کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز میں سبحان اللہ کہنے ، تالی بجانے اور اشارہ کے جواز کا بیان¤(نماز میں سلام کا جواب دینے کی بحث)
حدیث نمبر: 1938
عَنْ جَابِرٍ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُنْطَلِقٌ إِلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى بَعِيرِهِ فَكَلَّمْتُهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَٰكَذَا، ثُمَّ كَلَّمْتُهُ فَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَأَنَا أَسْمَعُهُ يَقْرَأُ وَيُومِئُ بِرَأْسِهِ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: ((مَا فَعَلْتَ فِي الَّذِي أَرْسَلْتُكَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أُصَلِّي)) (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) وَهُوَ مُوَجَّهٌ حِينَئِذٍ إِلَى الْمَشْرِقِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (کسی کام کے لئے) بھیجا، جبکہ آپ خود بنو مصطلق کی طرف جارہے تھے، جب میں آپ کے پاس واپس آیا جبکہ آپ اونٹ پر نماز پڑھ رہے تھے، میں نے اسی حالت میں آپ سے بات کی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا، میں نے پھر بات کرنا چاہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا، جبکہ میں سن رہا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلاوت کررہے تھے اور سر سے اشارہ کر رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: جس کام کیلئے میں نے تجھے بھیجا تھا، اس کا کیا بنا؟ مجھے بولنے سے روکنے والی چیز صرف یہ تھی کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرق کی طرف متوجہ تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں اشارہ کرکے بات کرنے والے کو بات کرنے سے روکنا چاہا، پھر بعد میں وضاحت بھی کر دی کہ نماز کی وجہ سے بات تو نہیں کی جا سکتی تھی۔ سبحان اللہ! جہاں اس حقیقت پر امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ دانستہ طور پر کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی ہے، وہاں اللہ تعالیٰ نے نماز میں صبر و تحمل، خشوع و خضوع اور عاجزی و انکساری کو برقرار رکھنے کے لئے جن امور کی اجازت دی ہے، ان میں ایک کا بیان ان احادیث ِ مبارکہ میں ہے کہ ضرورت کے وقت کسی کو کوئی اشارہ کیا جا سکتا ہے۔یہ اسلام کی کمال حکمت ِ عملی ہے کہ اس نے اشارہ کرنے کی رخصت دے کر نمازیوں کو کئی قسم کی بے چینیوں اور خشوع و خضوع کے منافی امور سے محفوظ کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی آدمی دورانِ نماز کسی کو روکنا چاہتا ہو یا اس حالت میں کوئی فرد اس سے اجازت طلب کرتا ہے، تو بجائے اس کے کہ وہ جلدی جلدی اور انتہائی بے سکون انداز میں نماز کی تکمیل کرے، اسے چاہیے کہ وہ شریعت کی رخصتوں پر عمل کرتے ہوئے اشارہ کر کے یا سبحان اللہ کہہ کر اپنے مقصود کی طرف اشارہ کر دے۔ امام البانی رحمہ اللہ نے ایک حدیث سے استنباط کرتے ہوئے لکھا ہے: اس حدیث سے بڑی وضاحت و صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ دورانِ نماز مردوں کا سبحان اللہ کہہ کر اور عورتوں کا تالی بجا کر اجازت کا جواب دینا جائز ہے۔ ہاتھ اور سر سے اشارہ کرنا تو بالاولی جائز ہو گا اور اس کا جواز کئی احادیث سے ثابت ہوتا ہے، میں نے بعض کی تخریج صحیح ابوداود میں ان نمبروں (۸۵۸، ۸۵۹، ۸۶۰، ۸۷۰) کے تحت کی ہے۔ احناف نے اس موضوع پر یہ حدیث پیش کی ہے: ((مَنْ اَشَارَ فِیْ صَلَاتِہٖاِشَارَۃً تُفْہَمُ عَنْہُ فَلْیُعِدْ لَھَا۔)) یعنی: جس نے نماز میں ایسا اشارہ کیا، جس سے کوئی بات سمجھی جا سکتی ہے، تو وہ اپنی نماز دوبارہ ادا کرے۔ میں نے اس حدیث کے ضعف کی حقیقت کی وضاحت (ضعیف ابی داود: ۱۶۹) اور (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۱۰۴)میں کی ہے۔ (صحیحہ: ۴۹۷) ہم قارئین کے استفادہ کے لیے مذکورہ بالا حدیث پر کی گئی بحث نقل کر دیتے ہیں، امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ((مَنْ اَشَارَ فِیْ صَلَاتِہٖاِشَارَۃً تُفْہَمُ عَنْہُ فَلْیُعِدْ لَھَا۔))یَعْنِیْ الصَّلَاۃَ۔ یعنی: جس نے نماز میں ایسا اشارہ کیا، جس سے کوئی بات سمجھی جا سکتی ہے، تو وہ اپنی نماز دوبارہ ادا کرے۔ یہ حدیث منکر ہے، اس کو امام ابوداود (۹۴۴)، امام طحاوی (۱/ ۲۶۳) اور امام دارقطنی (۱۹۵۔ ۱۹۶)نے روایت کیا ہے، اس حدیث کے ضعف کی وجہ ابن اسحق ہے، جو مدلس ہے اور اس نے یہ روایت عن کے ساتھ بیان کی ہے۔ بڑی عجیب بات ہے کہ جناب زیلعی حنفی نے اس حدیث کو (نصب الرایۃ: ۲/ ۹۰) میں حدیثجیّد کہا، حالانکہ وہ ابن جوزی سے یہ بیان کر چکے ہیں کہ انھوں نے اس کو اسی علت کی بنا پر التحقیق میں معلول کہا۔ فقہ حنفی کی کتاب (الھدایۃ) میں حنفی مسلک کے حق میں اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا: نمازی زبان سے سلام کا جواب نہیں دے سکتا اور نہ ہاتھ سے اشارہ کر کے دے سکتا ہے، کیونکہیہ معنوی طور پر کلام ہو گی۔ اگر کوئی نمازی سلام کی نیت سے کسی سے مصافحہ کرتا ہے تو اس کی نماز باطل ہو گی۔ اس مسلک کی دلیلیہی حدیث ہے، جس کا ضعف واضح ہو چکا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ حدیث دوسری احادیث ِ صحیحہ کے مخالف بھی ہے، جن کے مطابق نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز میں اشارہ کرنا ثابت ہے۔ اسی لیے ہم نے اس حدیث کو منکر کہا، ابن ابو داود کے سابقہ کلام مین یہ اشارہ موجود ہے، اسی لیے عبد الحق اشبیلی نے اپنی کتاب احکام (۱۳۷۰) میں اس حدیث کے بعد کہا: صحیح بات یہ ہے کہ صحیح مسلم وغیرہ کی احادیث کی روشنی میں اشارہ کرنا جائز ہے۔ ان کی مراد سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے،جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کے ذریعے سلام کا جواب دیا تھا، میں نے اس کی تخریج (صحیح ابی داود: ۸۵۹) میں کی ہے، اور سیدنا انس (صحیح ابی داود: ۸۷۱)کی حدیث سے بھی اشارے کا ثبوت ملتا ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۱۰۴)
نماز کے دوران ضرورت کے پیش نظر اشارہ کرنے کے مزید دلائل
(۱) سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سورج گرہن کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ کسوف پڑھا رہے تھے، خواتین و حضرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: لوگوں کو کیا ہوا (کہ وہ اب نماز پڑھ رہے ہیں)؟ انھوں نے نماز ہی میں آسمان (یعنی سورج) کی طرف اشارہ کیا اور سبحان اللہ کہا۔ میں نے کہا: یہ کوئی نشانی ہے؟ انھوں نے جی ہاں کا اشارہ کیا۔ (بخاری: ۱۰۵۳) یہ واقعہ نہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی کا ہے، بلکہ آپ کی اقتدا میں کھڑے ہونے والی عورتوں کا ہے، اس میں دو دفعہ اشارے اور ایک دفعہ سبحان اللہ کہنے کا ذکر ہے۔
(۲) سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ صلح کرانے کے لیے بنو عمرو کی طرف گئے، مسجد نبوی میں نماز کا وقت ہو گیا، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امامت کے فرائض ادا کرنا شروع کیے، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور صف میں کھڑے ہو گئے۔ لوگوں نے ابو بکر صدیق کو متنبہ کرنے کے لیے تالیاں بجائیں، چونکہ وہ نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتے تھے، اس لیے لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجانا شروع کر دیں، بالآخر انھوں نے پیچھے دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صف میں کھڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنے مقام پر ٹھہرے رہو اور(نماز کی امامت جاری رکھو)۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی صورتحال میں مردوں کو سبحان اللہ کہنے اور عورتوں کو تالی بجانے کا حکم دیا۔ (بخاری: ۶۸۴)
