کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے نفل اور فرضوں کی سنتوں کا جامع بیان
حدیث نمبر: 2043
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا)) وَفِي لَفْظٍ: ((صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2043
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 432،1187 ومسلم: 777 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4511، 4653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4653»
حدیث نمبر: 2044
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا)) وَفِي لَفْظٍ: ((صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا)) ٭
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی نمازوں کا کچھ حصہ گھروں میں بھی ادا کیا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ ایک روایت میں ہے: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور ان کو قبریں نہ بنا لو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2044
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 432،1187 ومسلم: 777 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4511، 4653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4653»
حدیث نمبر: 2045
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ تَطَوُّعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ، قَالَ: قُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِهِ، نَأْخُذْ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ أَمْهَلَ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَٰهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً تَطَوُّعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالنَّهَارِ وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عاصم بن ضمرۃ کہتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دن کے وقت کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: تم تو اس کی ادائیگی کی طاقت ہی نہیں رکھتے۔ ہم نے کہا: آپ ہمیں بتا تو دیں، جتنی طاقت ہم میں ہوئی، ہم اس کے مطابق عمل کریں گے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ لیتے تو ٹھہر جاتے حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کی نماز کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے، اس وقت آپ اٹھ کر دو رکعتیں پڑھتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر جاتے، حتیٰ کہ جب سورج مشرق کی سمت میں وہاں آ جاتا، جہاں ظہر کے وقت مغرب میں ہوتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار رکعت ادا کرتے، پھر چار رکعتیں ظہر سے پہلے پڑھتے، جبکہ سورج ڈھل چکا ہوتا تھا، ظہر کے بعد دو رکعتیں اورعصر سے پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے درمیان مقرب فرشتوں، نبیوں اور ان کی پیروی کرنے والے مومنوں اور مسلمانوں کے لیے سلامتی کی دعا کرنے کے ساتھ فرق کرتے (یعنی سلام پھیرتے)۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سولہ رکعتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دن کے وقت نفل نماز ہے اور ایسے لوگ کم ہی ہیں، جو ان پر ہمیشگی کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2045
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه ابن ماجه: 1161، والترمذي: 424، 429، والنسائي: 2/ 120 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 650»
حدیث نمبر: 2046
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لِأَبِي إِسْحَاقَ حِينَ حَدَّثَهُ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ! يَسْوَى حَدِيثُكَ هَٰذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ ذَهَبًا، (وَفِي لَفْظٍ:) قَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ! مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِحَدِيثِكَ هَٰذَا مِلْءَ مَسْجِدِكَ هَٰذَا ذَهَبًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! اے ابو اسحاق! آپ کی یہ حدیث تو آپ کی سونے سے بھری ہوئی مسجد کے برابر ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: حبیب بن ابی ثابت نے کہا: اے ابو اسحاق! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میرے لئے آپ کی اس حدیث کے بدلے سونے سے بھری ہوئی مسجد ہو۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2046
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1208»
حدیث نمبر: 2047
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ التَّطَوُّعِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَبِالنَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اور اس سے یہ بھی روایت ہے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے وقت نوافل آٹھ رکعت اور دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ابو اسحاق سے صحیح اسانید سے مروی روایات میں دن میں سولہ رکعت نفلی نماز کا ذکر ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۹۳۵) میں گزر چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2047
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «سعيد بن خثيم وفضيل بن مرزوق صدوقان يھمان۔ أخرجه ابويعلي: 495 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1261 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1261»
حدیث نمبر: 2048
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى كُلِّ إِثْرِ صَلَاةٍ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ) مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2048
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1012، 1226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1226»
حدیث نمبر: 2049
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِي بَيْتِهِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حِينَ يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَيُنَادِي الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ قَالَ أَيُّوبُ (أَحَدُ الرُّوَاةِ) أُرَاهُ قَالَ خَفِيفَتَيْنِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فِي بَيْتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعت، اس کے بعد دو رکعت، مغرب کے بعد دو رکعت گھر میں، عشاء کے بعد دو رکعت گھر میں نماز پڑھی، اور مجھے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوجاتی اور مؤذن نماز کے لئے اذان کہہ دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں ادا کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں گھر میں پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2049
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مطولا و مختصرا البخاري: 1165، 1180، ومسلم:882، وابوداود: 1128، والترمذي: 425، 432، والنسائي: 3/ 113 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4506، 4591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4506»
حدیث نمبر: 2050
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الظُّهْرِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْعِشَاءِ سَجْدَتَيْنِ وَبَعْدَ الْجُمُعَةِ سَجْدَتَيْنِ، فَأَمَّا الْجُمُعَةُ وَالْمَغْرِبُ فِي بَيْتِهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، قَالَ وَكَانَتْ سَاعَةً لَا أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو ،اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ اور مغرب کے بعد والی نماز گھر میں پڑھتے تھے۔ اور مجھے میری بہن سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب فجر طلوع ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلکی پھلکی دو رکعتیں پڑھتے تھے، یہ ایسی گھڑی تھی کہ میں اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نہیں جاتاتھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2050
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1172، ومسلم: 729، ورواية البخاري: فأما المغرب والعشاء ففي بيته، ورواية مسلم: فأما المغرب والعشاء والجمعة، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4660»
