کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: رات کی نماز کی فضیلت، اس کی ترغیب اور اس کے افضل وقت کا بیان
حدیث نمبر: 2112
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ قَالَ: ((الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ))، قِيلَ: أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ؟ قَالَ: ((شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ فضیلت والی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے میں نماز پڑھنا۔ پھر کہا گیا: رمضان کے بعد کون سا روزہ سب سے فضیلت والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا وہ مہینہ، جسے تم محرم کہتے ہو۔
حدیث نمبر: 2113
عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَهْبِطُ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَيُغْفَرُ لَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تاخیر کرتا ہے، حتی کہ رات کا تہائی حصہ ختم ہوجاتا ہے، پھر وہ اترکر کہتا ہے کہ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعاقبول کی جائے، کیا کوئی بخشش مانگنے والا ہے کہ اسے بخش دیا جائے۔
وضاحت:
فوائد: … جیسے اللہ تعالیٰ کی شان کو لائق ہے، وہ اس کے مطابق آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے، ہم اُس کے اِس نزول کو بلا تاویل تسلیم کرتے ہیں، لیکن اس کی کیفیت بیان نہیں کرتے کہ وہ کیسے اترتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اِس نزول کا وقت کیاہے؟ اس کے بارے میں مختلف روایات منقول ہیں: صحیح مسلم کی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایات کا خلاصہ یہ ہے: (۱) رات کے پہلے ایک تہائی کے بعد، (۲) نصف رات کے بعد یا (۳)رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔ قاضی عیاض نے کہا: مشائخ الحدیث کا خیال ہے کہ رات کے آخری ایک تہائی حصے والی بات زیادہ راجح ہے، زیادہ تر روایات کا یہی مفہوم بنتا ہے۔ لیکن اگر تمام صحیح روایات کو مختلف حالات پر محمول کر لیا جائے تو بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ کے اِس نزول کا وقت کیاہے؟ اس کے بارے میں مختلف روایات منقول ہیں: صحیح مسلم کی سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایات کا خلاصہ یہ ہے: (۱) رات کے پہلے ایک تہائی کے بعد، (۲) نصف رات کے بعد یا (۳)رات کے آخری ایک تہائی حصے میں۔ قاضی عیاض نے کہا: مشائخ الحدیث کا خیال ہے کہ رات کے آخری ایک تہائی حصے والی بات زیادہ راجح ہے، زیادہ تر روایات کا یہی مفہوم بنتا ہے۔ لیکن اگر تمام صحیح روایات کو مختلف حالات پر محمول کر لیا جائے تو بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 2114
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ، فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ بِالْمَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنی بیوی کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اور اگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑکا، اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے، جس نے رات کو اٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا اور اس نے بھی نماز پڑھی اوراگر اس نے انکار کیا تو اس کے چہرے پر پانی چھڑک کر اسے جگایا۔
حدیث نمبر: 2115
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنْبِئْنِي عَنْ أَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: ((أَفْشِ السَّلَامَ وَأَطْعِمِ الطَّعَامَ وَصِلِ الْأَرْحَامَ وَصَلِّ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، ثُمَّ ادْخُلِ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیں کہ اگر میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام عام کر، کھانا کھلا، صلہ رحمی کر اور رات کو جب لوگ سوئے ہوئے ہوں تو تو اٹھ کر نماز پڑھ، پھر سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجا۔
حدیث نمبر: 2116
عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَيُّ قِيَامِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ أَبُو ذَرٍّ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، يَشُكُّ عَوْفٌ فَقَالَ: ((جَوْفُ اللَّيْلِ الْغَابِرُ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ، وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو مسلم کہتے ہیں: میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا: رات کا کون سا قیام افضل ہے؟ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جیسے تو نے مجھ سے سوال کیا ہے، ایسے ہی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کے آخری ایک تہائی حصے کو یا نصف رات کو قیام کر، بہرحال ایسا عمل کرنے والے لوگ کم ہیں۔
حدیث نمبر: 2117
