کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: جو شخص پہلے تشہد کے لیے بیٹھنا بھول جائے¤اور سیدھا کھڑا ہوجائے تو بیٹھنے کے لیے واپس نہ لوٹے
حدیث نمبر: 1997
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ أَنَّ ابْنَ بُحَيْنَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي الثِّنْتَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ، نَسِيَ الْجُلُوسَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَى أَنْ يُسَلِّمَ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ خَتَمَ بِالتَّسْلِيمِ (وَفِي رِوَايَةٍ:) فَلَمَّا صَلَّى الْأُخْرَيَيْنِ انْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ فَكَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ ثُمَّ سَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کی دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوگئے اور بیٹھنا بھول گئے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز مکمل کر کے سلام پھیرنے لگے تو دو سجدے کئے اور پھر سلام پھیر کر نماز ختم کی۔ایک روایت میں ہے: جب آپ نے آخری دو رکعتیں پڑھ لیں تو لوگ آپ کے سلا م پھیرنے کے انتظار میں تھے تو آپ نے تکبیر کہہ کر سجدہ کیا، پھر تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا اور پھر سلام پھیر دیا۔
حدیث نمبر: 1998
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَيْضًا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً نَظُنُّ أَنَّهَا الْعَصْرُ فَقَامَ فِي الثَّانِيَةِ لَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا كَانَ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ:) وَسَجَدَهُمَا النَّاسُ مَعَهُ مَكَانَ مَا نَسِيَ مِنَ الْجُلُوسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدناابن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی، ہمارا خیال ہے کہ وہ عصر تھی، ہوا یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رکعت کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب سلام پھیرنے کے قریب تھے تودو سجدے کئے اور لوگوں نے بھی سجدے کیے،یہ (سجدے) بیٹھنا بھول جانے کی وجہ سے کیے تھے۔
حدیث نمبر: 1999
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ يُوسُفَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ صَلَّى أَمَامَهُمْ، فَقَامَ فِي الصَّلَاةِ وَعَلَيْهِ جُلُوسٌ فَسَبَّحَ النَّاسُ فَتَمَّ عَلَى قِيَامِهِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ أَنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ، ثُمَّ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ نَسِيَ مِنْ صَلَاتِهِ شَيْئًا فَلْيَسْجُدْ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یوسف سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کے آگے یعنی ان کا امام بن کر نماز ادا کی،ایک مقام پر آپ بیٹھنے کے بجائے کھڑے ہو گئے، لوگوں نے سبحان اللہ تو کہا لیکن وہ کھڑے ہو گئے اور نماز جاری رکھی، پھر سہو کے دو سجدے کیے، جب کہ وہ نماز مکمل کرنے کے بعد بیٹھے ہوئے تھے، پھر منبر پر بیٹھ گئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز سے کوئی چیز بھول جائے تو وہ اس طرح دو سجدے کر لیا کرے۔
حدیث نمبر: 2000
عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَامَ وَلَمْ يَجْلِسْ فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ قُومُوا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ هَٰكَذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زیاد بن علاقہ نے کہا: سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی،وہ دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، جب لوگوں نے سبحان اللہ کہا تو انہوں نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ وہ بھی کھڑے ہوجائیں، جب اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو انھوں نے سلام پھیرا، پھر دوسجدے کیے اور پھر سلام پھیرا، اس کے بعدکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔
حدیث نمبر: 2001
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ فَقَامَ، فَقُلْنَا: سُبْحَانَ اللَّهِ، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ يَعْنِي قُومُوا، فَقُمْنَا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: ((إِذَا ذَكَرَ أَحَدُكُمْ قَبْلَ أَنْ يَسْتَتِمَّ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ وَإِذَا اسْتَتَمَّ قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر یا عصر میں ہماری امامت کرائی اور آپ (درمیانے تشہد کو چھوڑ کر) تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے، جب ہم نے سبحان اللہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں متنبہ کرنے کے لیے سبحان اللہ کہا اور ہمیں کھڑے ہونے کا اشارہ کیا، پس ہم بھی کھڑے ہو گئے، جب آپ اپنی نماز سے فارغ ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو سجدے کیے اورفرمایا: جب کسی کو مکمل سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے یاد آجائے تو وہ بیٹھ جائے اور جب وہ مکمل سیدھا کھڑا ہوجائے توپھر نہ بیٹھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر تینیا چار رکعتی نماز میں درمیانہ تشہد رہ جائے تو سلام سے پہلے یا سلام کے بعد سہو کے دو سجدوں کے ذریعے اس کمی کی تلافی کی جائے گا، جب سلام کے بعد سجدے کیے جائیں گے تو اِن سجدوں کے بعد پھر سلام پھیرا جائے گا، نیز آخریحدیث اس امر پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جب کوئی درمیانہ تشہد چھوڑ کر بھول کر کھڑا ہو رہا ہو اور سیدھا کھڑے ہونے سے پہلے بھول جانے کا احساس ہو جائے تو وہ بیٹھ جائے، لیکن اگر سیدھا کھڑا ہو جائے تو درمیانے تشہد کے لیے واپس نہ لوٹے اور اپنی نماز کو جاری رکھے، لیکن اس کمی کو پورا کرنے کے لیے سلام سے پہلے یا سلام کے بعد سہو کے دو سجدے کر لے۔