حدیث نمبر: 1972
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا غُلَامُ! هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ مَاذَا يَصْنَعُ؟ قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَقَالَ: فِيمَ أَنْتُمَا؟ فَقَالَ عُمَرُ: سَأَلْتُ هَٰذَا الْغُلَامَ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذَا شَكَّ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ مَاذَا يَصْنَعُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَوَاحِدَةً صَلَّى أَمْ ثِنْتَيْنِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا لَمْ يَدْرِ ثِنْتَيْنِ صَلَّى أَمْ ثَلَاثًا فَلْيَجْعَلْهَا ثِنْتَيْنِ، وَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا فَلْيَجْعَلْهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ يَسْجُدُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ سَجْدَتَيْ سَهْوٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے لڑکے! کیا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کسی صحابی سے کوئی ایسی حدیث سنی ہے کہ اگر نمازی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہی بات ہو رہی تھی کہ اتنے میں سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور انھوں نے پوچھا: تم کیا بات کر رہے ہو؟ سیدناعمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس لڑکے سے پوچھا ہے کہ کیا اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یا کسی صحابی سے کوئی اس قسم کی حدیث سنی ہے کہ جب آدمی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟ یہ سن کر سیدنا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک ہو جائے اوروہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے ایک رکعت پڑھی ہے یا دو تو وہ ایک رکعت ہی سمجھ لے، جب اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو وہ ان کو دو ہی سمجھ لے اور جب اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ ان کو تین ہی سمجھ لے، پھر جب نماز سے فارغ ہو نے لگے تو بیٹھے بیٹھے اور سلام سے پہلے دو سجدے کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … جب نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ کوئی ظن غالب قائم نہ کر سکے تو احتیاط کرتے ہوئے کم تعداد پر بنیاد رکھ کر نماز مکمل کرے اور ایسی صورت میں سلام سے پہلے دو سجدے کر لے، ان کو سجدۂ سہو کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1973
عَنْ مُرَّةَ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي كَبْشَةَ عَنْ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَمْ أَدْرِ أَشَفَعْتُ أَمْ أَوْتَرْتُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِيَّايَ وَأَنْ يَتَلَعَّبَ بِكُمُ الشَّيْطَانُ فِي صَلَاتِكُمْ، مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ فَلَمْ يَدْرِ أَشَفَعَ أَمْ أَوْتَرَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا تَمَامُ صَلَاتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے نمازپڑھی لیکن (بھول گیا)، جس کی وجہ سے اب یہ پتہ نہیں چل رہا کہ جفت رکعتیں پڑھی ہیں یا طاق؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے آپ کواس سے ڈراتا ہوں کہ شیطان تمہاری نماز میں تم سے کھیلنے لگ جائے، تم میں سے جو آدمی نماز پڑھے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ جفت رکعتیں پڑھ لی ہیں یا طاق تو وہ دو سجدے کر لے، ان سے اس کی نماز کی تکمیل ہو جائے گی۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث کو دوسری روایات کی روشنی میں سمجھیں گے کہ ایسا نمازی کمی کی صورت میں پہلے کمی کو پورا کرے گا، پھر سجدے کرے گا۔
حدیث نمبر: 1974
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: صَلَّى بِنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَيْنَا بَعْدَ صَلَاتِهِ فَقَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَسَجَدَ مِثْلَ هَاتَيْنِ السَّجْدَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَأَعْلَمَنَا أَنَّهُ صَلَّى مَعَ عُثْمَانَ (بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَحَدَّثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)مرہ بن معبد کہتے ہیں: یزید بن ابو کشبہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: میں نے مروان بن حکم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، انہوں نے اسی طرح دو سجدے کیے تھے، پھر وہ ہماری طرف پھرے اور ہمیں یہ بتلایا کہ انھوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تھی اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کیا تھا، پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1975
