کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز میں بال باندھنے، کنکریوں سے کھیلنے اور پھونکنے کا بیان
حدیث نمبر: 1896
عَنْ كُرَيْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ وَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّمَا مَثَلُ هَٰذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
کریب کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ بن حارث کو اس حالت میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا کہ ان کے سر کے بال پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، وہ ان کے بال کھولنے لگے اور انھوں نے بھی ان کو ایسا کرنے پر برقرار رکھا۔ لیکن وہ (نماز کے بعد) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ پر متوجہ ہوئے اور کہا: آپ کو میرے سر کے ساتھ کیا تھا؟ انہوں نے کہا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس طرح کر کے نماز پڑھتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی طرح ہے جو اس حال میں نماز ادا کرتا ہے کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … مرفوع حدیث کا معنییہ ہے کہ جس طرح ہاتھ سجدہ کرتے ہیں، اسی طرح بال بھی سجدہ کرتے ہیں، جس طرح ہاتھوں کا بندھا ہوا ہونا مناسب نہیں، اسی طرح بالوں کا بندھا ہوا ہونا بھی نامناسب ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1896
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 492 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2767»
حدیث نمبر: 1897
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَشَعْرُهُ مَعْقُوصٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
مولائے رسول اللہ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کے بال باندھے ہوئے ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … امام البانی رحمہ اللہ نے کہا: قدیم عربوں کییہ طبعی عادت تھی کہ جن کے لمبے بال ہوتے تھے، وہ ان کو اکٹھا کر کے باندھ لیتے تھے، اب بھی بعض علاقوں میں کچھ لوگ ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کی حالت میں اس طرح کرنے سے منع کر دیا اور بالوں کو کھولنے کا حکم دیا تاکہ سجدہ کی ادائیگی بدرجۂ اتم ہو سکے۔ (صحیحہ: ۲۳۸۶)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1897
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 1042 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23856، 27184 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27726»
حدیث نمبر: 1898
عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَاوِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَلَبْتُ الْحَصَى، فَقَالَ: لَا تَقْلِبِ الْحَصَى فَإِنَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ وَلَٰكِنْ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ، كَانَ يُحَرِّكُهُ هَٰكَذَا، قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي مَسْحَةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
علی بن عبدالرحمن معاوی کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پہلو میں نماز پڑھی اور نماز میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کیا، انہوں نے کہا: کنکریوں کو الٹ پلٹ نہ کرو، کیونکہ ایسا کرنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، البتہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح حرکت دے لیتے تھے۔ امام ابو عبد اللہ احمد نے کہا: یعنی ایک دفعہ
وضاحت:
فوائد: … اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرورت ہوتی تو ایک دفعہ ہاتھ مار کر ان کو درست یا صاف کر لیتے تھے۔ آنے والے تیسری روایت میں اسی مسئلہ کا بیان ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1898
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه بنحوه مسلم: 580 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4575»
حدیث نمبر: 1899
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى (وَفِي رِوَايَةٍ) فَلَا يُحَرِّكِ الْحَصَى، أَوْ لَا يَمَسَّ الْحَصَى))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو کنکریوں کو صاف نہ کرے یا ان کو حرکت نہ دے یا ان کو نہ چھوئے، کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1899
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 945، وابن ماجه: 1027، والترمذي: 379، والنسائي: 3/ 6 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21330 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21656»
حدیث نمبر: 1900
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فَقَالَ: ((وَاحِدَةً، وَلَئِنْ تُمْسِكْ عَنْهَا خَيْرٌ لَكَ مِنْ مِائَةِ بَدَنَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ) فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمُ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کنکریوں کو چھونے کے بارے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ کر لو، اور اگر اس سے بھی رک جاؤ تو یہ تمہارے لیے سیاہ آنکھوں والے سو اونٹوں سے بہتر ہے اور اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آ جائے تو وہ ایک دفعہ صاف کر لیا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَالصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} (سورۂ بقرہ: ۲۳۸) یعنی: نمازوں کی حفاظت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے فرمانبردار ہو کر کھڑے رہا کرو۔ عاجزیو انکساری اور خشوع و خضوع کا تعلق نمازی کے دل و دماغ اور ظاہری جسم دونوں سے ہے، نماز میں جسم پر بھی خوف و خشیت کے آثار نمایاں ہونے چاہئیں اور فضول حرکات و سکنات سے پرہیز کرنا چاہئے۔ بعض نمازی طبعی طور پر سر میں خارش کرنے، داڑھی کے بالوں کو چھیڑنے، ناک میں انگلی ڈالنے اورکپڑوں اور بالوں کو سنوارنے کے عادی ہوتے ہیں۔یہ حدیث ِ مبارکہ اس امر میں واضح دلیل ہے کہ نمازی کو فضول حرکات سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، ہاں اگر واقعی کوئی ضرورت محسوس ہو توکوئی مضائقہ نہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1900
