کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: ان دو سنتوں کو اول وقت میں جلدی جلدی ادا کرنے اور ان کے بعد لیٹنے کا بیان
حدیث نمبر: 2104
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، كَأَنَّ الْأَذَانَ فِي أُذُنَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں (اتنی جلدی سے) ادا کر لیتے کہ یوں لگتا کہ اذان ابھی تک آپ کے کانوں میں ہے۔
حدیث نمبر: 2105
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ عِنْدَ الإِقَامَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کی دوسنتیں اقامت کے وقت پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 2106
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالإِقَامَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر کی اذان اور اقامت کے درمیان دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اذان فجر کے فوراً بعد اور تخفیف کے ساتھ فجر کی سنتیں ادا کر لینی چاہئیں، بہرحال یہ سنتیں اذان اور اقامت کے درمیان کسی وقت بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
حدیث نمبر: 2107
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز فجر سے پہلے والی دو رکعتیں پڑھے تو وہ اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جائے۔
حدیث نمبر: 2108
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اپنی دائیں جانب پر لیٹ جاتے۔
حدیث نمبر: 2109
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا صَلَّى رُبَّمَا اضْطَجَعَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب یہ نماز پڑھتے تو بسا اوقات لیٹ جاتے۔
حدیث نمبر: 2110
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی دو رکعتیں پڑھتے تو اپنے دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی دوسنتوں کے بعد دائیں پہلو پر لیٹنا چاہیے، ان کی مزید کوئی تأویل نہیں کی جا سکتی، لیکن نمازیوں کی اکثریتیا تمام نمازی اس سنت پر عمل کرنے سے غافل ہیں۔ ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی نمازی نمازِ فجر سے پہلے دو سنتیں ادا نہ کر سکے تو اسے یہ اختیار ہے کہ وہ فرض نماز کے بعد یہ سنتیں پڑھ لے یا طلوع آفتاب کے بعد، دلائل درج ذیل ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ لَمْ یُصَلِّ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ، فَلْیُصَلِّھِمَا بَعْدَ مَا تَطَلُعَ الشَّمْسُ۔)) جو فجر کی دو سنتیں نہ پڑھ سکا، وہ طلوعِ آفتاب کے بعد ادا کر لے۔ (ترمذی:۴۲۳، صحیحہ: ۲۳۶۱) سیدنا قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز فجر ادا کی، (میں نے فرض نماز سے فارغ ہو کر پہلے والی دو سنتیں ادا کرنا شروع کر دیں) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: ((مَھْلًا یَا قَیْسُ! أَصَلَاتَانِ مَعًا؟)) یعنی قیس! ٹھہر جاؤ، کیا دو (فرض) نمازیں ایک وقت میں؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں فجر کی دوسنتیں (نماز سے پہلے) ادا نہ کر سکا(لہٰذا اب پڑھی ہیں) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((فَلَا اَذِنْ)) … تو پھر کوئی حرج نہیں۔ (ابوداود: ۱۲۶۷، ترمذی: ۴۲۲) صحابی رسول کہتے ہیں کہ جب میں مسجد میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر پڑھا رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو میں فجر کی دو سنتیں ادا کرنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے کہا: ((مَا ھَاتَانِ الرَّکْعَتَانِ؟)) یعنی یہ دو رکعتیں کونسی نماز ہے؟ میں نے کہا: یہ دو سنتیں ہیں جو میں فجر سے پہلے نہ پڑھ سکا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہو گئے اور کچھ نہ کہا۔ (دارقطنی: ۱۴۲۴، بیہقی: ۲/۴۸۳، ابن حبان: ۶۲۴، مستدرک حاکم: ۱/۲۷۴) معلوم ہوا کہ جب مؤذن نمازِ فجر کیلیے اقامت کہنا شروع کردے، اور کسی نمازی کی سنتیں رہتی ہوں تو وہ سب سے پہلے فرضی نماز باجماعت ادا کرے گا اور نماز کے بعد یا طلوع آفتاب کے بعد دو سنتیں ادا کر لے گا۔