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَجْوَبُهُ دَعْوَةً))، قُلْتُ: أَوْجَبُهُ؟ قَالَ: ((لَا، بَلْ أَجْوَبُهُ)) يَعْنِي بِذَلِكَ الإِجَابَةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کے آخری (ایک تہائی) حصے میں دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ میں نے کہا: کیا اس حصے میں دعا کرنا واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، (میں کہہ رہا ہوں کہ) دعا سب سے زیادہ قبول ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قبولیت تھی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن پہلے دو جملے رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور رات کا آخری حصہ دعا کی زیادہ قبولیت والا ہے دوسرے طرق اور شواہد کی بنا پر صحیح ہیں۔
حدیث نمبر: 2118
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((ثَلَاثَةٌ يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ، الرَّجُلُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلصَّلَاةِ، وَالْقَوْمُ إِذَا صَفُّوا لِلْقِتَالِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین آدمیوں کی طرف دیکھ کر ہنستا ہے: (۱) جو آدمی رات کو اٹھ کر نماز پڑھتا ہے، (۲) جب لوگ نماز کے لیے صفیں بنا تے ہیں اور (۳)جب لوگ لڑائی کے لئے صفیں بناتے ہیں۔
حدیث نمبر: 2119
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، وَكَانَ يَصُومُ نِصْفَ الدَّهْرِ وَأَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ كَانَ يَرْقُدُ شَطْرَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْقُدُ آخِرَهُ)) ثُمَّ يَقُومُ ثُلُثَ اللَّيْلِ بَعْدَ شَطْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے اور وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے،اور اللہ کے ہاں سب سے پسندیدہ قیام بھی داؤد علیہ السلام کا تھا، وہ رات کا پہلا نصف سوتے، پھر قیام کرتے، پھر اس کے آخری حصے میں سو جاتے، پھر نصف کے بعد ایک تہائی رات کا قیام کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کے الفاظ ثُمَّ یَقُوْمُ ثُلُثَ اللَّیْلِ بَعْدَ شَطْرِہِ۔ راویٔ حدیث عمرو بن اوس کے کلام سے مدرج ہیں، صحیح مسلم کی روایت سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ وہ آدھا زمانہ روزہ رکھتے تھے اس سے مراد ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطارکرنا ہے۔ دوسری روایت کی روشنی میں حضرت داود علیہ السلام کے قیام کییہ روٹین بنتی ہے: نصف رات سونا، پھر ایک تہائی رات قیام کرنا، پھر رات کا چھٹا حصہ سو جانا۔ مثال کے طور پر اگر رات کی مقدار چھ گھنٹے ہو تو تین گھنٹے سونے کے بعد دو گھنٹے قیام کرنا اور پھر ایک گھنٹہ سو جانا۔
حدیث نمبر: 2120
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا قَالَتْ: عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ، فَإِنْ مَرِضَ قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٍ، وَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَقُولُ بِحَسْبِي أَنْ أُقِيمَ مَا كُتِبَ لِي، وَأَنَّى لَهُ ذَلِكَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رات کے قیام کا اہتمام کرو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے ترک نہیں کرتے تھے، اگر آپ بیمار ہوتے تو بیٹھ کر یہ نماز پڑھ لیتے۔ میں جانتی ہوں کہ تم تو یہ کہہ دیتے ہو کہ ہم اتنی نماز پڑھیں گے، جو ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے، تو پھر اسے مقام کیسے ملے گا۔
وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کہنا چاہتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے قیام کا اس قدر اہتمام کرتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے گئے تھے، تو ہم جیسے گنہگاروں کو تو بالاولییہ اہتمام کرنا چاہیے، اگرچہ ہم عبادت کے سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔
حدیث نمبر: 2121
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ رِجْلَاهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَصْنَعُ هَٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ: ((يَا عَائِشَةُ! أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو اتنا قیام کرتے حتیٰ کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے، اس لیے انھوں نے ایک دن کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اتنا لمبا قیام کیوں کرتے ہیں، جبکہ آپ کے اگلے اور پچھلے تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا میں بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
حدیث نمبر: 2122
