کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: نماز میں گونگی بکل، سدل، اسبال، نقش و نگار والے کپڑوں اور عورتوں کی چادروں کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 1927
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ، أَمَّا الْبَيْعَتَانِ الْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ، وَاللِّبْسَتَانِ اشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ وَالْاِحْتِبَاءُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوقسم کے لباسوں اور دو قسم کے سودوں سے منع کیا، دو سودے ملامسہ اور منابذہ ہیں اور دو لباس یہ ہیں: گونگی بکل اور ایک کپڑے میں اس طرح گوٹھ مارنا کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو۔
وضاحت:
فوائد: … اِشْتِمَالُ الصَّمَّائ سے کیا مراد ہے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: اہلِ لغت کہتے ہیں: کسی شخص کا ایک کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح لپیٹنا کہ نہ تو وہ اس سے کسی جانب کو بلند کرتا ہو اور نہ ہی اتنی جگہ باقی ہو کہ اس کا ہاتھ نکل سکے۔ ابن قتیبہ نے کہا: صمّائ کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ اس کی صورت تمام سوراخوں کو بند کر دیتی ہے، اس طرح وہ سخت چٹان کی طرح ہو جاتی ہے، جس میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا۔ جبکہ فقہا نے کہا: آدمی اپنے جسم پر کپڑا لپیٹے اور پھر اس کا ایک کنارہ اٹھا کر کندھے پر رکھ دے اور اس طرح اس کی شرم گاہ ننگی ہونے لگے۔ (فتح الباری: ۱/ ۶۲۹) سنن ابی داود (۴۰۸۰) کی روایت سے اس معنی کی تائید ہوتی ہے، اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لباس کی دو قسموں سے منع کیا ہے: آدمی کا اس طرح گوٹھ مارنا کہ اوپر سے اس کی شرمگاہ ننگی ہو رہی ہو اور اس طرح کپڑا پہننا کہ ایک جانب ننگی رہ جائے اور کپڑا کندھے پر ڈال دے۔ اگرچہ اس حدیث کے ایک راوی سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی تعریف، فقہا کی تعریف سے ملتی جلتی ہے، لیکن علامہ عظیم آبادی کہتے ہیں: لفظ صَمّائ کو سامنے رکھا جائے تو اس معنی کی گنجائش نہیں ملتی، اصمعی کا بیان کردہ معنی اس لفظ کے زیادہ قریب ہے، وہ کہتے ہیں: آدمی کا ایک کپڑے سے اپنا سارا جسم اس طرح ڈھانپ لینا کہ ہاتھ نکالنے کے لیے بھی کوئی سوراخ نہ بچے اور اس طرح وہ اپنے ہاتھوں سے موذی چیزوں سے دفاع نہ کر سکے۔ (عون المعبود: ۱/ ۱۱۲۲) حبوہ (گوٹھ مارنا): سرین کے بل بیٹھ کر گھٹنے کھڑے کر کے ان کے گرد سہارا لینے کے لیے دونوں ہاتھ باندھ لینایا کمر اور گھٹنوں کے گردکپڑا باندھنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس انداز میں بیٹھ جایاکرتے تھے، اس لیے ایسے انداز میں بیٹھنا جائز ہے، بشرطیکہ بیٹھنے والا ننگا نہ ہو رہا ہو، جیسا کہ اس حدیث سے بھی معلوم ہو رہا ہے۔
حافظ ابن حجر (فتح الباری: ۱/۴۷۷ میں) فرماتے ہیں کہ کتاب اللباس میں ابو سعید خدری سے مروییونس کی روایت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکور (اشتمال صماء کی) وضاحت مرفوع ہے اور فقہاء کے قول کے مطابق ہے اگر اسے صحابی کا قول سمجھا جائے تو پھر بھی وہ صحیح رائے کے مطابق حجت ہے کیونکہیہ راوی کی وضاحت حدیث کے خلاف نہیں، علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ حافظ ابن حجر کی مذکورہ عبارت نقل کر کے فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث (بخاری: ۵۸۲۱) میں مذکور (اشتمال صماء کی) وضاحت یقینا مرفوع ہے اور یہیونس کے واسطہ سے مروی ابو سعیدکی حدیث کے مطابق ہے اور یہی بات قابل اعتماد ہے۔
اس مذکورہ بحث سے معلوم ہوا کہ اشتمال صماء کی وضاحت حدیث کا حصہ ہے یا پھر حدیث کے مطابق اور وہ (ابوہریرہ سے مروی) حدیث ابو داود (۴۰۸۰) میں بھی موجود ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اشتمال صماء کی فقہاء والی تشریح بھی علامہ عظیم آبادی کے نزدیک درست ہے۔ فوائد کے تحت علامہ عظیم آبادی کے حوالہ سے بات محل نظر ہے۔ (عبداللہ رفیق)
