کتب حدیث ›
الفتح الربانی › ابواب
› باب: (نماز میں) نظر اٹھانے، ہاتھ سے اشارہ کرنے¤اور نماز پڑھنے کے لئے مخصوص جگہ کا اہتمام کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1914
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ؟!)) وَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ: ((لِيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔ پھر اس کے متعلق آپ نے بڑی سختی کرتے ہوئے فرمایا: یہ لوگ یا تو ایساکرنے سے ضرور بازآجائیں گے یاان کی نظریں اچک لی جائیں گی۔
حدیث نمبر: 1915
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1916
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَرْفَعْ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ أَنْ يَلْتَمَعَ بَصَرُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں ہو تو وہ اپنی نظر آسمان کی طرف نہ اٹھائے،کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی نظر اچک لی جائے۔
حدیث نمبر: 1917
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ أَنْ لَا يَرْجِعَ إِلَيْهِ بَصَرُهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی نماز میں اپنا سر اٹھاتا ہے تو کیا وہ اس سے نہیں ڈرتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی نگاہیں واپس نہ لوٹے۔
وضاحت:
فوائد: … نماز میں نظر کا محل متعین ہے، اسی کا خیال رکھنا چاہیے، ان احادیث سے آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کی نہی کا علم ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ نماز کے علاوہ بھی ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 1918
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُمْ حِلَقٌ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ فَقَالَ قَدْ رَفَعُوهَا كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور لوگ مختلف حلقوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم کو ٹولیوں کی صورت میں دیکھ رہا ہو؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگوں نے (نماز میں) سرکش گھوڑوں کی دموں کی طرح ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نماز میں سکون اختیار کرو۔
وضاحت:
فوائد: … حدیث کے پہلے حصے میں افتراق سے منع کیا گیا اور اجتماعیت کا حکم دیا گیا۔ دوسرے حصے کی وضاحت سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی اسی موضوع سے متعلقہ دوسری روایت سے ہوتی ہے کہ صحابہ کرام سلام پھیرتے وقت ہاتھوں کو دائیں بائیں حرکت دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سکون اختیار کرنے یعنی ہاتھوں کو رانوں پر ہی رکھ کر سلام پھیرنے کا حکم دیا۔ احناف نے اس حدیث سے رکوع والے رفع الیدین کی نفی کا مفہوم کشید کرنے کی کوشش کی ہے، جو کہ کسی طرح درست نہیں ہے، اس کی وضاحت سلام کی تخفیف کا اور اس کے ساتھ ہاتھ کے اشارے کی کراہیت کا بیان میں گزر چکی ہے۔ اس حدیث سے پتہ چلاکہ نماز میں غیر شرعی اشارہ کرنا درست نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کن مواقع پر اشارہ کیا؟ اس پر تفصیلی بحث آگے آئے گی۔
حدیث نمبر: 1919
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى فِي الصَّلَاةِ عَنْ ثَلَاثٍ، نَقْرِ الْغُرَابِ، وَاِفْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمُقَامَ الْوَاحِدَ كَإِيَطَانِ الْبَعِيرِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبدالرحمن بن شبل انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں تین چیزوں سے منع کیا ہے: کوّے کے ٹھونگے سے، درندے کی طرح (ہاتھوں کو) بچھانے سے اور اس سے کہ آدمی اونٹ کی طرح (مسجد میں) ایک جگہ مقرر کرلے۔
حدیث نمبر: 1920
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ ثَلَاثٍ، عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ، وَعَنْ اِفْتِرَاشِ السَّبُعِ، وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ مَقَامَهُ فِي الصَّلَاةِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا: کوے کے ٹھونگے سے،درندے کی طرح بازو بچھانے سے اور اس سے کہ آدمی نماز کے لیےیوں جگہ مقرر کر لے، جیسے اونٹ کرتا ہے۔ نماز میں اپنے کھڑے ہونے کی جگہ مقرر کرلے جیسے اونٹ مقرر کرتاہے۔
وضاحت:
فوائد: … دوسرے شواہد اور روایات سے یہ تینوں امور ثابت ہیں۔ کوے کی طرح ٹھونگ لگانا اس سے مراد سجدے کا اختصار اور تخفیف ہے۔ درندے کی طرح بازو بچھانا اس سے مراد سجدے میں بازوؤں کو زمین پر بچھا دینا ہے، جیسا کہ کتے اور بھیڑیئے وغیرہ کرتے ہیں۔ اونٹ کی طرح جگہ مقرر کرنا اس سے مراد یہ ہے کہ آدمی مسجد میں اپنے لیے ایک جگہ خاص کر لے، وہ صرف اسی میں نماز پڑھے اور اس جگہ کا اتنا اہتمام کرے کہ وہاں بیٹھ جانے والے کو اٹھا دے۔