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ (وَفِي رِوَايَةٍ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ)، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو (اس قدر لمبی) نماز پڑھتے حتیٰ کہ آپ کے قدم سوج جاتے تھے، کسی نے آپ سے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے پہلے اور پچھلے تمام گناہ بخش نہیں دیے ہیں؟ (تو پھر آپ یہ طویل قیام کیوں کرتے ہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ شکر گزار بندہ نہ بنوں۔
حدیث نمبر: 2123
عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ وَلَمْ يُصَلِّ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذْنِهِ))، قَالَ يُونُسُ: وَقَالَ الْحَسَنُ: إِنَّ بَوْلَهُ وَاللَّهِ ثَقِيلٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: فلاں شخص گزشتہ رات سویا رہا ہے اور اس نے صبح تک کوئی نماز نہیں پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا تھا۔ حسن نے کہا: اللہ کی قسم! اس کا پیشاب تو بڑا بھاری ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … اصحاب السنن کا میلان اس طرف ہے کہ اس سے مراد تہجد کی نماز ہے، یہی معنی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔ ذہن نشین کر لینا چاہیے تہجد کا اہتمام کرنے والا اللہ کا بندہ ہی محسوس کر سکتا ہے کہ رات کا قیام نہ کرنے کی صورت میں انسان کس قسم کی نحوست، بدمزاجی، بے سکونی، بے اطمینانی اور غفلت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ زمانے بیت جانے کے باوجود جس شخص نے رات کے قیام کا اہتمام نہیں کیا، اس کے لیے بہت مشکل ہو گا کہ وہ ایسی احادیث کے مفہوم کا ادراک کر سکے، یہ اس کے بس کی بات ہی نہیں ہوتی، کیونکہ وہ اس میدان کا شہسوار ہی نہیں ہے۔ ایک قول کے مطابق اس حدیث سے مراد نمازِ عشاء لی گئی ہے۔ کیا شیطان کے پیشاب کرنے کو حقیقت پر محمول کیا جائے یا اس کایہ مجازی معنی مراد لیا جائے کہ شیطان اس کے کان کو اذان یا مرغ کی آواز سننے سے یا ایسی آواز سننے سے روک دیتا ہے، کہ عام طور پر جس کی وجہ سے اہل توفیق نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیںیا لغویات اور باطل کلام کی وجہ سے اس کے کانوں کو بھاری کر دیتا ہے۔ راجح بات حقیقی معنی ہی بیان کرنا ہے کہ شیطان واقعی اس کے کان میں پیشاب کر جاتا ہے، لیکن اس کی حقیقت و کیفیت کو اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے شیطان کا کھانا، پینا، قے کرنا، گوز مارنا، انسان کے اندر داخل ہو جانا وغیرہ جیسے حقائق ہیں۔واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر: 2124
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مِنَ اللَّيْلِ (وَفِي رِوَايَةٍ: وَذَلِكَ مِنَ السَّحَرِ) فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوِيًّا مِنَ اللَّيْلِ، قَالَ: فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا وَقَالَ: ((قُومَا فَصَلِّيَا))، قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرُكُ عَيْنَيَّ، وَأَقُولُ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ، فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا، قَالَ: فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ عَلَى فَخِذِهِ: ((مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو سحری کے وقت میرے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، ہمیں نماز کے لئے بیدار کیا اور پھر اپنے گھر کو لوٹ گئے اور کچھ دیر کے لیے نماز پڑھتے رہے، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری کوئی آوازمحسوس نہ کی تو دوبارہ ہماری طرف آئے اور بیدار کرتے ہوئے فرمایا: اٹھو اورنماز پڑھو۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنی آنکھوں کو مَلتے ہوئے یوں کہنے لگا: اللہ کی قسم! ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہمارے نفس تو صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں،جب وہ چاہے گا تو تب ہمیں اٹھائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس چلے گئے اور اپنی ران پرہاتھ مارتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے جا رہے تھے: ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے، ہم اتنی ہی نماز پڑھیں گے، جتنی ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے،اصل بات یہ ہے کہ انسان ہر چیز سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے پتہ چلا کہ قرآن مجید کے ذریعے اپنے آپ کو ضبط میں لایا جا سکتا ہے، پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شکوہ کرتے ہوئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے الفاظ دوہراتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت {وَکَانَ الإِْ نْسَانُ أَکْثَرَ شَیْئٍ جَدَلًا} پڑھ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ انسان بحث مباحثہ کرتا ہی رہتا ہے۔ اس حدیث میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی ایک منقبت کا بیان ہے کہ انھوں نے ایسی چیز کو بھی نہیں چھپایا جس میں معمولی عیبیا ملامت پائی جاتی تھی اور نشرِ علم کی مصلحت کو کتمان پر مقدم کیا۔ اس حدیث سے درج ذیل امور کا بھی علم ہوتا ہے: امام کا نوافل کے سلسلے میں سختی نہ کرنااور سمجھانے اور رغبت دلانے پر اکتفا کرنا، انسان کا طبعی طور پر قول و فعل کے ذریعے اپنا دفاع کرنا، آدمی کو چاہیے کہ وہ نصیحت قبول کر کے اپنے نفس کی اصلاح کرے، اگرچہ معاملے کا تعلق غیر واجب کام سے ہو۔