(دیکھیں عون المعبود: ۴/۹۷)
ملامسہ اور مبابذہ کی تفصیل کتاب البیوع میں آئے گی۔
حافظ ابن حجر (فتح الباری: ۱/۴۷۷ میں) فرماتے ہیں کہ کتاب اللباس میں ابو سعید خدری سے مروییونس کی روایت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث میں مذکور (اشتمال صماء کی) وضاحت مرفوع ہے اور فقہاء کے قول کے مطابق ہے اگر اسے صحابی کا قول سمجھا جائے تو پھر بھی وہ صحیح رائے کے مطابق حجت ہے کیونکہیہ راوی کی وضاحت حدیث کے خلاف نہیں، علامہ عظیم آبادی رحمتہ اللہ علیہ حافظ ابن حجر کی مذکورہ عبارت نقل کر کے فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث (بخاری: ۵۸۲۱) میں مذکور (اشتمال صماء کی) وضاحت یقینا مرفوع ہے اور یہیونس کے واسطہ سے مروی ابو سعیدکی حدیث کے مطابق ہے اور یہی بات قابل اعتماد ہے۔
اس مذکورہ بحث سے معلوم ہوا کہ اشتمال صماء کی وضاحت حدیث کا حصہ ہے یا پھر حدیث کے مطابق اور وہ (ابوہریرہ سے مروی) حدیث ابو داود (۴۰۸۰) میں بھی موجود ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اشتمال صماء کی فقہاء والی تشریح بھی علامہ عظیم آبادی کے نزدیک درست ہے۔ فوائد کے تحت علامہ عظیم آبادی کے حوالہ سے بات محل نظر ہے۔ (عبداللہ رفیق)
(دیکھیں عون المعبود: ۴/۹۷)
ملامسہ اور مبابذہ کی تفصیل کتاب البیوع میں آئے گی۔
حدیث نمبر: 1928
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّدْلِ يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں سدل سے منع کیا۔
وضاحت:
فوائد: … سدل کیا ہے؟ چار تعریفات قلم بند کی جاتی ہیں: (۱) چادر یا رومال وغیرہ کا وسط سر پر رکھ کر دونوں کناروں کو دائیں بائیں چھوڑ دینا اور ان کو کندھوں پر نہ ڈالنا، اکثر اہل علم کییہی رائے ہے۔
(۲) آدمی کا یوں کپڑا لٹکانا کہ اس کے دونوں کنارے سامنے لٹک رہے ہوں اور ان کو لپیٹا نہ گیا ہو، لپیٹ لینے کی صورت میں سدل نہیں ہو گا۔
(۳) کپڑے کو اتنا لٹکانا کہ وہ زمین پر لگنے لگ جائے اور یہ تکبر کی علامت ہے۔
(۴) جسم کی چاروں طرف سے کپڑا لپیٹ لینا اور ہاتھوں کو اس کے اندر ہی رہنے دینا اور رکوع و سجود کے وقت اسی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱۹۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف عسل بن سفیان۔ أخرجہ ابوداود: ۶۴۳، والترمذی: ۳۷۸ (انظر: ۷۹۳۴)
کیفیت میں رہنا، جیساکہیہودی لوگ کرتے تھے۔ اگر ان سب صورتوں کو سدل سمجھ کر نماز میں ترک کر دیا جائے تو یہ عمل زیادہ محتاط اور قوی ہو گا۔ کئی لوگوں کو دیکھا گیاہے کہ وہ سر پر رومال اوڑھ کر نماز پڑھتے ہیں، جبکہ اس کے دونوں کنارے اس کے سامنے لٹک رہے ہوتے ہیں،یہ لوگ دوسری تعریف کے مطابق سدل کرتے ہیں۔
(۲) آدمی کا یوں کپڑا لٹکانا کہ اس کے دونوں کنارے سامنے لٹک رہے ہوں اور ان کو لپیٹا نہ گیا ہو، لپیٹ لینے کی صورت میں سدل نہیں ہو گا۔
(۳) کپڑے کو اتنا لٹکانا کہ وہ زمین پر لگنے لگ جائے اور یہ تکبر کی علامت ہے۔
(۴) جسم کی چاروں طرف سے کپڑا لپیٹ لینا اور ہاتھوں کو اس کے اندر ہی رہنے دینا اور رکوع و سجود کے وقت اسی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱۹۲۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف عسل بن سفیان۔ أخرجہ ابوداود: ۶۴۳، والترمذی: ۳۷۸ (انظر: ۷۹۳۴)
کیفیت میں رہنا، جیساکہیہودی لوگ کرتے تھے۔ اگر ان سب صورتوں کو سدل سمجھ کر نماز میں ترک کر دیا جائے تو یہ عمل زیادہ محتاط اور قوی ہو گا۔ کئی لوگوں کو دیکھا گیاہے کہ وہ سر پر رومال اوڑھ کر نماز پڑھتے ہیں، جبکہ اس کے دونوں کنارے اس کے سامنے لٹک رہے ہوتے ہیں،یہ لوگ دوسری تعریف کے مطابق سدل کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1929
