کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: عصر کے بعد دو رکعتوں کا بیان
حدیث نمبر: 2063
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ عصرکے بعددو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2063
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في الاوسط : 7130، والبخاري في تاريخه الكبير : 1/ 44 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19970»
حدیث نمبر: 2064
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي الصِّدِّيقَةُ بِنْتُ الصِّدِّيقِ حَبِيبَةُ حَبِيبِ اللَّهِ الْمُبْرَأَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَلَمْ أُكَذِّبْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
جناب مسروق کہتے ہیں: مجھے صدیقہ بنت صدیق، اللہ کے محبوب کی محبوبہ ،بہتان سے بری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے،میں نے ان کی تکذیب نہیں کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2064
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 591، ومسلم: 835 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24235، 26044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26572»
حدیث نمبر: 2065
عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ: يَا ابْنَ أُخْتِي! مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّجْدَتَيْنِ (وَفِي رِوَايَةٍ: رَكْعَتَيْنِ) بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ہشام نے کہا: مجھے میرے باپ نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد میرے پاس کبھی بھی دو رکعتیں نہیں چھوڑیں تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2065
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 591، ومسلم: 835 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24235 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24739»
حدیث نمبر: 2066
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَمَسْرُوقًا يَقُولَانِ: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدِي فِي يَوْمٍ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود بن یزید اور مسروق دونوں نے کہا: ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر شہادت دیتے ہیں کہ انہوں نے یہ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی میرے پاس ہوتے تو عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2066
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 593، ومسلم: 835 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24235، 25027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25541»
حدیث نمبر: 2067
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: صَلِّ، إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَوْمَكَ أَهْلَ الْيَمَنِ عَنِ الصَّلَاةِ إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
شریح کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: نماز پڑھ لیاکر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو تیری قوم اہل یمن کو اس وقت نماز پڑھنے سے منع کیا تھا، جب سورج طلوع ہورہا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2067
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن حبان: 1568 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25639»
حدیث نمبر: 2068
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: صَلَاتَانِ لَمْ يَتْرُكْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں : دو نمازیں ایسی ہیں کہ جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خفیہ طور پرچھوڑا نہ ظاہری طور پر ، یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ عصر کے بعد نماز پڑھنا درست ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بھی دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ سب سے پہلے اس ضمن مین یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ جب تک سورج بلند نظر آ رہا ہو،اس وقت تک عصر کے بعد نفلی نماز پڑھی جا سکتی ہے، جن احادیثِ مبارکہ میں عصر کے بعد مطلق طور پر نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے، درج ذیل حدیث کی روشنی میں ان کی تخصیص کی جائے گی: سیدناعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلاَّ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ۔ (ابوداود: ۱/۲۰۰، نسائی: ۱/۹۷، صحیحۃ:۲۰۰) یعنی: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا، الایہ کہ سورج بلندہو۔
