حدیث نمبر: 2002
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ: زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟ قِيلَ: صَلَّيْتَ خَمْسًا، فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہرکی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، کسی نے پوچھا: کیانماز میں اضافہ کر دیا گیا ہے؟ کسی نے کہا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کئے۔
حدیث نمبر: 2003
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا، ثُمَّ انْفَتَلَ فَجَعَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ يُوَشْوِشُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَلَّيْتَ خَمْسًا؟ فَانْفَتَلَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو پانچ رکعتیں پڑھا دیں اورسلام پھیر کر ان کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے، بعض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پوشیدہ طور پر باتیں کرنے لگے پس انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھرے اور دو سجدے کر کے سلام پھیر دیا اور فرمایا: میں ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو میں بھی بھول جاتا ہوں۔
حدیث نمبر: 2004
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ، وَقَالَ مَرَّةً: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ السَّجْدَتَيْنِ فِي السَّهْوِ بَعْدَ السَّلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند) سیدنا عبداللہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کے بعد سجدے کیے اور ایک مرتبہ فرمایا: یقینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سہو میں سلام کے بعد دو سجدے کئے۔
حدیث نمبر: 2005
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرِ خَمْسًا ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((هَاتَانِ السَّجْدَتَانِ لِمَنْ ظَنَّ مِنْكُمْ أَنَّهُ زَادَ أَوْ نَقَصَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (چوتھی سند)سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور پھرسہو کے دو سجدے کیے اور اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دو سجدے اس شخص کے لیے ہیں، جسے یہ خیال آنے لگے کہ اس سے زیادتی ہو گئی ہے یا کمی۔
حدیث نمبر: 2006
(وَمِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهَا فِي الصَّلَاةِ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ الْكَلَامِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (پانچویں سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں بھول گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلام کرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کیے۔
وضاحت:
فوائد: … ان روایات کا مفہوم واضح ہے کہ اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سہو کے دو سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے، مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئیںیا تشہد رہ گیا ہے۔