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ)) قَالَ: فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ)) قَالَ: فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا لَكَ أَمَرْتَهُ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ سَكَتَّ؟ قَالَ: ((إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ عَبْدٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی ٔ رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا، جبکہ اس کا تہبند (ٹخنوں سے نیچے) لٹک رہا تھا، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: جا اور وضو کر۔ پس وہ چلا گیا اور وضو کر کے آ گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: جا اور وضو کر۔ پھر وہ چلا گیا اور وضو کر کے آ گیا، اتنے میں ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ آپ نے اسے حکم دیا، وہ وضو کرکے آیا اور پھر آپ خاموش رہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس حال میں نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کا ازار لٹکا ہوا تھا اور اللہ تعالیٰ تہبند لٹکانے والے آدمی کی نماز قبول نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 1930
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ: ((شَغَلَنِي أَعْلَامُهَا، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک نقش و نگار والی چادر میں نماز پڑھی، جب آپ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا: اس کے نقش و نگار تو مجھے مشغول کرنے لگے تھے، اس لیے اس کو ابو جہم کی طرف لے جاؤ اور میرے پاس انبجانیہ کپڑا لے آؤ۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ فَاَخَافُ اَنْ تَفْتِنَنِیْ1 اور مؤطا امام مالک کی روایت کے الفاظ فَکَادَ یَفْتِنُنِیْ2 کی روشنی مین یہ ترجمہ کیا گیا: اس کے نقش و نگار تو مجھے مشغول کرنے لگے تھے۔ ابوجہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کپڑا بطور ہدیہ دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے انبجان علاقے والا طلب کیا تاکہ وہ ہدیہ واپس آنے کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احساس ہوا تو آپ نے نقش و نگار والے کپڑے کو فوراً ردّ کر دیا، چونکہ ہم نماز کے حقیقی تصور کو ہی نہ سمجھ سکے، جس کی وجہ سے ہم مسجد کی منقش دیواروں، گھروں کے جاذب نظر پردوں، جائے نمازوں اور قالینوں کے مختلف ڈیزائنوں اور اپنے رنگا رنگ کے کپڑوں سے متأثر ہی نہیں ہوتے، یہ فیصلہ محض ہماری سوچ ہے، وگرنہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو متأثر ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچنے کے اسباب کا استعمال بھی کرتے ہیں تو اس سے ہمیں اپنی اہلیت کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔ آج کل مسجدوں کی سامنے والی دیواروں پر بیشمار چارٹ اور سٹکرز آویزاں کیے جاتے ہیں، جن سے کوئی نمازی متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی اِن میں کوئی اچھی چیز ہو تو دائیں بائیں کی دیواروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔
! مجھے ڈر محسوس ہوا کہ وہ (چادر) مجھے فتنہ میں ڈال دے گی۔
@ قریب تھا کہ وہ مجھے فتنہ میں ڈال دیتی۔
! مجھے ڈر محسوس ہوا کہ وہ (چادر) مجھے فتنہ میں ڈال دے گی۔
@ قریب تھا کہ وہ مجھے فتنہ میں ڈال دیتی۔
حدیث نمبر: 1931
