعلقہ ہیں، بخلاف ان کے جو گزر گئی ہیں، کیونکہ ان کا تعلق معانی اور اعراض سے ہے، جیسے جہاتِ ستّہ ہیں۔ داودی نے کہا: تابوت سے مراد صحیفہ ہے جو عباس کی اولاد کے پاس تھا۔ حدیث کے آخر میں دو خصلتوں سے مراد زبان اور نفس ہیں، جیسا کہ مسلم (۷۶۳) کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۱۱۷) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف جہات اور اعضاء میں جس نور کا سوال کیا ہے، اس سے مراد حق کی وضاحت، اس کی روشنی اور اس کی طرف ہدایت ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جہاتِ ستّہ اور بیشتر اعضاء کا تذکرہ کر کے نور کا سوال کیا ہے، تاکہ کہیں سے بھی ہدایت سے دور ہونے کی گنجائش نہ رہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2140
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6316، ومسلم: 763 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3194»
حدیث نمبر: 2141
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَبِتُّ عِنْدَهَا فَوَجَدْتُ لَيْلَتَهَا تِلْكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتَهُ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى وَسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى نَاحِيَةٍ مِنْهَا، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ فَإِذَا عَلَيْهِ لَيْلٌ فَسَبَّحَ وَكَبَّرَ حَتَّى نَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ ثُلُثَاهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى قِرْبَةٍ عَلَى شَجَبٍ، فِيهَا مَاءٌ فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ قَدَمَيْهِ، قَالَ يَزِيدُ حَسِبْتُهُ قَالَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، ثُمَّ أَتَى مُصَلَّاهُ فَقُمْتُ وَصَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ، فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا عَرَفَ أَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُصَلِّيَ بِصَلَاتِهِ لَفَتَ يَمِينَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى أَنَّ عَلَيْهِ لَيْلًا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّ الْفَجْرَ قَدْ دَنَا قَامَ فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ أَوْتَرَ بِالسَّابِعَةِ، حَتَّى إِذَا ضَاءَ الْفَجْرُ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ وَضَعَ جَنْبَهُ فَنَامَ حَتَّى سَمِعْتُ فَخِيخَتَهُ ثُمَّ جَاءَ بِلَالٌ فَأَذَّنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً، فَقُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: مَا أَحْسَنَ هَٰذَا، فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: أَمَا وَاللَّهِ! لَقَدْ قُلْتُ ذَاكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَهْ، إِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ، إِنَّهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ يُحْفَظُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنی خالہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان کے پاس رات گزاری،اس رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باری انہی کے گھر تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھی، پھر اپنے گھر میں داخل ہوئے اورچمڑے کے ایک تکیے پر سر رکھا اور سو گئے، اس تکیے میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے، میں آیا اور اس کے کنارے پر سر رکھ کر سو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو دیکھا کہ ابھی تک تو رات کا بڑا حصہ باقی ہے، اس لیے آپ سُبْحَانَ اللّٰہِ اور اَللّٰہُ اَکْبَرُ کا ذکر کرتے کرتے سو گئے، پھر آپ بیدار ہوئے، یہ نصف یا دو تہائی رات گزر جانے کا وقت تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے، قضائے حاجت کی،پھر لکڑیوں پر لٹکے ہوئے ایک مشکیزے کی طرف آئے، اس میں پانی تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک میں پانی چڑھایا، تین مرتبہ چہرہ دھویا اور تین تین مرتبہ بازو دھوئے اور اپنے سر اور کانوں کا مسح کیا، پھر پاؤں بھی تین تین بار دھوئے، پھر اپنی جائے نماز کی طرف آگئے،میں بھی اٹھا اور ایسے ہی کیا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں آکر آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا، میں چاہتا تھا کہ آپ کے ساتھ نماز پڑھوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر تو ٹھہرے رہے،لیکن جب آپ نے جان لیا کہ میں بھی آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتا ہوں تو آپ نے اپنا دایاں ہاتھ موڑ کر میرا کان پکڑا اور مجھے گھماکر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب تک سمجھا کہ ابھی تک رات باقی ہے، دو رکعتیں پڑھتے رہے، پھر جب سمجھا کہ فجر قریب آ چکی ہے، تو اٹھ کر چھ رکعتیں ادا کیں اور ساتواں وتر پڑھا، پھر جب فجر روشن ہوئی تو اٹھ کر دو رکعتیں پڑھیں، پھر اپنے پہلو پر سوگئے، حتیٰ کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خراٹوں کی آواز آنے لگی، اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر آپ کو نمازِ فجر کی اطلاع دی،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نماز ادا کی، لیکن پانی کو تو چھوا تک نہیں۔ یہ سن کر عکرمہ نے سعید بن جبیرسے کہا: یہ تو بڑی اچھی بات ہے (کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سونے کے بعد وضو نہیں کیا)۔ لیکن سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: خبردار! اللہ کی قسم! میں نے یہی بات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کی تھی، لیکن انھوں نے کہا تھا: رہنے دو اس بات کو، یہ رخصت نہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے،یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی جاتی تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک نئی چیز کا ذکر موجود ہے، اور وہ یہ کہ اگر بندے کو رات کو جاگ آ جائے اور وہ دوبارہ سونا چاہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر کرتے ہوئے دوبارہ سو جانا چاہیے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کاخاصہ تھا کہ نیند آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ناقضِ وضو نہیں تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دل بیدار رہتا تھا۔رہا مسئلہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کا تو ان کے لیے نیند ناقضِ وضو ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2141
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وھذا اسناد ضعيف، عباد بن منصور ضعيف لسوء حفظه وتغيره و تدليسه۔ أخرجه ابن خزيمة: 1094، وأخرج ابوداود قصة الوضوء فقط: 133 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3490»
حدیث نمبر: 2142
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَخَرَجَ فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَٰذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي آلِ عِمْرَانَ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ … حَتَّى بَلَغَ … سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ رَجَعَ أَيْضًا فَنَظَرَ فِي السَّمَاءِ ثُمَّ تَلَا هَٰذِهِ الْآيَةَ، ثُمَّ رَجَعَ فَتَسَوَّكَ وَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں ایک رات گزاری، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو بیدار ہوئے اور باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھا اورسورۂ آل عمران کی یہ آیات تلاوت کیں: {إِنَّ فِیْ خَلَقِ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ … … … سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّاِر} پھر گھر کی طرف واپس آئے، مسواک کیا، وضوء کیا اور پھر قیام شروع کر دیا، پھر لیٹ گئے، پھر جب دوبارہ جاگے تو باہر گئے، آسمان کی طرف دیکھ کر یہی آیات تلاوت کیں، پھر واپس آئے، وضو کیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔
وضاحت:
فوائد: … رات کو بیدار ہونے کے بعد سورۂ آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت کرنا، اذکار کی بحثوں میں اس کا تذکرہ آئے گا، اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب یہ آیات تلاوت کی جائیں تو ایک دفعہ آسمان کی طرف دیکھا جائے تاکہ ان آیات میں جن مخلوقات کا ذکر ہے، حسب ِ امکان وہ بھی سامنے ہوں اور مخلوقات کے الق کی طرف توجہ کرنے کا بھی ایک انداز آسمان کی طرف نظر اٹھانا ہے کیونکہ وہ آسمانوں کے اوپر ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2142
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 256 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2488، 3276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3276»
حدیث نمبر: 2143
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ فَقُمْتُ مَعَهُ عَلَى يَسَارِهِ فَأَخَذَ بِيَدِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ صَلَّى ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً حَزَرْتُ قَدْرَ قِيَامِهِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ قَدْرَ {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر رات کو نماز پڑھنے لگے، میں بھی آپ کے ساتھ آپ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیرہ رکعت نماز پڑھی، میرے اندازے کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر رکعت سورۂ مزمل کے برابر تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب صلاة الليل والوتر / حدیث: 2143
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 1365 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3459»