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً فَلَا أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلَمَّا سَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: ((لَا، وَمَا ذَٰكَ؟)) قَالُوا: صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَثَنَى رِجْلَيْهِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: ((إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّلَاةَ، فَإِذَا سَلَّمَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی،مجھےیہ یاد نہیں رہا کہ زیادتی ہو گئی تھی یا کمی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہو گئی ہے؟ آ پ نے فرمایا: (نہیں، اور وہ کیا ہے (جو تم محسوس کر رہے ہو)؟ لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی نماز پڑھائی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سہوکے دو سجدے کئے، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، جیسے تم بھول جاتے ہو اسی طرح میں بھی بھول جاتا ہوں، جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے تو وہ نماز (کی رکعتوں کی تعداد کی درست صورت کو) تلاش کرے اور جب سلام پھیرے تو دو سجدے کر لے۔
حدیث نمبر: 1976
((وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: ((لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ لَأَنْبَأْتُكُمُوهُ وَلَٰكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِنْ نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي وَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَتَحَرَّ أَقْرَبَ ذَلِكَ لِلصَّوَابِ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيُسَلِّمْ ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اسی قسم کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا پاؤں موڑا،قبلہ رخ ہوئے اور دو سجدے کیے، پھر ہم پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی چیز مشروع ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتاتا، بات یہ ہے کہ میں صرف ایک انسان ہوں، میں بھی اسی طرح بھول جاتا ہوں، جیسے تم بھولتے ہو، پس اگر میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کرا دیا کرو اور تم میں جس کسی کو بھی نماز میں شک ہو جائے تو وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو، پھر اس نماز کو مکمل کرے اور سلام پھیر کر دو سجدے کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … وہ ایسی صورت کو تلاش کرے جو درستگی کے زیادہ قریب ہو۔ اس سے مراد ظن غالب ہے کہ وہ مختلف قرائن کو دیکھ کر ایسا فیصلہ کرے جس پر اس کے نفس کو اطمینان ہو۔ یہ صورت اس صورت سے مختلف ہے، جس میں بندے کو ایسا شک ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے کم پر یقین کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا، اس شک والی صورت کی وضاحت اس باب کی پہلی حدیث میں ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 1977
عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا كُنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ، وَأَكْثَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ، تَشَهَّدْتَّ ثُمَّ سَجَدْتَّ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَّ أَيْضًا ثُمَّ سَلَّمْتَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تونماز میں ہو اور تین یا چار رکعتوں میں شک ہو جائے، البتہ تیرا زیادہ گمان چار پر ہو، تو تو تشہد پڑھ اور سلام سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور اس کے بعد سلام پھیر۔
حدیث نمبر: 1978
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: ((إِذَا شَكَكْتَ فِي صَلَاتِكَ وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمْ تَدْرِ ثَلَاثًا صَلَّيْتَ أَمْ أَرْبَعًا، فَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ ثَلَاثًا فَقُمْ فَارْكَعْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ، وَإِنْ كَانَ أَكْبَرُ ظَنِّكَ أَنَّكَ صَلَّيْتَ أَرْبَعًا فَسَلِّمْ ثُمَّ اسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ تَشَهَّدْ ثُمَّ سَلِّمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تجھے اپنی نماز میں شک ہو جائے اور تو بیٹھا ہوا ہو اور تجھے یہ پتہ نہ چل سکے کہ تو نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار، تو اگر تیرا غالب ظن یہ ہو کہ تو نے تین رکعتیں پڑھ لی ہیں تو تو کھڑا ہو جا اور ایک رکعت ادا کر، پھر سلام پھیر، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر، اور اگر غالب ظن یہ ہو کہ تو نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو سلام پھیر دے، پھر دو سجدے کر، پھر تشہد پڑھ اور پھر سلام پھیر دے۔