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَمِيصَةٌ فَأَعْطَاهَا أَبَا جَهْمٍ وَأَخَذَ أَنْبِجَانِيَّةً لَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ الْخَمِيصَةَ هِيَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْبِجَانِيَّةِ، قَالَتْ: فَقَالَ: ((إِنِّي كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى عَلَمِهَا فِي الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نقش و نگار والی چادر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ابو جہم کودے دی اور اس سے انبجانیہ چادر لے لی، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ نقش و نگار والی چادر سادہ چادر سے بہتر تھی، (آپ نے وہ واپس کیوں کر دی؟) آپ نے فرمایا: بلاشبہ میں نماز میں اس کے نقش کی طرف دیکھتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت کے الفاظ فَاَخَافُ اَنْ تَفْتِنَنِیْ1 اور مؤطا امام مالک کی روایت کے الفاظ فَکَادَ یَفْتِنُنِیْ2 کی روشنی مین یہ ترجمہ کیا گیا: اس کے نقش و نگار تو مجھے مشغول کرنے لگے تھے۔ ابوجہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کپڑا بطور ہدیہ دیا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے انبجان علاقے والا طلب کیا تاکہ وہ ہدیہ واپس آنے کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ جونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احساس ہوا تو آپ نے نقش و نگار والے کپڑے کو فوراً ردّ کر دیا، چونکہ ہم نماز کے حقیقی تصور کو ہی نہ سمجھ سکے، جس کی وجہ سے ہم مسجد کی منقش دیواروں، گھروں کے جاذب نظر پردوں، جائے نمازوں اور قالینوں کے مختلف ڈیزائنوں اور اپنے رنگا رنگ کے کپڑوں سے متأثر ہی نہیں ہوتے، یہ فیصلہ محض ہماری سوچ ہے، وگرنہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو متأثر ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچنے کے اسباب کا استعمال بھی کرتے ہیں تو اس سے ہمیں اپنی اہلیت کا اندازہ ہو جانا چاہیے۔ آج کل مسجدوں کی سامنے والی دیواروں پر بیشمار چارٹ اور سٹکرز آویزاں کیے جاتے ہیں، جن سے کوئی نمازی متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی اِن میں کوئی اچھی چیز ہو تو دائیں بائیں کی دیواروں کا انتخاب کرنا چاہیے۔
! مجھے ڈر محسوس ہوا کہ وہ (چادر) مجھے فتنہ میں ڈال دے گی۔
@ قریب تھا کہ وہ مجھے فتنہ میں ڈال دیتی۔
! مجھے ڈر محسوس ہوا کہ وہ (چادر) مجھے فتنہ میں ڈال دے گی۔
@ قریب تھا کہ وہ مجھے فتنہ میں ڈال دیتی۔
حدیث نمبر: 1932
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَفَّانُ قَالَ ثَنَا هَمَّامٌ قَالَ ثَنَا قَتَادَةُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الصَّلَاةَ فِي مَلَاحِفِ النِّسَاءِ قَالَ قَتَادَةُ وَحَدَّثَنِي إِمَّا قَالَ كَثِيرٌ وَإِمَّا قَالَ عَبْدُ رَبِّهِ شَكَّ هَمَّامٌ عَنْ أَبِي عِيَاضٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ صُوفٍ لِعَائِشَةَ عَلَيْهَا بَعْضُهُ وَعَلَيْهِ بَعْضُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن سیرین کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنا ناپسند فرمایا۔ ابو عیاض کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ آپ پر عائشہ کی ایک اونی چادر تھی، کچھ حصہ عائشہ پر اور کچھ آپ پر تھا۔
وضاحت:
فوائد: … آخری حدیث میں بظاہر تعارض نظر آ رہا ہے کہ ایک طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنا ناپسند کرتے تھے اور دوسری طرف نماز کی حالت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر کا کچھ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تھا۔ پہلا سوال یہ ہے کہ عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنا مکروہ اور ناپسند کیوں ہے؟ یہی وجہ مناسب نظر آتی ہے کہ عورتوں کی اس قسم کی چادروں میں نجاست کا احتمال ہوتا ہے۔ احتمال کا سبب حیض، نفاس، عورتوں کا غیر محتاط ہونا اور بچوں کا عورتوں کے ساتھ رہنا ہے۔لیکن جب بعض قرائن کی وجہ سے یہیقین ہو جائے کہ فلاں عورت کی چادر پاک ہے تو اس میں نماز پڑھ لینے میںکوئی حرج نہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ہے، اس طرح تعارض ختم ہو جاتا ہے۔