حدیث نمبر: 2125
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَا عَبْدَ اللَّهِ! لَا تَكُونَنَّ مِثْلَ فُلَانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! فلاں شخص کی طرح ہر گز نہ ہو جانا، وہ رات کو قیام کرتا تھا پھر اس نے اس قیام کو ترک کردیا۔
حدیث نمبر: 2126
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ عُقِدَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثُ عُقَدٍ بِجَرِيرٍ، فَإِنْ قَامَ فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، أُطْلِقَتْ وَاحِدَةٌ، وَإِنْ مَضَى فَتَوَضَّأَ أُطْلِقَتِ الثَّانِيَةُ، فَإِنْ مَضَى فَصَلَّى أُطْلِقَتِ الثَّالِثَةُ، فَإِنْ أَصْبَحَ وَلَمْ يَقُمْ شَيْئًا مِنَ اللَّيْلِ وَلَمْ يُصَلِّ أَصْبَحَ وَهُوَ عَلَيْهِ، يَعْنِي الْجَرِيرَ (وَفِي لَفْظٍ: وَإِنْ هُوَ بَاتَ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى يُصْبِحَ) أَصْبَحَ وَعَلَيْهِ الْعُقَدُ جَمِيعًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے کوئی آدمی سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی رسی کے ساتھ تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، اگر وہ آدمی اٹھ کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھول دی جاتی ہے، اگر وہ آگے بڑھے اور وضوء بھی کر لے تو دوسری گرہ کھول دی جاتی ہے اور اگر وہ نماز بھی پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھول دی جاتی ہے۔ اور اگر وہ اس حال میں صبح کرے کہ نہ تو وہ رات کو اٹھا ہو، نہ ذکر کیا ہو، نہ وضو کیا ہو اور نہ نماز پڑھی ہو تو وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ گرہیں اس پر موجود ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 2127
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أَنْثَى إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِينَ يَرْقُدُ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ تَعَالَى انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مرد و زن جب سوتا ہے تو اس کے سر پر چمڑے کی ایک رسی ہوتی ہے اور اس سے اس کے سر پر تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں، جب وہ بیدار ہوکر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اٹھ کر وضو کرتا ہے دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے توساری گرہیں کھل جاتی ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … رات کی نماز مومن کی عظیم صفت اور پارسا و متقی لوگوں کا شیوہ ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنَّاتٍ وَّ عُیُوْنٍ … کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ اللَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَ۔ وَبِالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔} (سورۂ ذاریات: ۱۵تا۱۸) … بیشک پر ہیزگار لوگ باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ … (ان کی صفات یہ ہیں کہ) وہ رات کو کم سوتے ہیں اور سحریوں کے وقت بخشش طلب کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((شَرَفُ الْمُؤْمِنِ صَلَاتُہٗبِاللَّیْلِ، وَعِزُّہُ اسْتِغْنَاؤُہُ عَمَّا فِی أَیْدِی النَّاسِ۔)) مومن کا اعزاز رات کی نمازِ (تہجد) میں ہے اور اس کی عزت و آبرو اس چیز سے بے نیاز ہو جانے میں ہے جو (دنیا کی صورت میں) لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ (صحیحہ:۱۹۰۳، عقیلي في الضعفائ: صـ ۱۲۷، ابن عساکر فی تاریخ دمشق: ۴/ ۹۹/ ۱، ۸/ ۳۷/ ۱) رات کو نماز ادا کرنا اور لالچی و حریص نہ ہونا، دو ایسی صفاتِ جمیلہ ہیں کہ انسان کے عزت و احترام کو چار چاند لگا دیتی ہیں۔ اس کے دل و دماغ کو تسکین اور اس کو زندگی کا لطف نصیب ہوتا ہے اور چہرے پر نورانی کرنوں کا اضافہ ہوتا ہے۔ جو انسان ان دو صفات سے محروم ہے اور پھر بھی اپنے آپ کو مطمئن اور معزز سمجھتا ہے تو یہ محض اس کی خام خیالی ہے اور یہ بات بجا طور پر درست ہو گی کہ اسے سکون اور عدم سکون کا تجربہ ہی نہیں ہے، اگر کسی کو میری گزارشات سے اتفاق نہیں تو وہ چند دن تجربہ کر کے دیکھ لے۔ کئی آیات و احادیث میں رات کے قیام کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے، لیکنیہ ایک المیہ ہے کہ چند افراد کے علاوہ امت ِ مسلمہ اس عبادت سے غافل ہے، اللہ تعالیٰ توفیقِ خاص سے نوازے۔