کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: مغرب کی سننِ رواتب کا بیان
حدیث نمبر: 2078
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مغرب کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2078
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1165، 1180، ومسلم:882، وابوداود: 1128، والترمذي: 425، 432، والنسائي: 3/ 113 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4506، 4757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4757»
حدیث نمبر: 2079
عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((ارْكَعُوا هَٰتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي بُيُوتِكُمْ))، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لِأَبِي: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: مَنْ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي الْمَسْجِدِ لَمْ تُجْزِهِ إِلَّا أَنْ يُصَلِّيهُمَا فِي بَيْتِهِ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((هَٰذِهِ مِنْ صَلَاةِ الْبُيُوتِ))، قَالَ: مَنْ هَٰذَا؟ قُلْتُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: مَا أَحْسَنَ مَا قَالَ أَوْ مَا أَحْسَنَ مَا انْتَزَعَ (وَفِي رِوَايَةٍ) مَا أَحْسَنَ مَا نَقَلَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو عبدالاشہل کے پاس آئے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں مغرب کی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: یہ دو رکعتیں گھروں میں پڑھا کرو۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے اپنے باپ سے کہا کہ ایک آدمی کا یہ خیال ہے کہ جس نے مغرب کے بعد دو رکعتیں مسجد میں پڑھیں، تو یہ اسے کفایت نہیں کریں گی، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو اپنے گھر میں ادا کرے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ گھروں کی نماز میں سے ہیں۔ میرے باپ نے پوچھا: یہ کون آدمی ہے؟ میں نے کہا: محمد بن عبد الرحمن ہے، انہوں نے کہا: کتنی اچھی بات اس نے کہی ہے یا کتنی اچھی روایت اس نے بیان کی ہے یا کتنی اچھی روایت اس نے نقل کی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … لیکنیہ کہنا کہ اگر مغرب کی سنتیں مسجد میں ادا کی جائیں تو وہ کفایت ہی نہیں کرتیں،یہ بات انتہائی قابل نظر ہے۔ ہاں یہ بات واضح ہے کہ نفلی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2079
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 1165 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23624، 23628 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24028»
حدیث نمبر: 2080
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصَلَاةٍ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ قَالَ نَعَمْ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول سیدنا عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جبکہ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرض نماز کے بعد کسی نماز کا حکم دیا کرتے تھے، انہوں نے کہا: جی ہاں، مغرب اور عشاء کے درمیان۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2080
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن عبيد۔ أخرجه البخاري في تاريخه : 5/ 440، والبيھقي: 3/ 20 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23652، 23654 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24052»