اب ہم اس باب میں مذکورہ مسئلے پر بحث کرتے ہیں: نماز عصر کے بعد نفلی نماز پڑھنا اس وقت تک درست ہے، جب تک سورج بلند اور صاف نظر آ رہا ہو۔شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: امام ابن ابی شیبہ نے سلف کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ وہ عصر کے بعد دو رکعات پڑھتے تھے، ان میں سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ، ابو الشعثائ، عمرو بن میمون، اسود بن یزید اور ابووائل شامل ہیں۔ نیز محمد بن منتشر اور مسروق بھییہ نماز ادا کرتے تھے۔ رہا مسئلہ یہ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نماز کی ادائیگی پر کیوں مارا کرتے تھے؟ تو یہ ان کا ذاتی اجتہاد تھا، جس کا تعلق باب سدّ الذریعۃ سے ہے۔ جیسا کہ حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۲/ ۶۵) میںدرج ذیل دو روایات بیان کر کے اس کی وضاحت کی ہے۔
(أ) زید بن خالد کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے عصر کے بعد دو رکعتوں کی ادائیگی پر سزا دی … … پس سیدنا عمر نے کہا: یَا زَیْدُ! لَوْلَا اَنِّیْ اَخْشٰی اَنْ یَّتَّخِذَھُمَا النَّاسُ سُلَّمًا اِلَی الصَّلَاۃِ حَتّٰی اللَّیْلِ لَمْ اَضْرِبْ فِیْھِمَا۔ … اے زید!اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ ان دو رکعتوں کو ذریعہ بنا کر رات تک نماز ادا کرتے رہیں گے، تو میں نے ان کی وجہ سے سزا نہیں دینی تھی۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۵۵، مصنف عبد الرزاق: ۲/ ۴۳۱، ۴۳۲) اسی قسم کی روایت سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ کے ساتھ جواب دیا تھا: وَلٰکِنِّیْ اَخَافُ اَنْ یَاْتِیَ بَعْدَکُمْ قَوْمٌ یُصَلُّوْنَ مَا بَیْنَ الْعَصْرِ اِلَی الْمَغْرِبِ حَتّٰییَمُرُّوْا بِالسَّاعَۃِ الَّتِیْ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَنْ یُصَلِّیَ فِیْھَا۔ … میں ڈرتا ہوں کہ تمھارے بعد جو لوگ آئیں گے وہ اس نماز کو عصر سے مغرب تک پڑھیں گے اور (بالآخر اس نماز کو) اس گھڑی میں لے جائیں گے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ (مسند احمد: ۴/ ۱۰۲) شریح کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں سوال کیا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی نماز اور اس کے بعد دو رکعت سنت ادا کرتے، پھر عصر کی نماز اور اس کے بعد دو رکعت نفل پڑھتے۔ میں نے کہا: سیدناعمر رضی اللہ عنہ تو عصر کے بعد والی دو رکعتوں کی وجہ سے منع کرتے اور پڑھنے والے کو سزاد یتے تھے، اس کی کیا وجہ ہے؟ انھوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود بھییہ دو رکعتیں پڑھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھی ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ تیری قوم کے لوگ کم سمجھ اور انجان ہیں،یہ نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد عصر تک نفلی نماز ادا کرتے رہتے ہیں، پھر اسی طرح نمازِ عصر اد اکر کے (ان دو رکعتوں کی رخصت سے گنجائش نکالتے ہوئے) مغرب تک نماز پڑھتے رہتے ہیں، اس لیے عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو سزا دی اور بالکل درست کیا۔ (مسند السراج: ق ۱۳۲/ ۱) میں (البانی) کہتا ہوں: اس کی سند صحیح ہے، یہ سابقہ دو آثار کا قوی شاہد ہے، انتہائی صراحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دو رکعتوں سے منع کرنے کیوجہ دو رکعتیں نہیں تھی، جیسا کہ اکثر لوگوں کو یہ وہم ہوا ہے۔ سیدنا عمر کو یہ خطرہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اس نماز کی ادائیگی میں اتنی تاخیر کر دیں کہ سورج زرد ہو جائے اورپھر اس کو کراہت کے وقت میں ادا کریں۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ عصر کے بعد دو رکعتیںادا کرنا مسنون ہے، بشرطیکہ سورج کے زرد ہونے سے پہلے ادا کی جائیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا سزا دینا ان کا اجتہادی مسئلہ تھا، بعض صحابہ نے ان کی موافقت کی تھی اور بعض نے مخالفت، یعنییہ نماز ادا کرنی چاہیےیا نہیں؟ اس کے بارے میں صحابہ کرام میں بھی دو فریق پائے جاتے تھے، ایسی صورت میں سنت کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے قول سے بھی نمازِ عصر کے بعد کی دو رکعتوں کا ثبوت ملتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں بھی اپنے ساتھیوں کی طرح نماز پڑھتا ہوں، کسی کو دن یا رات کی کسی گھڑی میں نماز پڑھنے سے نہیں روکتا، ہاں اتنا کہوں گا کہ طلوع آفتاب اور غروب ِ آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھی جائے۔ (بخاری: ۵۸۹) سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا بھییہی مسلک تھا، وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت سے قبل نماز عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے، لیکن جب آپ خلیفہ بنے تو انھوں نے یہ نماز ترک کر دی، جب سیدناعمر فوت ہو گئے تو انھوں نے ان دو رکعتوں کی ادائیگی شروع کر دی۔ جب ان سے وجہ پوچھی گئی تو انھوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان دو رکعات کی وجہ سے لوگوں کو سزا دیتے تھے، اس لیے میں نے ان کو چھوڑ دیا تھا۔ ابن طاوس کہتے ہیں: میرے باپ طاوس تابعی بھی ان دو رکعتوں کو نہیں چھوڑتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق: ۲/ ۴۳۳، اس اثر کی سند صحیح ہے) اب ہم یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ جو اہل سنت سنتوں کو زندہ کرنے اور بدعتوں کا قلع قمع کرنے کے حریص ہیں، ان کو نماز عصر کے بعد ان دو رکعتوں کی ادائیگی کا التزام کرنا چاہیے، بشرطیکہ جب نماز عصر کو اس کے اول وقت میں ادا کیا جائے، (یایوں کہیے کہ جب تک سورج زرد نہ ہو۔) وباللہ التوفیق۔ (صحیحہ: ۲۹۲۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2068