(۳) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیمار ہونے کی وجہ سے بیٹھ کر نماز پڑھائی، جبکہ آپ کی اقتدا کرنے والے لوگ کھڑے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر امام کی اقتدا کے مسئلہ کی وضاحت کی۔ (بخاری: ۶۸۸)
(۴) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز کے بعد ظہر کے بعد والی دو رکعتیں ادا کر رہے تھے، تو اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کرنے والی لونڈی کی طرف اشارہ کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹ گئی تھی۔ (بخاری: ۱۲۳۳)
(۵) سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے، جب سجدہ کرتے تو حسن اور حسین اچھل کر آپ کی پیٹھ پر چڑھ جاتے۔ جب صحابہ ارادہ کرتے کہ انھیں روکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارہ کرتے کہ ان کو (اپنے حال پر) چھوڑ دو۔ جب نماز پوری کرتے تو انھیں اپنی گودی میں بٹھا لیتے اور فرماتے: جو مجھ سے محبت کرتا ہے وہ ان دونوں سے محبت کرے۔ (صحیح ابن خزیمہ: ۸۸۷، مسند ابو یعلی: ۶۰/ ۲، صحیحہ: ۳۱۲)
(۶) سیدنا عبد اللہ بن زید اور حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو ایک دن وادیٔ بطحا میں نماز پڑھا رہے تھے، ایک عورت نے سامنے سے گزرنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ ٹھہر جا۔ پس وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو وہ سامنے سے گزر گئی۔ (مسندأحمد: ۵/۲۱۶، صحیحہ: ۳۰۴۲) ان اور اس موضوع پر دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے دورانِ نماز کسی کی طرف اشارہ کرنے کی رخصت برقرار رکھی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1938
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 540 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14697»
حدیث نمبر: 1939
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَجَعَلَ يَهْوِي بِيَدِهِ قَالَ خَلَفٌ يَهْوِي فِي الصَّلَاةِ قُدَّامَهُ، فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ حِينَ انْصَرَفَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الشَّيْطَانَ هُوَ كَانَ يُلْقِي عَلَيَّ شَرَرَ النَّارِ لِيَفْتِنَنِي عَنْ صَلَاةٍ، فَتَنَاوَلْتُهُ فَلَوْ أَخَذْتُهُ مَا انْفَلَتَ مِنِّي حَتَّى يُنَاطَ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، (عبدالرزاق اور خلف دونوں راویوں کے الفاظ کا اکٹھا مفہوم یہ ہے کہ) آپ نماز میں ہی اپنے سامنے اپنا ہاتھ جھکانے لگ گئے یا خود جھکنے لگ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو لوگوں نے ایسا کرنے کے بارے میں پوچھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ شیطان مجھ پر آگ کی چنگاریاں ڈال رہا تھا تاکہ مجھے میری نماز سے فتنے میں ڈال دے تو مجھے اسے پکڑنے کا خیال آیا اور اگر میں اسے پکڑ لیتا تو وہ مجھ سے نہ چھوٹ پاتا اور اسے مسجد کے کسی ستون کے ساتھ باندھ دیا جاتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کی طرف دیکھتے۔
وضاحت:
فوائد: … اس قسم کے مختلف واقعات منقول ہیں، بعض صحیح روایات کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شیطان کو پکڑ بھی لیا تھا، پھر حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے چھوڑ دیا تھا۔ باب نمازی کے آگے گزرنے والے آدمی وغیرہ کو روکنے کا بیان میں اس حدیث کا ذکر ہو چکا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1939
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني: 1925، والبيھقي في الدلائل : 7/ 97 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21312»
حدیث نمبر: 1940
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صُهَيْبٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مَرَرْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ فَرَدَّ إِلَيَّ إِشَارَةً وَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِشَارَةً بِإِصْبَعِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صہیب نامی صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تو آپ نے اشارہ کر کے مجھ پر (سلام کا جواب) لوٹایا، راوی کہتا ہے: میں تو نہیں جانتا مگر یہی بات کہ انھوں نے انگلی کے ساتھ اشارہ کرنے کی بات کی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1940