حدیث نمبر: 2051
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ظہر سے پہلے دو، اس کے بعد دو، مغرب کے بعد دو، عشاء کے بعد دو اور فجر سے پہلے دو رکعتیں،یہ ایسی نماز تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس کو ترک نہیں کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ظہر سے پہلے دو سنتیں ثابت ہو رہی ہے، اگلے باب کی آخری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ظہر سے پہلے چار سنتیں پڑھا کرتے تھا، اب اِس سے مراد یہ ہے کہ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ہی ادا کرتے تھے یا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو صرف دو رکعتوں کا علم ہو سکا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار ہی پڑھا کرتے تھے، یہ دونوں احتمال ممکن ہیں، بہرحال چار کی افضلیت مسلّم ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2051
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، انظر الحديث السابق: 938 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5127 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5127»
حدیث نمبر: 2052
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِهِ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٍ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٍ وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٍ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٍ وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفل نماز کے بارے میں پوچھا،انہوں نے کہا: آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھ کر نکلتے تھے، پھر لوگوں کو نماز پڑھا کر میرے گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر میں واپس آتے اور دو رکعت نماز پڑھتے،پھر آپ عشاء کی نماز پڑھاکر میرے گھر میں داخل ہوتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو وتر سمیت نو رکعت نماز پڑھتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کافی وقت کھڑے ہو کر اور کافی وقت بیٹھ کر نماز پڑھتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو کر قراءت کر رہے ہوتے تو رکوع اور سجدہ بھی کھڑے ہوکر ہی ادا کرتے تھے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع اور سجدہ بھی بیٹھ کر ہی اداکرتے اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعت نماز ادا کر کے چلے جاتے اور جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2052
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بتمامه ومختصرا مسلم: 730 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24019 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24520»
حدیث نمبر: 2053
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَثِنْتَيْنِ بَعْدَهَا، وَثِنْتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ، وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا، قُلْتُ أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا، قُلْتُ كَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَائِمًا وَكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَاعِدًا؟ قَالَتْ: إِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے چار،اس کے بعد دو، عصر سے پہلے دو، مغرب کے بعد دو اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اوررات کو نو رکعت نماز ادا کرتے تھے۔میں نے کہا: کھڑے ہو کر پڑھتےیا بیٹھ کر؟ انہوں نے کہا: کافی دیر کھڑے ہوکر اور کافی دیر بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، میں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوکر اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو کیسے کرتے؟ انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوکر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر کرتے اور جب بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے اور نمازِ فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سجدے تو بیٹھ کر ہی کیے جاتے ہیں، اس حدیث میں سجدوں سے پہلے والی کیفیت بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھڑے ہوتے یا بیٹھے ہوتے۔ لیکنیہ بھی سنت ہے کہ بیٹھ کر قراء ت شروع کی جائے، پھر اسی رکعت میں کھڑے ہو کر کچھ تلاوت کر کے رکوع و سجود کیے جائیں، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَمَّا بَدَّنَ وَثَقُلَ یَقْرَأُ مَا شَائَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَھُوَ جَالِسٌ فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّوْرَۃِ ثَلَاثُوْنَ أَوْأَرْبَعُوْنَ آیَۃً قَامَ فَقَرَأَھَا ثُمَّ سَجَدَ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عمر رسیدہ اور بھاری ہوگئے، تو جتنی اللہ تعالیٰ چاہتا آپ بیٹھ کر تلاوت کرتے اور جب سورت کی تیسیا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے اور ان کی تلاوت کر کے پھر سجدہ کرتے۔ (بخاری: ۱۱۴۸، مسلم: ۷۳۱)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2053
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26339»
حدیث نمبر: 2054
عَنْ قَابُوسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ أَبِي امْرَأَةً إِلَى عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا أَيُّ الصَّلَاةِ كَانَتْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَأَمَّا مَا لَمْ يَكُنْ يَدَعُ صَحِيحًا وَلَا مَرِيضًا وَلَا غَائِبًا وَلَا شَاهِدًا، فَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
قابوس کے باپ نے ایک عورت کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے یہ پوچھ کر آئے کہ کون سی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تھی کہ آپ اس پر ہمیشگی کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے اور ان میں لمبا قیام کرتے اور اچھے انداز میں رکوع و سجود ادا کرتے، رہا مسئلہ اس نماز کا کہ جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تندرستی کی حالت میں، بیماری کی حالت میں، اور سفر میں اور حضر میں نہ چھوڑتے ہوں، وہ فجر سے پہلے والی دو رکعتیں ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2054
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة المرأة التي أرسلھا والد قابوس، وقابوس فيه لين، وقال ابن حبان: كان رديء الحفظ، ينفرد عن أبيه بما لا أصل له۔ أخرجه الطيالسي: 1575، وأخرجه مختصرا ابن ماجه: 1156، وابن ابي شيبة: 2/ 200 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24665»
حدیث نمبر: 2055
عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْمَوْتُ، اشْتَدَّ جَزَعُهُ، فَقِيلَ لَهُ: مَا هَٰذَا الْجَزَعُ؟ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ يَعْنِي أُخْتَهُ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ)) فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
حسان بن عطیہ کہتے ہیں: جب عنبسہ بن ابی سفیان کی موت کا وقت آیا تو ان کی گھبراہٹ بڑھ گئی، کسی نے ان سے کہا: یہ گھبراہٹ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اپنی بہن سیدہ ام حبیبہ سے سنا ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار اورا س بعد چار رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے گوشت کو آگ پر حرام کردے گا۔ اور میں نے جب سے ان سے یہ حدیث سنی ہے، ان آٹھ رکعتوں کو ترک نہیں کیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ صحیح ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی صورت میں ظہر سے پہلے چار اور فجر سے پہلے دو سنتیں نہیں چھوڑا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری: ۱۱۸۲، مسند احمد: ۲۴۳۴۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2055
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 428، والنسائي: 3/264، 265 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27300»