کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سجدۂ تلاوت میں کیا پڑھا جائے؟
حدیث نمبر: 2012
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ: ((سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قرآن کے سجدہ میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے: سَجَدَ وَجہِیَ لِلَّذیْ خَلَقَہٗوَشَقَّسَمعَہُوَبَصَرَہُبِحَوْلِہٖوَقُوَّتِہٖ۔ (میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اپنی طاقت اور قوت سے اس کے کان اور نظر کو کھولا)۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں سجدۂ تلاوت کی اس دعا کا ذکر ہے: سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہٗوَشَقَّسَمْعَہٗوَبَصَرَہٗبِحَوْلِہٖوَقُوَّتِہٖ،فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔ (ترمذی، مسند احمد) آخری الفاظ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ مستدرک حاکم میں زائد ہیں۔ دوسری دعا: سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک درخت کے نیچے ہوں اور درخت سورۂ
ص کی تلاوت کر رہا ہے، جب اس نے سجدہ والی آیت پڑھی تو اس نے سجدۂ تلاوت کیا اور اس مین یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ اکْتُبْ لِي بِھَا اَجْرًا، وَحُطَّ عَنِّيْ بِھَاوِزْرًا، وَاَحْدِثْ لِيْ بِھَا شُکْرًا، وَتَقَبَّلْھَا مِنِّیْ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ عَبْدِکَ دَاوُدَ۔ اے اللہ! میرے لیے اس سجدے کی وجہ سے اجر لکھ، اس کے ذریعے مجھ سے گناہ دور کر دے، اس کے ذریعے مجھے شکر کرنے کی از سرِ نو توفیق دے اور یہ سجدہ مجھ سے اس طرح قبول کر، جس طرح کہ تو نے اپنے بندے داود(علیہ السلام) سے قبول کیا تھا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو سعید! کیا تو نے بھی سجدہ کیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو درخت کی بہ نسبت سجدہ کرنے کا زیادہ حقدار تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ ص کی تلاوت کی،یہاں تک کہ سجدہ والی آیت تک پہنچے، (پھر سجدہ کیا اور) اس میں وہی دعا پڑھی جو درخت نے پڑھی تھی۔ (مسند أبو یعلی۱/۲۹۸، معجم اوسط: رقم ۴۹۰۴، صحیحہ: ۲۷۱۰)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2012
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، خالد بن مھران الحذاء لم يسمع ابا العالية، بينھما رجل مبھم كما في الرواية: 25821۔ أخرجه ابوداود: 1414، والترمذي: 580، 3425، والنسائي: 2/ 222 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24523»