کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1933
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَقَامَ فَحَكَّهَا أَوْ قَالَ فَحَتَّهَا بِيَدِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي صَلَاتِهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کی قبلہ والی سمت میں کھنکار دیکھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اٹھ کر اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، ان پر غصے کا اظہار کیا اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نماز میں تمہارے چہرے کے سامنے ہوتا ہے، اس لیے کوئی آدمی نماز میں اپنے چہرے کے سامنے کی طرف نہ تھوکا کرے۔
حدیث نمبر: 1934
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ وَابْنِ جَعْفَرٍ ثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ مُنَاجٍ رَبَّهُ فَلَا يَتْفُلَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ فَلَا يَتْفُلْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَٰكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمَيْهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کررہا ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے کوئی بھی اپنے آگے اور اپنی دائیں جانب نہ تھوکا کرے، البتہ اپنی بائیں طرف یا اپنے قدموں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 1935
عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ قَالَ: يَقُولُ مَرَّةً: فَحَتَّهَا قَالَ: ثُمَّ قَالَ: قُمْتُ فَحَتَّيْتُهَا ثُمَّ قَالَ: ((أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ أَنْ يُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ أَوْ يُبَزَّقَ فِي وَجْهِهِ؟ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَٰكِنْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ قَالَ بِثَوْبِهِ هَٰكَذَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبلہ کی جانب ایک کھنکار دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھرچ دیا (ایک روایت کے مطابق ابوہریرہ کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور اسے میں نے کھرچا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ جب وہ نماز میں ہو تو اس کے چہرے پر کھنکار پھینک دیا جائے یا تھوک دیا جائے؟ جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں ہو تو وہ ہر گز اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکا کرے، البتہ بائیں جانب قدم کے نیچے تھوک لیا کرے، اگر وہ (جگہ) نہ پائے تو اپنے کپڑے میں تھوک لیا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … سیدنا طارق بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی پاک سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ((إِذَا صَلَّیْتَ فَلاَ تَبْصُقْ بَیْنَیَدَیْکَ، وَلاَ عَنْ یَمِیْنِکَ، وَلٰکِنِ ابْصُقْ تِلْقَائَ شِمَالِکَ إِنْ کَانَ فَارِغاً وَإِلاَّ فَتَحْتَ قَدَمَیْکَ وَادْلُکْہُ۔)) (سنن نسائی: ۱/ ۱۱۹، مسند احمد: ۶/ ۳۹۶) یعنی: جب تو نماز پڑھے تونہ اپنے سامنے تھوک اور نہ ہی دائیں طرف، بلکہ اگر بائیں جانب خالی ہے تو اُدھر تھوک لے، وگرنہ اپنے قدموں تلے تھوک کر اُس کو مل دے۔ اس میں نمازی کی قدر ومنزلت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اپنا رخِ انور اس کی طرف پھیر دیتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ ظاہری طور پر اور باطنی طور پر یکسوئی اختیار کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو بے توجہی اور برائی سے نفرت ہے۔ نیز اس حدیث سے نمازی کو ضرورت کے مطابق تھوکنے کی گنجائش ملتی ہے، اس پر تفصیلی بحث یہ ہے۔ عصر حاضر میںمساجد کی خوبصورت عمارتوں اور اس میں بچھی ہوئی خوبصورت چٹائیوں اور قالینوں کی وجہ سے درج بالا حدیث کو سمجھنے میں دقت پیش آئی ہے۔ یہ احادیث اس وقت بیان کی گئی تھیں، جب مساجد کا فرش نرم مٹی اور ریت پر مشتمل ہوتا تھا اور ان میں بچھانے کے لئے صفیں بھی نہیں ہوتی تھیں۔ درحقیقت مسئلہ یوں ہے کہ بوقت ِ ضرورت مسجد میں تھوکنا جائز ہے، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کی قبلہ والی سمت میں تھوک دیکھی، جو آپ پر بڑی گراں گزری، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو صاف کیا اور فرمایا: ((اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا قَامَ فِیْ صَلَاتِہٖفَاِنَّّمَایُنَاجِیْ رَبَّہٗ،فَلَایَبْزُقَنَّ فِیْ قِبْلَتِہٖوَلٰکِنْعَنْیَّسَارِہٖ اَوْ تَحْتَ قَدَمِہٖ۔)) (بخاری: ۴۰۵) یعنی: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے ربّ سے سرگوشی کر رہا ہوتا ہے، اس لئے وہ قبلہ والی سمت میں نہ تھوکے، البتہ بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ پھر (تیسرا طریقہ بیان کرتے ہوئے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا اور اس کو مل دیا اور فرمایا: یا پھر اس طرح کر لیا کرے۔ اس موضوع پر دلالت کرنے والی کئی احادیث ہیں، لیکن درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رخصت اس وقت ہے جب آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور اسے مجبوراً تھوکنا پڑ جائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْبُزَاقُ فِیْ الْمَسْجِدِ خَطِیْئَۃٌ وَکَفَّارَتُھَا دَفْنُھَا۔)) (بخاری:۴۱۵) یعنی: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ تھوک کو دفن کر دینا ہے۔ رہا مسئلہ قبلہ والی سمت میں تھوکنے کا، تو وہ بھی منع ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے پتہ چلتا ہے، نیز اس موضوع پر کئی دوسری احادیث موجود ہیں۔ بہرحال مساجد کی موجودہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے آخری طریقہ اختیار کیا جائے یعنی کپڑے یا ٹشو پیپر وغیرہ پر تھوک لیا جائے۔
حدیث نمبر: 1936
عَنْ زِيَادِ بْنِ صُبَيْحٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ: كُنْتُ قَائِمًا أُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ وَشَيْخٌ إِلَى جَانِبِي فَأَطَلْتُ الصَّلَاةَ فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَصْرِي، فَضَرَبَ الشَّيْخُ صَدْرِي بِيَدِهِ ضَرْبَةً لَا يُؤْلُو، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: مَا رَابَهُ مِنِّي، فَأَسْرَعْتُ الاِنْصِرَافَ، فَإِذَا غُلَامٌ خَلْفَهُ قَاعِدٌ، فَقُلْتُ: مَنْ هَٰذَا الشَّيْخُ؟ فَقَالَ: هَٰذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَجَلَسْتُ حَتَّى انْصَرَفَ فَقُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا رَابَكَ مِنِّي؟ قَالَ: أَنْتَ هُوَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ذَٰكَ الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں: میں بیت اللہ کی طرف نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ میری ایک جانب ایک بزرگ آدمی تھا، میں نے نماز کو لمبا کیا، اس لیے اپنا ہاتھ کوکھ پر رکھ لیا، لیکن اس شیخ نے اپنے ہاتھ سے میرے سینے پر بڑی لاپرواہی سے ضرب لگائی، میں نے اپنے دل میں کہا: اس کو میرے بارے میں کیا شک ہوا ہے، بہرحال میں جلدی جلدی نماز سے فارغ ہوا اور دیکھا کہ ایک لڑکا اُس کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میں نے اسے پوچھا: یہ بزرگ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہیں، پس میں بیٹھا رہا، یہاں تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو گئے، میں نے ان سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ کو میرے بارے میں کیا گمان ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: تم وہی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: نماز میں یہ تو سولی پر لٹکنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے منع کرتے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … سولی پر لٹکنے سے مراد کوکھ پر ہاتھ رکھنے ہیں، کیونکہ جس شخص کو سولی پر لٹکایا جاتا ہے، اس کے ہاتھ بھی لکڑی پر کھینچ دیئے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1937
عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نُهِيَ عَنْ الْاِخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ، قَالَ: قُلْنَا لِهِشَامٍ: مَا الْاِخْتِصَارُ؟ قَالَ: يَضَعُ يَدَهُ عَلَى خَصْرِهِ وَهُوَ يُصَلِّي، قَالَ يَزِيدُ: قُلْنَا لِهِشَامٍ: ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ بِرَأْسِهِ: نَعَمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نماز میں اختصار سے منع کیا گیا ہے۔ راوی نے کہا: ہم نے ہشام سے پوچھا: اختصار کیاہے؟ انہوں نے کہا: بندے کا کوکھ پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنا۔ یزید نے کہا: ہم نے ہشام سے پوچھا کہ انہوں نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کی تھی؟ انہوں نے سر سے اشارہ کرتے ہوئے ہاں میں جواب دیا۔
وضاحت:
فوائد: … قیام کی حالت میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا تعین ہو چکا ہے، ان احادیث میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا ہے۔