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف شرحبيل بن سعد الخطمي ليكنيه حديث شاهد كي بنا پر صحيح هے، ملاحظه هو سلسله احاديث صحيحه: 3062 أخرجه ابن ابي شيبة: 2/ 411، وابن خزيمة: 897 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14204 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14253»
حدیث نمبر: 1901
عَنْ مُعَيْقِيبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَسْحُ فِي الْمَسْجِدِ يَعْنِي الْحَصَى فَقَالَ: ((إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سجدہ گاہ میں کنکریوں کو چھونا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگرضروری کرنا ہی ہو تو ایک دفعہ کر لیا کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1901
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 546 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24009»
حدیث نمبر: 1902
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الرَّجُلِ يُسَوِّي التُّرَابَ حَيْثُ يَسْجُدُ قَالَ: ((إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند) جو آدمی سجدے والی جگہ سے مٹی صاف کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اگر تو نے کرنا ہی ہے تو ایک دفعہ کر لیا کر۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1902
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24011»
حدیث نمبر: 1903
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي لِتَبْرُدَ حَتَّى أَسْجُدَ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ (وَفِي رِوَايَةٍ) فَأَجْعَلُهَا فِي يَدِي الْأُخْرَى حَتَّى تَبْرُدَ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھتا تھا، گرمی کی شدت کی وجہ سے میں مٹھی بھر کنکریاں اپنی ہتھیلی میں پکڑ لیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہو جائیں اور پھر میں ان پر سجدہ کر سکوں۔ایک روایت میں ہے: گرمی کی شدت کی وجہ سے میں ان کو دو سر ے ہاتھ میں کرلیتا تاکہ وہ ٹھنڈی ہوجائیں۔
وضاحت:
فوائد: … سبحان اللہ! یہ صحابہ کرام کا ایمان تھا کہ دوپہر کی سخت گرمی اور تپتی زمین کی وجہ سے ان کی نمازیں متاثر نہیں ہوتی تھیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازی اپنی تکلیف کو دور کرنے کے لیے اس قسم کا کام کر سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1903
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 399، وأخرج النسائي بنحوه: 2/ 204 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14561»
حدیث نمبر: 1904
عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ (زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) فَدَخَلَ عَلَيْهَا ابْنُ أَخٍ لَهَا فَصَلَّى فِي بَيْتِهَا رَكْعَتَيْنِ، فَلَمَّا سَجَدَ نَفَخَ التُّرَابَ، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّ سَلَمَةَ: ابْنَ أَخِي! لَا تَنْفُخْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِغُلَامٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ يَسَارٌ وَنَفَخَ: ((تَرِّبْ وَجْهَكَ لِلَّهِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو صالح کہتے ہیں: میں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، جبکہ ان کے پاس ان کا ایک بھتیجا بھی آگیا تھا، اس نے ان کے گھر میں دو رکعت نماز پڑھی، جب اس نے سجدہ کیا تو مٹی کو پھونک ماری، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسے کہا: بھتیجے! پھونک نہ مار، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یسارنامی غلام نے پھونک ماری اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: اللہ کے لئے اپنے چہرے کو مٹی لگنے دے۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میںواضح ہیں، ان کا لب لباب یہ ہے کہ ضرورت کے علاوہ نماز میں کوئی زائد حرکت اور فعل نہیں کرنا چاہیے۔ ان احادیث سے یہ استدلال کرنا درست ہے کہ عینک والے حضرات کو نماز شروع کرنے سے پہلے عینک اتار کر رکھ لینی چاہیے، نہ کہ سجدے کیطرف جھکتے ہوئے، اسی طرح موبائل وغیرہ نماز شروع کرنے سے پہلے بند کرنا چاہیے، تاکہ دوران نماز زائد حرکات سے بچا جا سکے۔ علی ہذا القیاس۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1904
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، سعيد بن عثمان لم نقف له علي ترجمة۔ أخرجه الترمذي: 381 وفي سنده ابو حمزه ميمون الاعور ضعيف ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26572، 26744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27107»
حدیث نمبر: 1905
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو (ابْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَصِفُ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ قَالَ … … وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي الْأَرْضِ وَيَبْكِي وَهُوَ سَاجِدٌ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَجَعَلَ يَقُولُ: ((رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ)) فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، الْحَدِيثُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سورج گرہن کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے کہا: … … پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری رکعت میں سجدے کی حالت میں زمین پر پھونک مارنا ، رونا اور یہ کہنا شروع کر دیا: رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُہُمْ وَأَنَا فِیْہِمْ، رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُکَ۔ (اے میرے ربّ! تو ان کو کیوں عذاب دیتا ہے، جب کہ میں ان میں موجود ہوں، تو ہمیں کیوں عذاب دیتا ہے، جبکہ ہم تجھ سے بخشش طلب کر رہے ہیں)۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا تو سورج صاف ہو چکا تھا، … ۔ الحدیث
وضاحت:
فوائد: … معلوم ہوا کہ اس طرح پھونک مارنے سے نماز متأثر نہیں ہوتی۔ نیز اس دعا سے پتہ چلا کہ سجدے میں دعا اور تسبیح کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1905
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث حسن۔ أخرجه مطولا و مختصرا ابوداود: 1194، والنسائي: 3/ 149 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6483 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6483»