حدیث نمبر: 2036
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ حِينَئِذٍ فَلْيُصَلِّ فِي بَيْتِهِ رَكْعَتَيْنِ، وَلْيَجْعَلْ فِي بَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں نماز ادا کرلے، تو پھر وہ اپنے گھر واپس جائے تو اپنے گھر میں دو رکعتیں ادا کرے، بندے کو چاہیے کہ گھر میں بھی نفل نماز پڑھتا رہا کرے،کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں اس کی نماز کی وجہ سے خیر و برکت نازل کرتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اللہ تعالیٰ کے ذکر سے گھروں میں برکت ہوتی ہے اور نماز، ذکر الٰہی کا سب سے عظیم ذریعہ ہے، کئی احادیث میں گھروںمیں نماز پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، اس سے مراد نفلی نماز ہے، تاکہ گھروں میں خیر و برکت نازل ہو،رحمت والے فرشتوں کا نزول ہو اور عمل مخفیہو اور ریاکاری کا خطرہ کم ہو جائے۔
حدیث نمبر: 2037
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ الصَّلَاةَ فِي مَسْجِدِهِ فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں نماز پڑھ لے تو وہ اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے بھی رکھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے گھر میں اس کی نماز کی وجہ سے خیر و بھلائی کرے گا۔
حدیث نمبر: 2038
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ! فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ فرض نماز کے علاوہ آدمی کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں پڑھی جانے والی ہے۔
حدیث نمبر: 2039
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو اور انہیں قبریں نہ بنا دو۔
وضاحت:
فوائد: … گھروں کو قبریں نہ بناؤ۔ اس کے دو مفہوم ہیں: (۱)مردوں کی طرح نہ ہو جاؤ، جو اپنی قبروں میں نماز نہیں پڑھ سکتے۔ (۲)جو آدمی اپنے گھر میں نفلی نماز نہیں پڑھے گا، اس نے اپنے آپ کو میت اور اپنے گھر کو قبر بنا دیا ہے۔
ان الفاظ کا ظاہری مفہوم بھی مراد لیا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں فوت شدگان کو دفن نہ کرو اور اس طرح ان کو قبرستان نہ بنائو۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری (ج ۱، ص: ۵۲۹) مین یہ مفہوم نقل کر کے فرمایا ہے کہ الفاظِ حدیث کا ظاہر یہی ہے، خاص کر جب اس حدیث کے پہلے الفاظ ((اِجْعَلُوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلٰوتِکُمْ)) کو دوسرے جملے سے الگ سمجھا جائے۔ (عبداللہ رفیق)
ان الفاظ کا ظاہری مفہوم بھی مراد لیا گیا ہے کہ اپنے گھروں میں فوت شدگان کو دفن نہ کرو اور اس طرح ان کو قبرستان نہ بنائو۔ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ علیہ نے فتح الباری (ج ۱، ص: ۵۲۹) مین یہ مفہوم نقل کر کے فرمایا ہے کہ الفاظِ حدیث کا ظاہر یہی ہے، خاص کر جب اس حدیث کے پہلے الفاظ ((اِجْعَلُوْا فِیْ بُیُوْتِکُمْ مِنْ صَلٰوتِکُمْ)) کو دوسرے جملے سے الگ سمجھا جائے۔ (عبداللہ رفیق)
حدیث نمبر: 2040
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ((اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَجْعَلُوهَا عَلَيْكُمْ قُبُورًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھروں میں نماز ادا کیاکرو اور انہیں قبریں نہ بنا دو۔
حدیث نمبر: 2041
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْبَيْتِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَّا الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ وَالصَّلَاةُ فِي بَيْتِي فَقَدْ تَرَى مَا أَقْرَبَ بَيْتِي مِنَ الْمَسْجِدِ، وَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گھر میں اور مسجد میں نماز کے بارے میں پوچھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں نماز اور گھر میں نماز، تودیکھتا تو ہے کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے،لیکن مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مسجد میں نماز پڑھنے سے زیادہ محبوب ہے، الّا یہ کہ وہ فرض نماز ہو۔
حدیث نمبر: 2042
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ تَطَوُّعًا نُورٌ فَمَنْ شَاءَ نَوَّرَ بَيْتَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندے کا اپنے گھر میں نفل نماز ادا کرنا نور ہے، جو چاہتا ہے، اپنے گھر کو منور اور روشن کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … عصر حاضر میں لوگ دو گروہوں میں منقسم ہو چکے ہیں، کچھ جدت پرستوں کی مساجد سے لاتعلق اور بیزارییوں لگتی ہے کہ شاید وہ مسجد کو گرجا گھر سمجھ بیٹھے ہیں اور بعض لوگ فرضی اور نفلی تمام نمازوں کے لیے مسجد کا ہی تعین کرتے ہیں،یہ دونوں گروہ راہِ اعتدال سے منحرف ہو کر افراط و تفریط کا شکار ہیں، چاہئے یہ کہ فرضی نمازوں کے لئے بہر صورت اللہ تعالیٰ کی مساجد کا اہتمام کیا جائے اور نفلی نمازوں کے لیے گھروں کو اور مخفی مقامات، جہاں کوئی دیکھنے والا نہ ہو، کو ترجیح دی جائے، اس موقع پر درج ذیل حدیث ذہن نشین رکھی جائے: ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: تَطَوُّعُ الرَّجُلِ فِی بَیْتِہٖیَزِیْدُ عَلٰی تَطَوُّعِہٖعِنْدَالنَّاسِ،کَفَضْلِصَلاَۃِ الرَّجُلِ فِی جَمَاعَۃٍ عَلٰی صَلاَتِہٖوَحْدَہٗ۔ (مصنفعبدالرزاق:۳/۷۰/۴۸۳۵، ابن أبي شیبۃ: ۲/۲۵۶، صحیحہ: ۳۱۴۹) یعنی: آدمی کا گھر میں نفلی نماز پڑھنے کا ثواب لوگوں کے پاس پڑھنے کی بہ نسبت اتنا زیادہ ہے جتنا کہ اکیلی فرضی نماز کے مقابلے میں باجماعت نماز کا اجرو ثواب ہے۔ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کا حکم مرفوع کا ہے، کیونکہ اس کا اجتہاد اور ذاتی رائے سے کوئیتعلق نہیں ہے۔