کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نمازمیں ہنسنے، اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، انگلیوں کے پٹاخے نکالنے اور ان میں تشبیک ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 1906
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ وَنَهَانِي عَنْ ثَلَاثٍ، أَوْصَانِي بِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى، قَالَ: وَنَهَانِي عَنِ الْإِلْتِفَاتِ وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْقِرْدِ، وَنَقْرٍ كَنَقْرِ الدِّيكِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے خلیل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تین چیزوں کا حکم دیا اور تین چیزوں سے منع فرمایا، مجھے (حکم دیتے ہوئے) یہ وصیت فرمائی کہ میں سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں، ہر ماہ میں تین روزے رکھوں اور چاشت کی دو رکعت پڑھا کروں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے (نماز میں) اِدھر اُدھر متوجہ ہونے، بندر کے بیٹھنے کی طرح بیٹھنے اور مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے منع کیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1906
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد الھاشمي۔ أخرجه الطيالسي: 2593 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7585»
حدیث نمبر: 1907
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ وَنَهَانِي عَنْ نَقْرَةٍ كَنَقْرَةِ الدِّيكِ، وَإِقْعَاءٍ كَإِقْعَاءِ الْكَلْبِ وَالْتِفَاتٍ كَالْتِفَاتِ الثَّعْلَبِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: اور آپ نے مجھے مرغ کی طرح ٹھونگے مارنے سے،کتے کی طرح بیٹھنے سے اور لومڑ کی طرح جھانکنے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے، لیکن اس میں بیان کردہ احکام دوسری احادیث میں ثابت ہیں۔ ٹھونگے مارنے سے مراد سجدہ کرتے وقت کی جلد بازی ہے، اور کتے یا لومڑ کی بیٹھک سے مراد اِقْعَائ کی ممنوع صورت ہے۔ ذہن نشین رہے کہ نماز میں اِقْعَائ کی دو صورتیں ہیں، ایک صورت ناجائز ہے اور ایک جائز۔ اِقْعائ کی ناجائز صورت: پنڈلیوں اور رانوں کو کھڑا کرکے سرینوں پر بیٹھنا اور ہاتھ زمین پر رکھنا۔ اس حدیث میں اسی صورت سے منع کیا جا رہا ہے۔ اِقْعائ کی جائز صورت: نماز میں دو سجدوں کے درمیان نمازی کا اپنے پاؤں کھڑے کر کے سرینوں کو اپنی ایڑیوں پر رکھنا۔یہ صورت مسنون ہے۔ أَبْوَابُ صِفَۃِ الصَّلاَۃِ میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1907
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله النخعي ويزيد بن ابي زياد الھاشمي، وانظر الحديث بالطريق الاول، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8091»
حدیث نمبر: 1908
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ((الضَّاحِكُ فِي الصَّلَاةِ وَالْمُلْتَفِتُ وَالْمُفَقِّعُ أَصَابِعَهُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نماز میں ہنسنے والا،جھانکنے والا اور اپنی انگلیوں کے پٹاخے نکالنے والا ایک درجہ کے لوگ ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … اگرچہ یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن دیگر عام اور مطلق دلائل سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ مکروہ اور ناپسندیدہ امور ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1908
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، وابن لھيعة ضعيف ايضا۔ أخرجه والطبراني في الكبير : 20/ 419، والدار قطني: 1/ 175 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15706»
حدیث نمبر: 1909
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ انْصَرَفَ عَنْهُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی نماز کی طرف متوجہ رہتے ہیں، جب تک وہ ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوتا، پس جب وہ چہرہ پھیرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے پھر جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1909
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 909، والنسائي: 3/8 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21840»
حدیث نمبر: 1910
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّلَفُّتِ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: ((اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز میں جھانکنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ تواچکنا ہے، جسے شیطان بندے کی نماز سے اچک لیتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1910
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه البخاري: 751، 3291 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24412، 24746 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24916»
حدیث نمبر: 1911
