حدیث نمبر: 2023
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفُضِّلَتْ سُورَةُ الْحَجِّ عَلَى سَائِرِ الْقُرْآنِ بِسَجْدَتَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلَا يَقْرَأْهُمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا سورۂ حج کو دو سجدوں کی وجہ سے باقی قرآن پر فضیلت دی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اورجو یہ سجدے نہ کرے، وہ اس کی تلاوت بھی نہ کرے۔
وضاحت:
فوائد: … کئی صحابہ سے مروی ہے کہ سورۂ حج میں دوسجدے ہیں، دیکھیں: مصنف ابن ابی شیبہ: ۲/ ۱۱، مستدرک حاکم: ۲/ ۳۹۰
حدیث نمبر: 2024
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِي ص
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا آپ نے سورۂ ص میں سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 2025
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ قَالَ فِي السُّجُودِ فِي ص: لَيْسَتْ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُودِ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، انہوں نے سورۂ ص کے سجدہ کے بارے میں کہا: یہ ضروری سجدوں میں سے نہیں ہے، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … ((لیست من عزائم السجود)) (ضروری سجدوں میں سے نہیں ہے) کا مفہوم یہ ہے کہ امر وغیرہ کا صیغہ استعمال کر کے عزیمت کے طور پر اس سجدے کا حکم نہیں دیا گیا، دراصل بات یہ ہے کہ مستحبّات کی بعض اقسام بعض سے زیادہ تاکید والی ہوتی ہیں، لیکنیہ ان حضرات کیرائے ہے جو وجوب کے قائل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2026
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) سَجَدَ فِي ص
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سائب بن یزیدسے روایت ہے کہ سیدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سورۂ صٓ میں سجدہ کیا۔
حدیث نمبر: 2027
عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ السَّجْدَةِ الَّتِي فِي ص، فَقَالَ نَعَمْ، سَأَلْتُ عَنْهَا ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَتَقْرَأُ هَٰذِهِ الْآيَةَ؟ (وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ) وَفِي آخِرِهَا (فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ) قَالَ أُمِرَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْتَدِيَ بِدَاوُدَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
عوّام بن حوشب کہتے ہیں: میں نے مجاہد سے سورۂ ص والے سجدے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: جی ہاں، یہ سجدہ ہے، اور میں نے اس کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا تھا: کیا تو یہ آیت پڑھتا ہے: {وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاودَ وَ سُلَیمَانَ}، اسی کے آخر میں ہے: {فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ} (اے محمد! آپ بھی ان کی ہدایت کی پیروی کریں)۔ دیکھیں کہ تمہارے نبی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ داود علیہ السلام کی پیروی کریں۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سورۂ حج میں دو سجدے ہیں اور سورۂ ص میں ایک، لہٰذا احناف اور شوافع کی رائے درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 2028
