حدیث نمبر: 1957
عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ أُمَامَةَ بِنْتَ أَبِي الْعَاصِ ابْنِ الرَّبِيعِ وَأُمُّهَا زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي صَبِيَّةٌ فَحَمَلَهَا عَلَى عَاتِقِهِ فَصَلَّى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي عَلَى عَاتِقِهِ، يَضَعُهَا إِذَا رَكَعَ وَيُعِيدُهَا عَلَى عَاتِقِهِ إِذَا قَامَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي عَلَى عَاتِقِهِ حَتَّى قَضَى صَلَاتَهُ، يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ امامہ بنت ابی العاص بن ربیع کو اٹھائے ہوئے ہمارے پاس تشریف لائے، یہ ایک بچی تھی اور اس کی ماں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا تھیں، آپ نے اسے اپنے کندھے پر اٹھایا ہوا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی، جبکہ وہ بچی آپ کے کندھے پر تھی، جب آپ رکوع کرتے تو اسے رکھ دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو دوبارہ اسے کندھے پر اٹھا لیتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حالت میں نماز پڑھی کہ وہ آپ کے کندھے پر تھی، حتیٰ کہ نماز پوری ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ اسی طرح کرتے رہے (کہ ہر رکوع کے وقت رکھ دیتے تھے)۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حالت میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 1958
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا ابْنُ جُرَيجٍ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَأُمَامَةُ بِنْتُ زَيْنَبَ ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهِي ابْنَةُ أَبِي الْعَاصِ ابْنِ الرَّبِيعِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى عَلَى رَقَبَتِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا وَإِذَا قَامَ مِنْ سُجُودِهِ أَخَذَهَا فَأَعَادَهَا عَلَى رَقَبَتِهِ، فَقَالَ عَامِرٌ وَلَمْ أَسْأَلْهُ أَيُّ صَلَاةٍ هِيَ قَالَ ابْنُ جُرَيجٍ وَحُدِّثْتُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ أَنَّهَا صَلَاةُ الصُّبْحِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: جَوَّدَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ سیدہ امامہ بنت زینب بنت نبی کریم رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گردن پر تھی اوریہ ابو العاص بن ربیع کی بیٹی تھی، جب آپ رکوع کرتے تو اسے رکھ دیتے اور جب سجدے کر کے کھڑے ہوتے تو اسے اپنی گردن پر دوبارہ اٹھالیتے۔ عامر کہتے ہیں:میں نے عمرو بن سلیم سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ کون سی نماز تھی۔ ابن جریج کہتے ہیں:مجھے زید بن ابی عتاب سے بیان کیا گیا ہے کہ وہ نمازِ فجر تھی، ابو عبد الرحمن نے کہا: ابن جریج نے (نماز فجر کے ذکر) والی روایت کو جیّد کہا۔
حدیث نمبر: 1959
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ وَهُوَ حَامِلُ حَسَنٍ أَوْ حُسَيْنٍ فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ ثُمَّ كَبَّرَ لِلصَّلَاةِ فَصَلَّى فَسَجَدَ بَيْنَ ظَهْرَي صَلَاتِهِ سَجْدَةً أَطَالَهَا، قَالَ: إِنِّي رَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا الصَّبِيُّ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَرَجَعْتُ فِي سُجُودِي، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ النَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ سَجَدْتَّ بَيْنَ ظَهْرَي الصَّلَاةِ سَجْدَةً أَطَلْتَهَا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ أَوْ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْكَ، قَالَ: ((كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ، وَلَٰكِنِّ ابْنِي ارْتَحَلَنِي فَكَرِهْتُ أَنْ أُعَجِّلَهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا شداد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پچھلے پہر کی ظہر یا عصر کی نماز کے لیے ہمارے پاس مسجد میں تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن یا سیدنا حسین کو اٹھایا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور اسے بٹھاکر نماز کے لیے تکبیر کہی اور نماز پڑھنا شروع کر دی، بیچ میں آپ نے ایک طویل سجدہ کیا، جب میں نے اپنا سر اٹھا کر دیکھا (کہ کیا وجہ ہے) تو اچانک وہی بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیٹھ پر تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے، تو میں اپنے سجدہ میں لوٹ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری کرلی تو لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نماز کے درمیان ایک سجدہ اتنا لمبا کیا کہ ہم یہ سمجھنے لگے کہ کوئی معاملہ پیش آگیا تھا یا آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایسی کوئی بات نہیں تھی،یہی میرا بیٹا مجھ پر سوار ہوگیا تھا اور میں نے ناپسند کیا کہ اس سے جلدی کروں، یہاں تک کہ وہ اپنا شوق پورا کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … پہلی حدیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نواسی کو اٹھا کر نماز پڑھی۔ اس فعل کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص سمجھنا یا اس کے منسوخ ہونے کا دعوی کرنا، سب باطل امور ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فعلِ مبارک سے ہمیں یہ رخصت ملتی ہے کہ اگر کسی مجبوری کی بنا پر ایسے کرنا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، میں نے کئی گھروں میں دیکھا کہ بعض مائیں اس تلاش میں پھر رہی ہوتی ہیں کہ کوئی ان کے چھوٹے بچے کو اٹھائے تاکہ وہ نماز پڑھ سکیں، اس طرح ان کی کئی نمازیں قضا ہو جاتی ہیں، اگر ان کو اس رخصت کا علم ہو جائے تو اس میں ان کے لیے کئی آسانیاں ہیں، بشرطیکہ وہ رخصت قبول کرنے والی ہوں۔ بعض فقہا نے کہا ہے کہ چونکہ عرب لوگ بچیوں کو ناپسند کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ بعض عرب ان کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کرنے میں مبالغہ کیا اور نماز میں بچی کو اٹھا کر اس کی اہمیت کو ظاہر کیا۔ واللہ اعلم۔