حدیث نمبر: 2015
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ فَيَقْرَأُ السَّجْدَةَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم پر سجدۂ تلاوت والی سورت کی تلاوت کرتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں نہیں ہوتے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدۂ تلاوت کرتے تو ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سجدہ کرتے، حتیٰ کہ ہم میں سے بعض افراد اپنا ماتھا نیچے رکھنے کے لئے جگہ بھی نہیں پاتے تھے۔
حدیث نمبر: 2016
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ فَإِذَا مَرَّ بِسُجُودِ الْقُرْآنِ سَجَدَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں قرآن کی تعلیم دیتے، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کی سجدے والی آیت سے گزرتے تو سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … سجدۂ تلاوت، تلاوت کرنے والے اور سننے والے دونوں کے لیے مشروع ہے۔