حدیث نمبر: 2081
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ إِذَا قَامَ الْمُؤَذِّنُ فَأَذَّنَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ قَامَ مَنْ شَاءَ فَصَلَّى حَتَّى تُقَامَ الصَّلَاةُ وَمَنْ شَاءَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَعَدَ، وَذَلِكَ بَعْيْنَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مؤذن اٹھتا اور مدینہ منورہ کی مسجد میں مغرب کی اذان کہتا تو جو چاہتا اٹھ کر نماز پڑھتا رہتا، حتیٰ کہ نماز کھڑی ہوجاتی اور جو چاہتا، دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ جاتا اور یہ سارا کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے ہوتاتھا۔
وضاحت:
فوائد: … ایک دوسری روایت میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ابوفزارہ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مغرب سے پہلے والی دو رکعتوںکے بارے میں سوال کیا۔ انھوں نے جواباً کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے مین یہ دو رکعتیں ادا کرنے کے لیے لپکتے تھے۔ (مسند احمد: ۱۲۳۱۰، ابوداود طیالسی: ۲۱۴۴، سندہ صحیح علی شرط مسلم) یہ حدیث مسلم: ۸۳۶ میں بھی ہے، لیکن اس کے الفاظ اس سے ذرا مختلف ہیں۔
حدیث نمبر: 2082
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ الْمُؤَذِّنُ إِذَا أَذَّنَ قَامَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْتَدِرُونَ السَّوَارِي حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ كَذَلِكَ، يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالإِقَامَةِ إِلَّا قَرِيبٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب مؤذن مغرب کی اذان کہتا توصحابہ کرام مغرب سے پہلے دو رکعتیں ادا کرنے کے لیے ستونوں کی طرف لپکتے، اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تو وہ اسی حالت میں ہوتے تھے، اور اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں صحابہ کرام مسجد میں بھی سترے کا اہتمام کرتے تھے۔ ایک روایت میں اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: کَانَ الْمُؤَذِّنُ یُؤَذِّنُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ لِصَلَاۃِ الْمَغْرِبِ، فَیَبْتَدِرُ لُبَابُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم السَّوَارِیَ،یُصَلُّوْنَ الرَّکْعَتَیْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، حَتّٰییَخْرُجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ فَیَجِیْئُ الْغَرِیْبُ فَیَحْسَبُ أَنَّ الصَّلَاۃَ قَدْ صُلِّیَتْ مِنْ کَثْرَۃِ مَنْ یُّصَلِّیْھَا، وَکَانَ بَیْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَۃِیَسِیْرٌ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جب مؤذن نمازِ مغرب کی اذان سے فارغ ہوتا تو برگزیدہ صحابۂ کرام ستونوں کی طرف لپکتے اور (انھیں سترہ بنا کر) مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لاتے تووہ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ لوگ اتنی کثرت سے یہ دو رکعتیں پڑھتے کہ اجنبی آدمی کو محسوس ہوتا کہ نماز پڑھی جا چکی ہے (اور لوگ بعد والی سنتیں ادا کر رہے ہیں)۔ اور اذان اور اقامت کے درمیان تھوڑا سا وقفہ ہوتا تھا۔ (صحیح بخاری:۲/۸۵، صحیح مسلم: ۲/ ۲۱۲)
حدیث نمبر: 2083
عَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكٍ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَسْمَعُ أَذَانَ الْمَغْرِبِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَا أُعَجِّبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَغْمِصَهُ، قَالَ عُقْبَةُ: أَمَا إِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا يَمْنَعُكَ الْآنَ؟ قَالَ: الشُّغْلُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو الخیر کہتے ہیں: میں نے ابو تمیم عبد اللہ بن مالک جیشانی کو مغرب کی اذان سنتے ہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا،یہ دیکھ کر میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اوران سے کہا: کیا میں آپ کو ابو تمیم جیشانی کی بات سنا کر تعجب میں نہ ڈالوں، وہ تو مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میں ان پر عیب لگاؤں، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خبر دار! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں یہ نماز پڑھاکرتے تھے، میں نے کہا: تو پھر اب آپ کو کونسی چیز منع کرتی ہے؟ انہوں نے کہا: مصروفیت۔
وضاحت:
فوائد: … آج کل بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو نماز مغرب سے پہلے دو رکعت ادا کرنے سے مکمل اجتناب کرتے ہیں اور ایسا کرنے والوں پر اس وجہ سے عیب لگاتے ہیں، اِن لوگوں کو سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا جواب یاد رکھنا چاہیے۔ یہ صحابۂ کرام کی انصاف پسندی ہے کہ وہ حدیث ِ رسول پر آنچ نہیں آنے دیتے۔
حدیث نمبر: 2084
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ))، ثُمَّ قَالَ: ((صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ))، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ: ((لِمَنْ شَاءَ))، كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرو۔ پھر فرمایا: مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھا کرو۔ جب تیسری دفعہ یہ فرمایا تو یہ اضافہ کیا: جو چاہے، وہ پڑھ لے۔ یہ آخری بات اس لیے کہی کہ کہیں ایسانہ ہو کہ لوگ اسے ضروری طریقہ سمجھ لیں۔
حدیث نمبر: 2085
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لِمَنْ شَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے، اُس کے لئے جو چاہے۔
وضاحت:
فوائد: … نماز مغرب سے پہلے والی دو رکعت نماز پر دلالت کرنے والے مزید دلائل بھی موجود ہیں،یہاں ان کا احاطہ مقصود نہیں ہے، البتہ ایک فعلی حدیث ذکر کر دیتے ہیں، تاکہ مسئلہ زیادہ واضح ہو جائے۔ سیدنا عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صَلّٰی قَبْلَ الْمَغْرِبِ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔ (صحیح ابن حبان: ۱۵۸۶) علامہ سندھی حنفی نے کہا: ظاہر تو یہی ہے کہ مغرب سے پہلے دو رکعتیں جائز بلکہ مندوب ہیں، میں منع کرنے والوں کے پاس کوئی شافی جواب نہ پا سکا۔ (حاشیۃ السندھی علی النسائی: ۱/ ۲۸۳،۲/ ۲۸) معلوم نہیں کہ بعض لوگ اس موضوع پر صحیح اور صریح روایات ہونے کے باوجود ان دو رکعتوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ امام البانی رحمتہ اللہ علیہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے تحت لکھا: اس حدیث ِ مبارکہ سے نمازِ مغرب سے قبل دو رکعت پڑھنے کی واضح مشروعیت ثابت ہوتی ہے، کیونکہکبار صحابہ نے ان کا اہتمام کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو برقرار رکھا، دوسری عام احادیث سے بھی اس نماز کا ثبوت ملتا ہے، مثلا سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَامِنْ صَلَاۃٍ مَفْرُوْضَۃٍ إِلَّا وَبَیْنَیَدَیْھَا رَکْعَتَانِ۔)) (صحیح ابن حبان: ۶۱۵، صحیحۃ: ۲۳۲) … نہیں ہے کوئی فرضی نماز، مگر اس سے پہلے (کم از کم) دو رکعت (نفلی نماز) ہے۔ امام احمد، امام اسحق اور محدثین کا یہی مذہب ہے، لیکن بعض مقلد مغرب سے پہلے دو رکعت نفل پر دلالت کرنے والی ان صریح احادیث کو ردّ کر دیتے ہیں۔ (صحیحہ: ۲۳۴)