کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: ظہر کی سننِ رواتب اور ان کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 2056
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ أَرْبَعًا وَيَقُولُ: ((إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ فَأُحِبُّ أَنْ أُقَدِّمَ فِيهَا عَمَلًا صَالِحًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے لیکن زوال کے بعد چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور فرماتے تھے: اس وقت آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس میں نیک عمل آگے بھیجوں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2056
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 478 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15471»
حدیث نمبر: 2057
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَدَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا هَٰذِهِ الرَّكَعَاتُ الَّتِي أَرَاكَ قَدْ أَدَامْتَهَا؟ قَالَ: ((إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ فَلَا تُرْتَجُ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ فَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا خَيْرٌ)) قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَقْرَأُ فِيهِنَّ كُلَّهُنَّ؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: قُلْتُ: فَفِيهَا سَلَامٌ فَاصِلٌ؟ قَالَ: ((لَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد ہمیشہ چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے، ایک دن میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ رکعتیں کیسی ہیں کہ آپ دوام کے ساتھ ان کو ادا کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زوالِ آفتاب کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر اس وقت تک بند نہیں ہوتے، جب تک نماز ِ ظہر نہ پڑھ لی جائے، تو میں پسند کرتا ہوں کہ میرا نیک عمل اس میں بلند ہو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ان ساری رکعتوں میں قراءت کرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ میں نے کہا: ان میں فاصلہ کرنے والا سلام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2057
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناده ضعيف لضعف عبيدة، ولاضطرابه۔ أخرجه ابن ماجه: 1157 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23532 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23929»
حدیث نمبر: 2058
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ تُدِيمُ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ((إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَرْتَفِعَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ ظہر سے پہلے دوام کے ساتھ چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے، کسی نے ان سے کہا: آپ بڑی باقاعدگی کے ساتھ یہ نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ عمل کرتے ہوئے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسی گھڑی ہے کہ جس میں آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور میں پسند کرتا ہوں کہ میرانیک عمل اس وقت میں بلند ہو۔
وضاحت:
فوائد: … فاصلہ کرنے والے سلام سے مراد یہ ہے چار رکعتوں کو دو دو رکعتیں کر کے ادا کیا جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اکٹھا ادا کرنے کی تعلیم دی ہے، یہ بات علیحدہ ہے کہ ان سنتوں کو دو دو رکعت کر کے بھی ادا کیا جاسکتا ہے، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((صَلَاۃُ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ مَثْنٰی مَثْنٰی۔)) … رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔
امام البانی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے، میں نے اس کی تخریج (صحیح ابی داود: ۱۱۷۲) اور (الحوض المورود فی زوائد منتقی ابن الجارود: ۱۲۳) میں کی ہے۔ اس باب کی حدیث سے چار رکعت سنت کو ایک سلام کے ساتھ اور اس حدیث سے دو سلاموں کے ساتھ پڑھنا ثابت ہوتا ہے، ان کے مابین جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ
باب کی حدیث کو جواز پر اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث کو افضلیت پر محمول کیا جائے، جیسا کہ رات کی نفلی نماز کا معاملہ ہے۔ واللہ اعلم۔ (صحیحہ: ۲۳۷) یعنی چار رکعت سنتوں کو ایک سلام کے ساتھ بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور دو دو رکعت کر کے بھی۔ شیخ البانی کی اس باب کی حدیث سے مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عصر سے پہلے والی چار سنتیں ایک سلام کے ساتھ ادا کی جائیں،یہ حدیث کچھ صفحات پہلے اس عنوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان میں گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2058
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سيء الحفظ، وعلي بن الصلت مجھول۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/199، وابن خزيمة: 1215، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23947»
حدیث نمبر: 2059
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَافَرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَفَرًا فَلَمْ أَرَهُ تَرَكَ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اٹھارہ سفر کیے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر سے پہلے دو رکعتوں کو ترک کیا ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2059
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لجھالة ابي بسرة الغفاري، قال الذھبي: لا يعرف۔ أخرجه ابوداود: 1222، والترمذي: 550 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18583 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18784»
حدیث نمبر: 2060
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَعُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ عَلَى حَالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی حالت میں بھی ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2060
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1182 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24340 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24844»