حدیث نمبر: 1979
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَأْتِي أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَيُلَبِّسُ عَلَيْهِ حَتَّى لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے تو اس پر اس کی نماز کو اتنا خلط ملط کر دیتا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں جان سکتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، پس جو آدمی ایسی صورتحال پائے تو وہ دو سجدے کرے، اس حال میں کہ وہ بیٹھا ہوا ہو۔
حدیث نمبر: 1980
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَإِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ فَلْيَقُلْ كَذَبْتَ إِلَّا مَا وَجَدَ رِيحَهُ بِأَنْفِهِ أَوْ سَمِعَ صَوْتَهُ بِأُذُنِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور وہ (اس قدر بھول جائے کہ یہ) بھی نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے تووہ بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے اور جب شیطان کسی کے پاس آ کر کہے کہ تو بے وضو ہو گیا ہے تو وہ اسے کہے کہ تو نے جھوٹ کہا، الا یہ کہ وہ اپنے ناک سے بو محسوس کر لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۔
وضاحت:
فوائد: … اگلی حدیث میں اس تفصیل کا بیان ہے کہ سجدۂ سہو کرنے سے پہلے رکعات کی تکمیل کیسے کرنی ہو گی۔ شیطان کا بے وضو کہنے سے مراد بے وضگی کا وسوسہ ڈالنا ہے، ایسی صورت میں نمازی کو اس کے وسوسے سے متأثر نہیں ہونا چاہیے اور ایسے خیال کو فوراً دفع کر دینا چاہیے، ہاں اگر نمازی کو وضو ٹوٹ جانے کا یقین ہو جائے تو وہ دوبارہ وضو کرے۔
حدیث نمبر: 1981
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِكْ كَمْ صَلَّى فَلْيَبْنِ عَلَى الْيَقِينِ حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَنَ أَنْ قَدْ أَتَمَّ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ، فَإِنَّهُ إِنْ كَانَتْ صَلَاتُهُ وَتْرًا صَارَتْ شَفْعًا وَإِنْ كَانَتْ شَفْعًا كَانَ ذَلِكَ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور وہ یہ نہ جان سکے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے، تو وہ یقین پر بنیاد رکھے (اور مزید رکعت ادا کرے) حتی کہ اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو جائے، پھر وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے، اگر اس کی (پڑھی ہوئی زائد نماز) طاق رکعتیں ہوں گی تو وہ (سہو کے دو سجدوں) کی بنا پر جفت بن جائے گی اور اگر اس کی نماز جفت (یعنی پوری ہی) ہو گی تو یہ سجدے شیطان کو خاک آلود کریں دیں گے۔
وضاحت:
فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی چار رکعتی نماز کی پانچ رکعتیں ادا کر لیتا ہے تو چار رکعت بطورِ فرض قبول ہوں گے اور بقیہ ایک رکعت، سہوکے دوسجدوں کے ساتھ مل کر دو نفل کے قائم مقام ہو جائے گی۔ اور اگر اس نے نماز پوری ہی پڑھی ہو گی تو سہو کے سجدوں کی وجہ سے شیطان ذلیل ہو گا کہ اس نے تو نماز کو باطل ہو جانے اور نمازی پر اس کو خلط ملط کر دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اس نے زائد دو سجدوں کے ذریعے اسے مزید ذلیل کر دیا۔
حدیث نمبر: 1982
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى صَلَاةً يَشُكُّ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَشُكَّ فِي الزِّيَادَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: کیامیں تمہیں وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے اس کے کم ہونے کا شک ہوتا ہے تو وہ نماز پڑھتا رہے، یہاں تک کہ اسے زیادہ ہونے میں شک ہونے لگے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کا مفہوم درج ذیل حدیث کی بنا پر درست ہے: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو نماز میں شک ہو جائے اور اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ ایک رکعت پڑھی ہے یا دو، تو وہ اس کو ایک سمجھے اور اگر اسے یہ شک پڑ جائے کہ دو رکعات پڑھی ہیںیا تین، تو ان کو تین سمجھے، … …۔ (حسن لغیرہ، مسند احمد: ۱۶۵۶، ترمذی: ۳۹۸، ابن ماجہ: ۱۲۰۹)
حدیث نمبر: 1983
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ)) وَفِي لَفْظٍ: ((فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز میں شک کرے تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔ ایک روایت میں ہے: وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرلے۔