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى رُؤْيَا أَنَّهُ يَكْتُبُ ص فَلَمَّا بَلَغَ إِلَى سَجْدَتِهَا، قَالَ: رَأَى الدَّوَاةَ وَالْقَلَمَ وَكُلَّ شَيْءٍ بِحَضْرَتِهِ انْقَلَبَ سَاجِدًا، قَالَ فَقَصَّهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يَسْجُدُ بِهَا بَعْدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہ خواب دیکھا کہ وہ سورۂ ص لکھ رہے ہیں، جب اس کی سجدہ والی آیت کے پاس پہنچے تو انہوں نے دوات،قلم اور اپنے پاس والی ہر چیز کودیکھا کہ وہ سجدے کی حالت میں ہو گئی، پھر جب انہوں نے یہ خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں سجدہ کرنا شروع کر دیا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو منقطع ہے، لیکن اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل دو روایات صحیح ہیں: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رَاَیْتُ فِیْمَایُرٰی النَّائِمُ کَاَنِّي تَحْتَ شَجَرَۃٍ، وَکَأَنَّ الشَّجَرَۃُ تَقْرَأُ ص۔ فَلَمَّا اَتَتْ عَلَی السَّجْدَۃِ سَجَدَتْ،فَقَالَتْ فِي سُجُوْدِھَا: اَللّٰھُمَّ اکْتُبْ لِي بِھَا اَجْرًا، وَحُطَّ عَنِّي بِھَا وِزْرًا، وَاَحْدِثْ لِي بِھَا شُکْرًا، وَتَقَبَّلْھَا مِنِّيْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِکَ دَاوٗدَسَجْدَتَہُ۔فَلَمَّااَصْبَحْتُغَدَوْتُعَلَی النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَاَخْبَرْتُہُ بِذٰلِکَ،فَقَالَ: ((سَجَدَتَّ اَنْتَ یَا اَبَاسَعِیْدٍ؟)) فَقُلْتُ: لَا۔ قَالَ: ((اَنْتَ کُنْتَ اَحَقَّ بِالسُّجُوْدِ مِنَ الشَّجَرَۃِ۔)) فَقَرَاَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سُوْرَۃَ ص حَتّٰی اَتٰی عَلَی السَّجْدَۃِ،فَقَالَ فِي سُجُوْدِہِ مَاقَالَتِ الشَّجَرَۃُفيِ سُجُوْدِھَا۔ … میں نے خواب دیکھا جیسا کہ سونے والا دکھایا جاتا ہے کہ میں ایک درخت کے نیچے ہوں اور درخت سورۂ ص کی تلاوت کر رہا ہے، جب اس نے سجدہ والی آیت پڑھی تو اس نے سجدۂ تلاوت کیا اور اس مین یہ دعا پڑھی: اے اللہ! میرے لیے اس سجدے کی وجہ سے اجر لکھ، اس کے ذریعے مجھ سے گناہ دور کر دے، اس کے ذریعے مجھے شکر کرنے کی از سرِ نو توفیق دے اور یہ سجدہ مجھ سے اس طرح قبول کر، جس طرح کہ تو نے اپنے بندے داود (علیہ السلام) سے قبول کیا تھا۔ جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! کیا تو نے بھی سجدہ کیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو درخت کی بہ نسبت سجدہ کرنے کا زیادہ حقدار تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ ص کی تلاوت کی،یہاں تک کہ سجدہ والی آیت تک پہنچے، (پھر سجدہ کیا اور) اس میں وہی دعا پڑھی جو درخت نے پڑھی تھی۔ (مسند ابو یعلی: ۱/۲۹۸، معجم اوسط: رقم ۴۹۰۴، صحیحہ: ۲۷۱۰) عَنْ اَبِيْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللہ عنہ اَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کُتِبَتْ عِنْدَہٗسُوْرَۃُ النَّجْمِ، فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَۃَ سَجَدَ، وَسَجَدْنَا مَعَہُ، وَسَجَدتِ الدَّوَاۃُ وَالْقَلَمُ۔ … سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سورۂ نجم لکھی گئی، جب سجدہ والی آیت تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے سجدہ کیا اور دوات اور قلم نے بھی سجدہ کیا۔ (مسند بزار:۱/۳۶۰/۷۵۳، صحیحہ:۳۰۳۵) دراصل کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتی ہے اور اس کی تسبیح و تعریف بیان کرتی ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوَاتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ} (سورۂ نحل: ۴۹) … آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے۔ مزید ارشاد فرمایا: {وَاِنْ مِنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لَا تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ} (سورۂ اسرائ: ۴۴) … ہر چیز اس کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے، لیکن تم لوگ ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ پاتے۔ انسان کے سامنے جتنی مخلوقات ہیں، وہ ان کی بندگی کا یہ انداز نہیں سمجھ سکتے، بسا اوقات اللہ تعالیٰ معجزانہ طور پر یہ دکھا دیتے ہیں، جیساکہ ان احادیث سے پتہ چل رہا ہے۔