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 592، ومسلم: 835 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25776»
حدیث نمبر: 2069
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: أَجْمَعَ أَبِي عَلَى الْعُمْرَةِ، فَلَمَّا حَضَرَ خُرُوجُهُ، قَالَ: أَيْ بُنَيَّ! لَوْ دَخَلْنَا عَلَى الْأَمِيرِ فَوَدَّعْنَاهُ، قُلْتُ: مَا شِئْتَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى مَرْوَانَ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرُوا الرَّكْعَتَيْنِ الَّتِي يُصَلِّيهِمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: مِمَّنْ أَخَذْتَهُمَا يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي بِهِمَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ، فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى عَائِشَةَ: مَا رَكْعَتَانِ يَذْكُرُهُمَا ابْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ عَنْكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ؟ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَخْبَرَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ: مَا رَكْعَتَانِ زَعَمَتْ عَائِشَةُ أَنَّكِ أَخْبَرْتِيهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ، لَقَدْ وَضَعَتْ أَمْرِي عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهِ، صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَقَدْ أُتِيَ بِمَالٍ، فَقَعَدَ يَقْسِمُهُ حَتَّى أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَكَانَ يَوْمِي، فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، فَقُلْنَا: مَا هَٰاتَانِ الرَّكْعَتَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ أُمِرْتَ بِهِمَا؟ قَالَ: ((لَا، وَلَٰكِنَّهُمَا رَكْعَتَانِ كُنْتُ أَرْكَعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَشَغَلَنِي قَسْمُ هَٰذَا الْمَالِ حَتَّى جَاءَنِي الْمُؤَذِّنُ بِالْعَصْرِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَدَعَهُمَا))، فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟ وَاللَّهِ! لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا، وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: مَا رَأَيْتُهُ صَلَّاهُمَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میرے باپ نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا، جب ان کے سفر کے لئے نکلنے کا وقت آیا تو انھوں نے مجھے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! اگر ہم امیر (مروان بن حکم) کے پاس جائیں اور اس سے الوداع ہوں(تواچھا ہو گا)، میں نے کہا: جیسے آپ چاہیں، پھر ہم مروان کے پا س گئے اور اس وقت اس کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ان میں سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہوں نے ان دو رکعتوں کا تذکرہ کیا، جنہیں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ عصر کے بعد پڑھتے تھے، مروان نے ان سے کہا: اے ابن زبیر! آپ نے دو رکعتیں کس سے لی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے، مروان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ ان دو رکعتیں کی حقیقت کیا ہے، جو سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی وساطت سے آپ کی طرف منسوب کر رہے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد ان کو ادا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے جواباً یہ پیغام بھیجا کہ مجھے تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا تھا، یہ سن کر مروان نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا کہ ان دو رکعتوں کی کیا حقیقت ہے، جن کے متعلق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خیال کیا ہے کہ آپ نے انہیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، انہوں نے کہا: اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو معاف فرمائے، انھوں نے میری خبر کو اس کے غیرمحل پر رکھ دیا ہے، بہرحال معاملہ اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، اسی وقت آپ کے پاس کچھ مال لایا گیا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے تقسیم کرنے بیٹھ گئے، حتیٰ کہ مؤذن عصر کا پیغام لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر پڑھی اور پھر میری طرف آئے، کیونکہ یہ میری باری کا دن تھا، اس وقت آپ نے ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟ آپ کو اِن کے متعلق کوئی نیا حکم دیاگیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بات یہ ہے کہ میں ظہر کے بعد جو دو رکعتیں پڑھا کرتا تھا، مال کی تقسیم نے مجھے ان سے مشغول کردیا، حتیٰ کہ مؤذن عصر کا پیغام لے کر میرے پاس آگیا، اب میں نے ان کو چھوڑنا ناپسند کیا۔ یہ سن کر سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ اکبر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ تو یہ رکعتیں پڑھی ہیں، لہٰذا اللہ کی قسم ہے کہ میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا، لیکن سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ انھوں نے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اس واقعہ سے پہلے یہ دو رکعتیں پڑھی ہوں یا بعد میں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2069
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذا اسناد ضعيف علي قلب، فيه عبيد الله بن عبد الرحمن ابن عبد الله بن موھب ضعيف، وعمه عبيد الله بن عبد الله مجھول، وأبو أحمد الزبيري انما يروي عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن موھب، عن عمه عبيد الله بن عبد الله بن موھب، كما في مصادر الرجال، وھذا القلب قديم، وقد بيض له الحافظ في أطراف المسند : 9/ 423 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27095»
حدیث نمبر: 2070
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ زَعَمَ لِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَسْأَلُهَا هَلْ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: أَمَّا عِنْدِي فَلَا، وَلَٰكِنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْنِي أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ فَأَرْسِلْ إِلَيْهَا فَاسْأَلْهَا، فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: نَعَمْ، دَخَلَ عَلَيَّ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أُنْزِلَ عَلَيْكَ فِي هَٰاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ؟ قَالَ: ((لَا وَلَٰكِنْ صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَشُغِلْتُ فَاسْتَدْرَكْتُهَا بَعْدَ الْعَصْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبید اللہ بن عبد اللہ نے کہا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف یہ بات پوچھنے کے لیے بھیجا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد کوئی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: میرے پاس تو ایسے نہیں ہوا، البتہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھی تھیں، لہٰذا تم ان کی طرف پیغام بھیج کر ان سے پوچھ لو، پس انھوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کے بعد میرے پاس آئے اور یہ دو رکعتیں پڑھیں، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ان دو رکعتوں کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بات یہ ہے کہ میں ظہر کی نماز پڑھ کر مصروف ہو گیاتھا، اس لیے اب عصر کے بعد ان کو ادا کیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … پچھلے باب کی احادیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا یہ بیان کرچکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تسلسل کے ساتھ عصر کے بعد دو رکعت نماز ادا کیا کرتے تھے، لیکن اس حدیث میں انھوں نے اس نماز کی نفی کر دی ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کی نفی سے مراد سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیان کردہ واقعہ کی نفی ہے، نہ کہ صرف دو رکعتوں کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2070
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 282، وابن ابي شيبة: 2/ 353۔ وأخرجه مطوّلا البخاري: 1233، 4370، ومسلم: 834 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26515، 26614، 26633 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27168»
حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عُبَيْدَةُ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَا ابْنَ عَبَّاسِ! لَقَدْ ذَكَرْتَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ أُنَاسًا يُصَلُّونَهَا، وَلَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا وَلَا أَمَرَ بِهِمَا؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَٰكَ مَا يَقْضِي النَّاسَ بِهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ، قَالَ فَجَاءَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: مَا رَكْعَتَانِ تَقْضِي بِهِمَا النَّاسَ؟ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَجُلَيْنِ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ، وَيَقُولُ: مَا رَكْعَتَانِ زَعَمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّكِ أَمَرْتِيهِ بِهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ؟ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: ذَٰكَ مَا أَخْبَرَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَأَخْبَرْنَاهَا مَا قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُهَا اللَّهُ، أَوَلَمْ أُخْبِرْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن حارث سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: میں اور سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انھوں نے کہا: ابن عباس! تو نے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کا ذکر کیا ہے اور مجھے یہ خبر ملی ہے کہ لوگ ان کو ادا کرتے ہیں، حالانکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا ہے کہ آپ نے یہ نماز پڑھی ہو اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کا کوئی حکم دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ وہ چیز ہے کہ جس کے متعلق سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ لوگوں سے بات کرتے ہیں یعنی وہ ان کو پڑھنے کا فتویٰ دیتے ہیں ، پس سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ان دو رکعتوں کی کیا حقیقت ہے کہ جن کے بارے میں آپ لوگوں سے بات کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: مجھے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی ہے، یہ سن کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف دو آدمیوں کو یہ پیغام دے کر بھیجا: امیر المومنین آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ ان دو رکعتوں کی حقیقت کیا ہے جن کے بارے میں سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: یہ وہ چیز ہے، جس کی مجھے تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی تھی، چنانچہ ہم سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس چلے گئے اور انہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات بتلائی، آگے سے انہوں نے کہا: اللہ عائشہ پر رحم کرے، کیا میں نے انہیں یہ خبر نہیں دے دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2071
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذا اسناد ضعيف لضعف يزيد بن ابي زيا۔ أخرجه ابن ماجه: 1159 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27121»
حدیث نمبر: 2072
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهَا قَالَتْ: لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً، جَاءَهُ نَاسٌ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَشَغَلُوهُ فِي شَيْءٍ فَلَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، قَالَتْ: فَلَمَّا صَلَّى الْعَصْرَ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، وہ کہتی ہیں: میں نے نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد کبھی نماز پڑھی ہو، البتہ ایک مرتبہ ایسے ہوا تھا کہ لوگ ظہر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی کام میں مصروف کردیا، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد کوئی نماز نہ پڑھ سکے، یہاں تک کہ عصر کی نماز ادا کی، پھر جب آپ میرے گھر تشریف لائے تو وہ دو رکعتیں پڑھیں۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر ظہر کی بعد والی سنتیں رہ جائیں تو ان کو عصر کی نماز کے بعد ادا کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2072
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 1/ 281، وعبد الرزاق: 3970، والطبراني في الكبير : 23/ 534، وھذا حديث قد اختلف فيه علي أبي سلمة، وانظر: 956 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26645 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27181»
حدیث نمبر: 2073
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَشُغِلَ عَنْهُمَا حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ، فَلَمَّا فَرَغَ رَكَعَهُمَا فِي بَيْتِي، فَمَا تَرَكَهُمَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ: فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَنْهُ، قَالَ قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ ثُمَّ تَرَكْنَاهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، ایک دن آپ مشغول ہو گئے اور یہ دو رکعتیں ادا نہ کر سکے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھ لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہو کرمیر ے گھر میں آئے تو ان کو ادا کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو وفات پانے تک تر ک نہیں کیا۔ عبد اللہ بن ابی قیس کہتے ہیں: پھر جب میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہم یہ نماز پڑھتے تو تھے، لیکن بعد میں اس کو ترک کر دیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یعنی جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کو وہ احادیث موصول ہوئیں، جن میں نماز عصر کے بعد نماز سے مطلق طور پر منع کیا گیا ہے تو انھوں نے ان دو رکعتوں کو ترک کر دیا تھا، بہرحال اثبات کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2073
