حدیث نمبر: 2029
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا مِنَ الْمَسْجِدِ) فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ، حَتَّى خِفْتُ أَوْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ تَوَفَّاهُ أَوْ قَبَضَهُ، قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: ((مَا لَكَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ؟)) قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: ((إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ قَالَ لِي: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا اور جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسجد میں سے نکلتے ہوئے دیکھا، تو میں آپ کے پیچھے ہو لیا،حتیٰ کہ آپ نے کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہوکر سجدہ کیا اور اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے یہ خوف آنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فوت کر دیا ہے، پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آیا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا: اے عبدالرحمن! تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سن کر فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: کیا میں آپ کو یہ خوشخبری نہ دوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا ہے کہ جو آپ پر درود پڑے گا، میں اس پر رحمت نازل کروں گا اور جو آ پ پر سلام بھیجے گا، میں اس پر سلامتی نازل کروں گا۔
حدیث نمبر: 2030
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَوَجَّهَ نَحْوَ صَدَفَتِهِ فَدَخَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَبَضَ نَفْسَهُ فِيهَا، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَجَلَسْتُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: ((مَنْ هَٰذَا؟)) قُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ((مَا شَأْنُكَ؟)) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! سَجَدْتَّ سَجْدَةً خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبَضَ نَفْسَكَ فِيهَا، فَقَالَ: ((إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَبَشَّرَنِي فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَسَجَدْتُّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شُكْرًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند کھجوروں کی طرف نکلے، ان میں داخل ہوئے اورقبلہ رخ ہو کر سجدہ میں گر پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا لمبا سجدہ کیاکہ مجھے تو یہ گمان ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کرلی ہے، بہرحال میں آپ کے قریب ہو کر بیٹھ گیا اور اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر اٹھا لیا اور فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: عبدالرحمن ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا سجدہ کیا ہے کہ میں ڈر گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت کر دیا ہے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے یہ خوشخبری دی: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جو آدمی آپ کے لیے رحمت کی دعا کرے گا، میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو آپ پر سلام بھیجے گا، میں بھی اس پر سلام بھیجوں گا، تو میں نے اللہ تعالیٰ کے لئے شکرانے کے طور پر سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 2031
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَشِيرٌ يُبَشِّرُهُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَهُ عَلَى عَدُوِّهِ وَرَأْسُهُ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُسَائِلُ الْبَشِيرَ فَأَخْبَرَهُ فِيمَا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَلِيَ أَمْرِهِمُ امْرَأَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْآنَ هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءُ، هَلَكَتِ الرِّجَالُ إِذَا أَطَاعَتِ النِّسَاءُ)) ثَلَاثًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ ایک بشارت دینے والا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خوشخبری دینے آیا تھا کہ آپ کا لشکر دشمن پر غالب آ گیا ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی گود میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کر سجدہ کی حالت میں گر گئے، پھر بشارت دینے والے سے سوال و جواب کرنے لگے، اس نے مختلف باتیں بتائیں، ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کے حکومتی معاملات کی والی ایک عورت بن گئی ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب وہ مرد ہلاک ہوگئے، جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگ گئے، وہ مرد ہلاک ہوگئے جو عورتوں کی اطاعت کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دفعہ یہ ارشاد دہرایا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ سجدہ کسی نعمت کے حصول، مصیبت و تکلیف سے چھٹکارے اور خوشی و مسرت کے موقع پر کیا جاتا ہے۔