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 925، والترمذي: 367، والنسائي: 3/ 5 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19139»
حدیث نمبر: 1941
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالٍ: كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرُدُّ عَلَيْهِمْ حِينَ كَانُوا يُسَلِّمُونَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ لوگ جب نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے تو آپ کیسے جواب دیتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ابوداود کی روایت کے مطابق ہاتھ سے اشارہ کرنے کی کیفیتیہ تھی: ہاتھ کو اس طرح پھیلانا کہ ہتھیلی کی پشت اوپر کی طرف اور اندرونی حصہ نیچے کی طرف ہو۔ اس حدیث میں لوگوں سے مراد اہل قبا ہے، کیونکہ بعض روایات مین یہ وضاحت موجود ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبا میں جاتے تھے، وہاں کے لوگ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں ہوتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً اشارہ کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1941
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 927، والترمذي: 368 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24383»
حدیث نمبر: 1942
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُشِيرُ فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں اشارہ کیا کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نمازی کو سلام کہنا اور اس کا اشارے کے ساتھ جواب دینا مشروع ہے، درج بالا تین احادیث کے مطالعہ کرنے کے بعد درج ذیل کا مطالعہ مفید رہے گا: عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ: أَنَّ رَجُلاً سَلَّمَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ، فَرَدَّ النَّبِیُّ بِإِشَارَۃٍ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ لَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((إِنَّا کُنَّا نَرُدُّ السَّلاَمَ فِی صَلاَ تِنَا، فَنُہِیْنَا عَنْ ذٰلِکَ۔)) (المعجم الاوسط: ۲/۲۴۶/۱/۸۷۹۵، مسند البزار: ۱/ ۲۶۸/ ۵۵۴، شرح المعانی للطحاوی: ۱/ ۲۶۳، الصحیحۃ:۲۹۱۷) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کے ذریعے اس کے سلام کا جواب دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیرا تو فرمایا: ہم نماز میں (زبان کے ساتھ) سلام کا جواب دیا کرتے تھے، لیکناب ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ نماز پڑھ رہا تھا، آپ نے اسے سلام کہا، اس نے بول کر جواب دیا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف پلٹ کر آئے اور اسے کہا: جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اسے سلام کہا جائے تو وہ بول کر جواب نہ دے، بلکہ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دیا کرے۔ (مؤطا امام مالک) ابتدائے اسلام میں نماز کے دوران کسی سے ہم کلام ہونا جائز تھا، لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَات وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۸) یعنی: (تمام) نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی (عصر کی) نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو۔ تو نماز میں کلام کرنا حرام ہو گیا۔ لیکن نماز کے دوران بعض امور کو اشاروں کے ذریعے سرانجام دینےکی رخصت دی گئی، ان میں سے ایک سلام کا جواب دینا ہے،جس کا ان احادیث ِ مبارکہ میں ذکر ہے۔ امام البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ (سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی) حدیث انتہائی صراحت کے ساتھ اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ دورِ مکہ کے دوران ابتدائے اسلام میں نمازی بول کر سلام کا جواب دیتا تھا، مدینہ منورہ میں اس طریقہ کو منسوخ کر کے اشارہ کے ساتھ جواب دینے کی اجازت دی گئی۔ اگر معاملہ اس طرح ہے تو نمازی کو سلام کہنا مستحب ہو گا، کیونکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سلام کو برقرار رکھا، جب انھوں نے آپ کو سلام کہا اور آپ نماز ادا کر رہے تھے۔ اسی طرح بعض دوسرے صحابہ نے بھی آپ کو سلام کہا تھا اور آپ نے ان کے سلام کو برقرار رکھا۔ اس مسئلہ کی وضاحت مختلف اسانید سے ثابت ہونے والی کافی ساری معروف احادیث سے ہوتی ہے۔ لہٰذا انصارالسنّہ کو چاہیے کہ وہ ان احادیث پر عمل کریں، ان کو لوگوں تک پہنچانے میں اور ان کو ان پر عمل کرنے کی ترغیب دلانے میں نرمی برتیں، کیونکہ لوگوں کو جس چیز کا علم نہ ہو، وہ اس کے دشمن بن جاتے ہیں، بالخصوص خواہش پرست اور بدعتی لوگ۔ (صحیحہ: ۲۹۱۷) امام البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا: نمازی، مؤذن اور قاریٔ قرآن پر سلام کہنے کا حکم اور کہا: امام مروزی نے (المسائل: صـ۲۲) میں کہا: میں نے امام احمد سے کہا: کیا نماز میں مصروف لوگوں کو سلام کہا جائے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر انھوں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کا قصہ بیان کیا کہ جب ان سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (نماز میں) سلام کا جواب کیسے دیتے تھے؟ تو انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اشارہ کرتے تھے۔ فقہ مالکی کے بعض محققین نے نمازی کا اشارہ کے ساتھ سلام کا جواب دینے والا مسلک اختیار کیا۔ قاضی ابو بکر بن عربی نے (العارضۃ: ۲/ ۱۶۲) میں کہا: نماز میں کبھی تو سلام کا جواب دینے کے لیے اشارہ کیا جاتا ہے اور بسا اوقات نمازی کو پیش آنے والی ضرورت کی وجہ سے۔ سلام کے جواب کے بارے میں مختلف صحیح آثار و احادیث مروی ہیں، جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد ِ قبا میں کیا۔ میں ایک دن طرطوشی کی مجلس میں تھا، اسی مسئلہ پر مذاکرہ ہونے لگا، ہم نے بطورِ دلیل ایک حدیث پیش کی اور اس سے حجت پکڑی۔ مجلس کے آخر سے ایک عام آدمی کھڑا ہواور کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشارے کا مطلب سلام کہنے والوں کو سلام کہنے سے منع کرنا ہو۔ ہمیں اس کی (نام نہاد) فقہ پر بڑی حیرانگی ہوئی۔ پھر ہم نے دیکھا کہ سلام والی حدیث کو روایت کرنے والا صحابی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اشارے سے سلام کا جواب دینا ہی سمجھا تھا، اس لیے اصولِ فقہ کے قوانین کے مطابقیہ حدیث اپنے باب میں قطعی ہو گی۔ (حیرانگی سے مراد اس کی فقہ پر تنقید کرنا ہے) بڑی حیران کن بات ہے کہ امام نووی نے (الأذکار) میں پہلے نمازی پر سلام کہنے کو مکروہ قرار دیا اور پھر کہا: مستحب یہ ہے کہ نمازی اشارہ کر کے سلام کا جواب دے دے، زبان سے کوئی لفظ نہ کہے۔ میں (البانی) کہتا ہوں: حیرانی کی بات یہ ہے کہ اشارے کے ساتھ سلام کا جواب دینے کو مستحب کہہ دیا اور سلام کرنے کو مکروہ، حالانکہ جواب کو مستحب کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سلام کہنا بھی مستحب ہے اور جواب کو مکروہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سلام کہنا بھی مکروہ ہے۔ اگر جواب دینا مکروہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام کا اشارے کے ساتھ جواب نہ دے کر اس کی وضاحت کر دیتے، کیونکہیہ مسلمہ قانون ہے کہ کسی مسئلہ کی وضاحت کو اس کی ضرورت و حاجت کے وقت سے مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ اس حدیث اور اس بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ مؤذن اور قاریٔ قرآن کو بھی سلام کہنا چاہیے، کیونکہ ہر ایک کو سلام کہنا مشروع ہے، اس کی دلیل پہلے گزر چکی ہے، اگر نمازی کو سلام کہنا مستحب ہے تو مؤذن اور قاری تو بالاولی سلام کے مستحق ٹھہریں گے۔ مجھے یاد آ رہا ہے کہ میں نے مسند میں ایک حدیث پڑھی تھی، جس کے مطابق نبیکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی تلاوت کرنے والی ایک جماعت کو سلام کہا تھا، میں چاہتا ہوں کہ اس حدیث تک رسائی حاصل کر کے اس کی سند پر بحث کروں، لیکن فی الحال وہ مجھے نہیں مل رہی۔ رہا یہ مسئلہ کہ کیا مؤذن اور قاری سلام کا جواب لفظ کے ساتھ دیںیا اشارے کے ساتھ؟ پہلیبات زیادہ واضح معلوم ہو رہی ہے، امام نووی نے کہا: عام حالات کی طرح مؤذن کا بول کر سلام کا جواب دینا مکروہ نہیں ہے، کیونکہیہ معمولی سا عمل ہے، اس سے اذان باطل ہوتی ہے نہ اس میں خلل پڑتا ہے۔ (صحیحہ: ۱۸۵)
نمازی کا اشارہ کے ساتھ سلام کا جواب دینا، اس موضوع پر دلالت کرنے والی تمام روایات نماز میں کلام کے حرام ہو جانے کے بعد پیش آئیں، اس کا لامحالہ نتیجہیہ ہے کہ اشارے کا کلام کی حرمت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے کہ دونوں کو ایک سمجھ کر ناجائز قرار دیا جائے۔ جو لوگ سلام کا اشارے کے ذریعے جواب دینے کے قائل نہیں ہے، انھوں نے اپنے حق میں درج ذیل دلیل بھی پیش کی ہے۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ یَعْنِی (ابْنَ مَسْعُوْدٍ رضی اللہ عنہ) قَالَ: کُنَّا نُسَلِّمُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَھُوَ فِی الصَّلاَۃِ فَیَرُدُّ عَلَیْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ سَلَّمْنَا عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْنَا فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَیْکَ فِی الصَّلَاۃِ فَتَرُدُّ عَلَیْنَا، فَقَالَ: ((إِنَّ فِی الصَّلاَۃِ لَشُغْلاً۔)) (بخاری: ۱۱۹۹، ۱۲۱۶، مسلم: ۵۳۸، مسند احمد: ۳۵۶۳) سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتے تھے، جب کہ آپ نماز میں ہوتے، اور آپ ہمیں جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نماز میں آپ کو سلام کہتے تھے توآپ جواب دیتے تھے، لیکن آج؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا لیکن آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دینے کے لیے نہ کلام کی اور نہ اشارہ کیا۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ یہ استدلال کمزور ہے، اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خود بھی اشارے کے ذریعے جواب دینے والی روایت نقل کرتے ہیں اور دوسری روایات کی روشنی میں اس حدیث کا معنییہ ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بول کر جواب نہیں دیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نماز پڑھنے کے بعد وضاحت بھییہ فرمائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے کلام کرنے سے منع کر دیا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1942
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 943 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12434»
حدیث نمبر: 1943
عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَبَّحَ لِي، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: إِنَّ إِذْنَ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ يُسَبِّحُ وَإِنَّ إِذْنَ الْمَرْأَةِ أَنْ تُصَفِّقَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن کیسان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سالم بن ابو جعد سے اجازت طلب کی جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے مجھے (جواباً)سبحان اللہ کہا، پھر جب سلام پھیرا تو کہا: جب مردنماز پڑھ رہا ہو تو اس کا اجازت دینایہ ہے کہ وہ سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے اور عورت تالی بجائی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1943