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا: ((يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِيَّاكُمْ وَالْإِلْتِفَاتَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِلْمُلْتَفِتِ، فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرَائِضِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’اے لوگو! التفات سے بچو، کیونکہ التفات کرنے والے کی کوئی نماز نہیں ہے، اگر تم نفل نماز میں مغلوب ہوجاؤ (تو دیکھ لیا کرو) بہرحال فرائض میں ہرگز مغلوب نہ ہونا۔
وضاحت:
فوائد: … قیام کے دوران نمازی کا سر جھکا ہوا ہو اور اس کی نگاہ سجدہ گاہ پر ہو، جیسا سنن بیہقی اور مستدرک حاکم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ نماز میں اِدھر اُدھر متوجہ ہونا، ان احادیث سے اس چیز کے حکم کا اندازہ ہو جاتا ہے، جب تک بندہ قبلہ رخ رہتا ہے، اس وقت تک ادھر ادھر دیکھنا مکروہ ہے اور نماز کے اجرو ثواب میں کمی آ جاتی ہے، لیکن اگر کوئی نمازی اتنا پھر جاتا ہے کہ وہ قبلہ رخ ہی نہیں رہتا، جبکہ اس کا عذر بھی کوئی نہیں ہوتا، تو اس کی نماز باطل ہو جائے اور وہ دوبارہ نماز شروع کرے گا۔ ذہن نشیں رہے کہ ضرورت کے وقت نماز میں ادھر ادھر دیکھنا جائزہے، جیسا کہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر میں گھاٹی کی طرف متوجہ ہو کر دیکھتے تھے، سنن ابی داود کی روایت کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھاٹی کی طرف رات کے پہرے کے لیے ایک گھوڑ سوار بھیجا ہوا تھا۔ اسی طرح صحیح بخاری کی سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے تالیاں بجانے کی وجہ سے نماز میں پیچھے دیکھا تھا، پھر وہ پیچھے ہٹ آئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھ گئے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1911
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، ميمون ابو محمد المرائي التميمي ذكره الذھبي في الميزان فقال: ميمون ابو محمد شيخ، حدث عنه محمد بن بكر البرساني، لايعرف۔ ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28045»
حدیث نمبر: 1912
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَقَدْ شَبَّكْتُ بَيْنَ أَصَابِعِي، فَقَالَ لِي: ((يَا كَعْبُ! إِذَا كُنْتَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا تُشَبِّكْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ فَأَنْتَ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتَ الصَّلَاةَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر مسجد میں داخل ہوئے جبکہ میں نے اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک کی ہوئی تھی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کعب! جب تو مسجد میں ہو تو اپنی انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ ڈالا کر، کیونکہ جب تک تو نماز کی انتظار میں رہے گا، نماز میں ہی ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1912
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 562، وابن ماجه: 967 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18103، 18115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18310»
حدیث نمبر: 1913
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَتَطَهَّرُ رَجُلٌ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ إِلَّا كَانَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، وَلَا يُخَالِفْ أَحَدُكُمْ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی بھی گھر میں وضو کر کے صرف نماز کے لیے (مسجد کی طرف) نکلتا ہے تو وہ نماز میں ہی ہوتا ہے، جب تک نماز پوری نہیں کر لیتا، اور تم میں سے کوئی نماز میں اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان مخالفت نہ کرے (یعنی تشبیک نہ ڈالے)۔
وضاحت:
فوائد: … تشبیک: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں مضبوطی کے ساتھ داخل کرنا۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ تشبیک اس وقت منع ہے، جب آدمی نماز کے قصد سے مسجد کی طرف جا رہا ہو، یا نماز کا انتظار کر رہا ہو یا نماز ادا کر رہا ہو۔ ان صورتوں کے علاوہ کئی مقامات پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تشبیک کرنا ثابت ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہما والی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور مسجد میں پڑی ہوئی ایک لکڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشبیک کی ہوئی تھی۔ (بخاری، مسلم) اسی طرح سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے، کہ اس کا بعض اس کے بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بات سمجھانے کے لیے تشبیک کی۔ (صحیح بخاری)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1913
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن، وانظر الحديث المتقدم برقم: 822 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18292»