کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: سجدہ تلاوت کی فضیلت اور اس کے مقامات کی تعداد کا بیان
حدیث نمبر: 2010
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ، أُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَعَصَيْتُ فَلِيَ النَّارُ)) (مسند أحمد: 9711)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب انسان سجدہ والی آیت پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان علیحدہ ہوکر روتا ہے اورکہتا ہے: ہائے افسوس ! اس انسان کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا،اس نے سجدہ کیا، پس اس کے لئے جنت ہے اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا، لیکن میں نے نافرمانی کی، سو میرے لئے آگ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2010
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 81 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9713 ترقیم بيت الأفكار الدولية:9711»
حدیث نمبر: 2011
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَجَدْتُّ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً، مِنْهَا سَجْدَةُ النَّجْمِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو الدردا رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے، ان میں سے ایک سجدہ سورۂ نجم کا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال سورۂ نجم، سجدۂ تلاوت پر مشتمل ہے، جیسا کہ دوسری روایات سے واضح ہوتا ہے، سجدۂ تلاوت مستحب ہے، اس حکم کی وضاحت اگلے ابواب میں آ رہی ہے اور راجح قول کے مطابق سجدۂ تلاوت کے باوضو یا قبلہ رخ ہونا شرط نہیں ہے، نیزیہ سجدہ اسی وقت کرنا مسنون ہے، جب اس سجدے والی آیت تلاوت کی جائے۔ قرآن مجید کے سجودِ تلاوت کی تعداد کے بارے میں درج ذیل اختلا ف ہے۔ امام ابوحنیفہ: کل چودہ سجدے ہیں، ان کے نزدیک سورۂ حج کا دوسرا سجدہ نہیں ہے۔
امام شافعی: کل چودہ سجدے ہیں، ان کے نزدیک سورۂ ص کا سجدہ، سجدۂ تلاوت نہیں ہے، بلکہ صرف سجدۂ شکر ہے۔
امام مالک: کل گیارہ، ان کے نزدیک مفصلات سورتوں کے سجدے اور سورۂ حج کا دوسرا سجدہ نہیں ہے۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سورۂ ص کا سجدہ، سورۂ حج کا دوسرا سجدہ اور مفصلات سورتوں کے سجدے آنے والے اور دیگر دلائل سے ثابت ہیں، اس طرح قرآن مجید میں کل پندرہ سجدے بنتے ہیں،یہ امام احمدکا قول ہے اور یہی راجح ہے، ہمارے ہاں چھپنے والے قرآن مجید میں سورۂ حج کے دوسرے سجدے پر صرف السجدۃ عند الشافعی لکھ دیا جاتا ہے اور اس کو باقی سجدوں میں شمار نہیں کیا جاتا، جس کی وجہ سے قرآن مجید کے آخری سجدے پر (۱۴) نمبر لکھا جاتا ہے، اس وجہ سے ہمارے ہاں چودہ سجدے مشہور ہو گئے ہیں، حالانکہ راجح قول کے مطابق کل (۱۵) سجدے ہیں اور قرآن مجید کے سجدوں کی نمبرنگ کرنے والوں کو چاہیے تھا کہ تمام سجدوں پر نمبر لگاتے اور قرآن مجید کے آخرمیں مسئلہ کی وضاحت کر دیتے۔ قرآن مجید کی درج ذیل چودہ سورتیں سجودِ تلاوت پر مشتمل ہیں: سورۂ اعراف، سورۂ رعد، سورۂ نحل، سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ مریم، سورۂ حج، سورۂ فرقان، سورۂ نمل، سورۂ سجدہ، سورۂ ص، سورۂ حم سجدہ، سورۂ نجم، سورۂ انشقاق، سورۂ علق۔ سورۂ حج میں دو سجدے ہیں، آخری تین سورتیں مفصلات میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 2011
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف رشدين بن سعد، ولجھالة عمر الدمشقي، ولابھام الراوي عن ام الدردائ۔ أخرجه ابن ماجه: 1055 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21692، 27494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28042»