حدیث نمبر: 1984
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا إِغْرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ نماز (کے ارکان) میں نقص پیدا کرنا جائز ہے اور نہ (نماز میں) سلام کہنا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابوعمرو شیبانی نے کہا: لَاغِرَارَ کا معنییہ ہے کہ آدمی اپنی نماز سے اس حال میں نہ نکلے کہ اسے نماز کے کسی حصے کے باقی رہنے کا گمان ہو، بلکہ (وہ اس وقت سلام پھیرے) جب اسے نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو۔ ابن اثیر نے کہا: غِرَارُ الصَّلَاۃِ سے مراد نماز کی کیفیات و ارکان میں نقص کرنا ہے اور غِرَارُ التَّسْلِیْمِ سے مراد یہ ہے کہ نمازی (جوابًا) وَعَلَیْکَ کہے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: وَلَا تَسْلِیْمَ کا یہ معنی نہیں کہ غیر نمازی، نمازی کو سلام نہ کہے، کیونکہ کئی احادیث میں ثابت ہے کہ صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارے سے جواب دیتے تھے)۔ جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد قبا میں گئے اور نماز پڑھ رہے تھے، اسی اثنا میں انصاری لوگ آئے اور آپ کو سلام کہا، حالانکہ آپ نماز میں تھے۔ میں نے سیدنا بلال سے پوچھا: جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حالت ِ نماز میں سلام کہتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کا جواب کیسے دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ (اشارہ کرتے ہوئے) اس طرح کرتے تھے۔ پھر (آپ کے ہاتھ کی کیفیت بیان کرنے کے لیے) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنی ہتھیلی کو آگے کی طرف پھیلا دیا۔ (ابوداود) (صحیحہ: ۳۱۸) خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ جب تک نمازی کو نماز کی تکمیل کا یقین نہ ہو جائے وہ سلام نہیں پھیر سکتا، نیز وہ سلام کا جواب بول کر نہیں دے سکتا، کیونکہ اسے کلام کہتے ہیں، جو نماز میں حرام ہے۔ (واللہ اعلم بالصواب)
حدیث نمبر: 1985
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ (يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ) عَنْ سُفْيَانَ (يَعْنِي الثَّوْرِيَّ) قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((لَا إِغْرَارَ فِي الصَّلَاةِ)) فَقَالَ: إِنَّمَا هُوَ لَا غَرَارَ فِي الصَّلَاةِ، وَمَعْنَى غِرَارَ يَقُولُ لَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ قَدْ بَقِيَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ عَلَى الْيَقِينِ وَالْكَمَالِ ذَكَرَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ هَذَا الْقَوْلُ بَعْدَ الْحَدِيثِ السَّابِقِ: 887
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سفیان ثوری کہتے ہیں: میرے باپ نے ابو عمرو شیبانی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول لَا إِغْرَارَ فِی الصَّلاَۃِ۔ (نماز میں نقص پیدا کرنا نہیں ہے۔) کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: یہ روایت اس طرح ہے: لَا غِرَارَ فِی الصَّلَاۃِ۔ اور لَا غِرَار کا معنی یہ ہے کہ بندہ اس حال میں نماز سے نہ نکلے کہ اسے یہ گمان بھی ہو کہ اس کی نماز کا کچھ حصہ باقی ہے، (وہ اس وقت نکلے) جب اسے مکمل ہونے کا یقین ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی صحیح احادیث میں سہو کے دو سجدوں کی درج ذیل تین صورتیں بیان کی گئی ہیں: (۱) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور وہ حتمی فیصلہ نہ کر سکنے کی وجہ سے کم تعداد پر بنیاد رکھے تو وہ سلام سے پہلے دو سجدے کرے۔
(۲) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور مختلف قرائن کی روشنی میں اسے کسی صورت پر ظن غالب ہو جائے تو وہ سلام کے بعد سجدے کرے۔
(۳) اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے۔ (بخاری، مسلم) مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئی ہیںیا تشہد رہ گیا ہے۔ باقی صورتوں کا ذکر اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔
(۲) اگر نمازی کو رکعات کی تعداد میں شک ہو جائے اور مختلف قرائن کی روشنی میں اسے کسی صورت پر ظن غالب ہو جائے تو وہ سلام کے بعد سجدے کرے۔
(۳) اگر سلام کے بعد کسی زیادتی کا پتہ چلے یا ایسی کمی کا جس کا اعادہ نہیں کیا جاتا، تو اسی وقت سجدے کئے جائیں اور پھر سلام پھیرا جائے۔ (بخاری، مسلم) مثلا سلام پھیرنے کے بعد پتہ چلے کہ پانچ رکعتیں پڑھ لی گئی ہیںیا تشہد رہ گیا ہے۔ باقی صورتوں کا ذکر اگلے ابواب میں آ رہا ہے۔