حدیث نمبر: 1967
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا وَالْبُيُوتُ لَيْسَتْ يَوْمَئِذٍ فِيهَا مَصَابِيحُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سویا کرتی تھی اور میری ٹانگیں آپ کے قبلہ کی سمت میں ہوتی تھی، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے دباتے، پس میں اپنی ٹانگوں کو اکٹھا کر لیتی،جب آپ کھڑے ہوتے تو میں ان کو پھیلا دیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 1968
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ مُضْطَجِعَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے، وہ کہتی ہیں:بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے ہوتے تھے اورمیں (کبھی) آپ کی دائیں اور (کبھی) بائیں جانب لیٹی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 1969
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجَنَازَةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی نماز پڑھا کرتے تھے اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان اس طرح لیٹی ہوتی تھی، جس طرح جنازہ پڑا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 1970
عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَهِي مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: أَلَيْسَ هُنَّ أُمَّهَاتِكُمْ وَأَخَوَاتِكُمْ وَعَمَّاتِكُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (یہ بھی) روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں نماز پڑھتے تھے کہ وہ آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی۔جناب عروہ نے کہا: کیایہ عورتیں تمہاری مائیں، بہنیں اور پھوپھیاں نہیں ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … قولی حدیث کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ہر خاتون کسی نہ کسی کی ماں، خالہ یا پھوپھی ہوتی ہے، اس لیے نمازی کے سامنے ان کے اس طرح لیٹنے سے نماز متأثر نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 1971
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، قُلْتُ: أَبَيْنَهُمَا جَدْرُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: لَا، فِي الْبَيْتِ إِلَى جَدْرِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حال میں نماز پڑھتے کہ وہ آپ کے اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوئی ہوتی تھی۔ عطا کہتے ہیں: میں نے عروہ سے پوچھا: کیا ان دونوں کے درمیان مسجد کی دیوار ہوتی؟ انہوں نے کہا: نہیں، گھر میں اس کی دیوار کی طرف۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے سامنے سونے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ بعض ضعیف روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نمازی کے سامنے سونا منع ہے، اگر وہ ثبوت کے درجہ تک پہنچ جائیں تو ان کو اس صورت پر محمول کیا جائے گا کہ جب سونے والے آدمی کی وجہ سے نمازی کا خشوع وخضوع متأثر ہو رہا ہو۔