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا اثر صحيح ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7893 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7880»
حدیث نمبر: 1944
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَأْذِنُ فَإِنْ كَانَ فِي صَلَاةٍ سَبَّحَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ صَلَاةٍ أَذِنَ لِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا کرتا تھا، پس جب میں اجازت مانگتا اور آپ نماز میں ہوتے تو سبحان اللہ کہہ دیتے اور اگر نماز میں نہ ہوتے تو مجھے اجازت دے دیتے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، لیکن آنے والی دوسری حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہو جاتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1944
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، تكلموا علي عبيد الله بن زحر، وعلي بن يزيد، و القاسم بن عبد الرحمن الشامي، واذا اجتمع ھؤلاء الثلاثة في سند خبر لم يكن متن ذالك الخبر الا مما عملته ايديھم۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 598»
حدیث نمبر: 1945
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِذَا أَنْسَانِيَ الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّقِ النِّسَاءُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شیطان نماز سے کوئی چیز مجھے بھلا دے تو مرد سبحان اللہ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1945
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، عبد الله بن لھيعة قد توبع۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 341، 342، والبزار: 573، والطبراني في الاوسط : 521 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14654، 14859 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14708»
حدیث نمبر: 1946
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے نماز میں کوئی ضرورت پیش آجائے تو وہ سبحان اللہ کہے، تالی بجانا عورتوں کے لیے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لیے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اسلام کی انتہائی باکمال حکمت ہے کہ اگر نماز میں کلام کو حرام قرار دیا گیا ہے تو نمازی کوسبحان اللہ کہہ کر اپنے مطلوب کی طرف اشارہ کرنے کی اجازت دے دی گئی، اس رخصت کا مقصود یہ ہے کہ نمازی کو بے چینی سے محفوظ کر دیا جائے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1946
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مختصرا ومطولا البخاري: 1201، 1218، 1204، ومسلم: 421 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22801، 22807، 22845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23187»
حدیث نمبر: 1947
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
وضاحت:
فوائد: … اِن اور اس موضوع کی دیگر احادیث سے امام کو متنبہ کرنے کے لیے مرد مقتدیوں کو سبحان اللہ کہنے اور عورتوں کو تالی بجانے کا واضح ثبوت ملتا ہے۔ اگر امام کو سبحان اللہ کہنے یا تالی بجانے کا مقصد سمجھ نہ آ رہا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مقتدیوں کی طرف دیکھے اور مقتدی اشارہ کے ذریعے اس پر اپنے مقصود کی وضاحت کر دیں، جیسا کہ اس باب کے شروع میں اشارہ کے جواز پر جتنے دلائل پیش کیے گئے، ان میں سے دوسری دلیل سے پتہ چلتاہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نماز میں پیچھے مڑ کر دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اپنی نماز جاری رکھنے کا حکم دیا، لیکن وہ پھر بھی واپس ہٹ آ ئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھ گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1947
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 422 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9679»