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لاضطرابه۔ أخرجه اسحاق: 1668، 1669 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26062»
حدیث نمبر: 2074
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَتْ فَجَاءَتْهُ عِنْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَشُغِلَ فِي قِسْمَتِهِ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ صَلَّاهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن ابی موسیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو صدقہ وصول کرکے لیے بھیجا تھا، وہ آپ کے پاس ظہر کے وقت واپس آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی اور تقسیم میں مصروف ہوگئے، حتیٰ کہ آپ نے عصر کی نماز پڑھی، پھر وہ دو رکعتیں ادا کیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2074
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه البيھقي: 4/ 211 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25458»
حدیث نمبر: 2075
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: صَلَّى مَعَانَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَالْتَفَتَ فَإِذَا أُنَاسٌ يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَدَخَلَ وَدَخَلَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَا مَعَهُ فَأَوْسَعَ لَهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى السَّرِيرِ، فَجَلَسَ مَعَهُ، قَالَ: مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي رَأَيْتُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا وَلَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا؟ قَالَ: ذَٰكَ مَا يُفْتِيهِمُ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ فَسَلَّمَ فَجَلَسَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: يَا ابْنَ الزُّبَيْرِ! مَا هَٰذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تَأْمُرُ النَّاسَ يُصَلُّونَهَا؟ لَمْ نَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا وَلَا أَمَرَ بِهَا، قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهَا عِنْدَهَا فِي بَيْتِهَا، قَالَ: فَأَمَرَنِي مُعَاوِيَةُ وَرَجُلًا آخَرَ أَنْ نَأْتِيَ عَائِشَةَ فَنَسْأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا أَخْبَرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ عَنْهَا، فَقَالَتْ: لَمْ يَحْفَظِ ابْنُ الزُّبَيْرِ، إِنَّمَا حَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى هَٰتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي، فَسَأَلْتُهُ، قُلْتُ: إِنَّكَ صَلَّيْتَ رَكْعَتَيْنِ لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهِمَا؟ قَالَ: ((إِنَّهُ كَانَ أَتَانِي شَيْءٌ فَشُغِلْتُ فِي قِسْمَتِهِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَأَتَانِي بِلَالٌ فَنَادَانِي بِالصَّلَاةِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَحْبِسَ النَّاسَ فَصَلَّيْتُهُمَا))، قَالَ فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: أَلَيْسَ قَدْ صَلَّاهُمَا؟ فَلَا أَدَعُهُمَا، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: لَا تَزَالُ مُخَالِفًا أَبَدًا (وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّكَ لَمُخَالِفٌ، لَا تَزَالُ تُحِبُّ الْخِلَافَ مَا بَقِيتَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، جب مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ عصر کے بعد نماز پڑھ رہے تھے، وہ گھر چلے گئے اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس چلے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے لئے چار پائی پر جگہ بنائی اور وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے، انھوں نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے، جومیں نے لوگوں کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، حالانکہ نہ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا؟ انہوں نے کہا: لوگوں کو اس کا فتوی دینے والے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر ان کو بلایا گیا اور وہ آ گئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن زبیر! اس نماز کی کیا حقیقت ہے، جس کے پڑھنے کا آپ لوگوں کو حکم دیتے ہیں؟ ہم نے تو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا کوئی حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے تو ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے گھر میں ان کے پاس یہ نماز پڑھی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے اور ایک اور آدمی کو حکم دیا کہ ہم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاکر ان سے اس کے بارے میں دریافت کریں، پس میں سیدہ کے پاس پہنچا اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا اور ان کے حوالے جو بات سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کر رہے تھے، وہ ان کو بتادی، ، وہ کہنے لگیں: ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یاد نہیں رکھا، میں نے تو انہیں یہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کے بعد میرے پاس دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آج آپ نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، پہلے تو نہیں پڑھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس کوئی مال لایا گیا تھا اور میں اسے تقسیم کرنے کی وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے مشغول ہو گیا،اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ میرے پاس آ گئے اور انہوں نے نماز عصر کے لئے مجھے بلالیا، اس وقت میں نے ناپسند سمجھا کہ ان دو رکعتوں کیوجہ سے لوگوں کو روک لوں، اس لیے اب میں نے وہ دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ میں نے واپس آکر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ساری بات بتائی، لیکن سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، لہٰذا میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان سے کہنے لگے: آپ ہمیشہ مخالف ہی رہتے ہیں، جب تک آپ زندہ ہیں، آپ مخالفت کو ہی پسند کرتے رہیں گے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2075
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي، ولضعف شيخه حنظلة السدوسي، وقد اختلف فيه۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25506 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26021»
حدیث نمبر: 2076
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاتَتْهُ رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عصر سے پہلے والے دو رکعتیں رہ گئیں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو عصر کے بعد پڑھا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2076
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح لغيره، وتقدم ھذا الحديث بالفاظ مختلفة ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26832 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27369»
حدیث نمبر: 2077
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) ثُمَّ أَتْبَعَهُ رَجُلًا آخَرَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُجَهِّزُ بَعْثًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ، فَجَاءَ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَ يُقَسِّمُهُ بَيْنَهُمْ، فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقَ الْعَصْرَ وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَوْ فَعَلَ شَيْئًا يُحِبُّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز پڑھائی اور زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف (ایک آدمی) بھیجا اورپھر اس کے پیچھے ایک اور آدمی بھی بھیج دیا،میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک لشکر تیار کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سواریاں نہیں تھیں، لیکن اسی اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقے کی سواریاں لائی گئیں، آپ انہیں صحابہ میں تقسیم کرنے لگے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا، حتیٰ کہ عصر کا وقت ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر سے پہلے دو یا اس سے زائد رکعتیں، جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتیں، پڑھتے تھے، (اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رکعتیں ادا نہ کر سکے تھے) اس لیے جب عصر پڑھ کر واپس آئے تو وہ پہلے والی نماز ادا کی، اصل بات یہ تھی کہ جب آپ کوئی نماز پڑھتے یا کوئی کام کرتے تو اس پر ہمیشگی کرنا پسند فرماتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسرے شواہد کی بنا پر اس حدیث میں سے دو امور قابل حجت ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عصر کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی نماز پڑھتے یا کوئی اور کام شروع کرتے تو اس پر دوام کرنا پسند فرماتے تھے۔ کچھ صفحات پہلے اِس عنوان نفل نماز کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ یہ فرض نماز میں ہو جانے والی کمی پوری کرتی ہے مین یہ بات گزر چکی ہے کہ امام شوکانی کی جمع و تطبیق کے مطابق عصر سے پہلے والی دو سنتیں بھی سننِ رواتب میں داخل ہیں، اس لیے جیسے فجر اور ظہر سے پہلے والی سنتیں رہ جائیں اور بعد میں ان کو ادا کیا جاتا ہے، اسی طرح عصر کا مسئلہ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2077
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صلاته صلي الله عليه وآله وسلم ركعتين بعد العصر: صحيح، وقولھا: وكان اذا صلي صلاة، او فعل شيئا،يحب ان يداوم عليه: صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف حنظلة السدوسي۔ أخرجه ابويعلي: 7085، 7111، والطبراني في الكبير : 24/ 69، وفي الاوسط : 931 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27376»