کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نماز کو توڑ دینے والے امور کا بیان
حدیث نمبر: 1888
عَنْ حُصَيْنٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَيُّهَا النَّاسُ! إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِلَّا الْحَدَثُ، لَا أَسْتَحِيِيكُمْ مِمَّا لَا يَسْتَحِيِي مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَالْحَدَثُ أَنْ يَفْسُوَ أَوْ يَضْرِطَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے منبر پر کہا: لوگو! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: نماز کو حَدَث کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی۔ میں اس چیز سے تم سے شرم محسوس نہیں کرتا، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں شرماتے تھے، حَدَث یہ ہے کہ بندہ پھسکی چھوڑے یا گوز مارے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1888
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لضعف حبان بن علي، وحصين المزني لم يرو عنه غير ضرار بن مرة، وقال ابن معين: لا اعرفه، وذكره ابن حبان في الثقات أخرجه الطبراني في الاوسط : 1986، والبيھقي: 1/ 220 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1164 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1164»
حدیث نمبر: 1889
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ كَآخِرَةِ الرَّحْلِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ)) قُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: ابْنَ أَخِي! سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: ((الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نمازی کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی (جتنی بلند) کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور سیاہ کتا اس کی نماز کو توڑ دیتے ہیں۔ عبد اللہ بن صامت نے کہا: سرخ کتے میں سے سیاہ کتے (کو مخصوص کرنے) کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے کہا: بھتیجے! جس طرح تو نے مجھ سے سوال کیا، اسی طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … باب نمازی کے آگے سترہ رکھنے او راس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم سترہ کی مقدار اور موضوع پر تفصیلی بحث ہو چکی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1889
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21649»
حدیث نمبر: 1890
عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا يَقْطَعُ صَلَاةَ الْمُسْلِمِ شَيْءٌ إِلَّا الْحِمَارَ وَالْكَافِرَ وَالْكَلْبَ وَالْمَرْأَةَ)) فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قُرِنَّا بِدَوَابِّ سُوءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی نماز کو گدھے، کافر، کتے اور عورت کے علاوہ کوئی چیز نہیں توڑتی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ ہمیں تو برے جانوروں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اور محفوظ روایت اگلی حدیث کے بعد آ رہی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1890
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، وفي متنه نكارة، راشد بن سعد المقرئي الحبراني كثير الارسال وقد عنعن في روايته عن عائشة، وضعفه الدارقطني ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25053»
حدیث نمبر: 1891
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ الْحَائِضُ) وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حائضہ عورت، گدھا اور کتا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1891
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 951 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16797، 20572 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20848»
حدیث نمبر: 1892
عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بَلَغَهَا أَنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: إِنَّ الصَّلَاةَ يَقْطَعُهَا الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ، قَالَتْ: أَلَا أَرَاهُمْ قَدْ عَدَلُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحُمُرِ رُبَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى السَّرِيرِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِيرِ كَرَاهِيَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ بِوَجْهِي
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اسود کہتے ہیں: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات پہنچی کہ لوگ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں تو وہ کہنے لگیں: کیا میں لوگوں کو اس طرح نہیں دیکھ رہی کہ انھوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برا برکردیا ہے، حالانکہ بسا اوقات ایسے ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے اور میں آپ اور قبلہ کے درمیان چارپائی پر لیٹی ہوتی تھی، جب مجھے کوئی ضرورت پڑتی تو چارپائی کی پاؤں والی طرف سے کھسک جاتی، اس چیز کو ناپسند کرتے ہوئے کہ میں اپنا چہرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کروں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1892
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ذكره الامام احمد في عدة اماكن مطولا ومختصرا۔ أخرجه البخاري: 383، 384، 515، 519، ومسلم: 512، 744 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24088، 24153 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24654»
حدیث نمبر: 1893
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: بِئْسَمَا عَدَلْتُمُونَا بِالْكَلْبِ وَالْحِمَارِ، قَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ غَمَزَ يَعْنِي رِجْلِي فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ ثُمَّ يَسْجُدُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: بری بات ہے کہ تم نے ہمیں کتے اور گدھے کے برابر کردیا، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حالت میں نماز پرھتے ہوئے دیکھا کہ میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی اور جب آپ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تومیری ٹانگ دباتے تھے، پس میں اس کو اپنی طرف کھینچ لیتی پھر آپ سجدہ کرتے۔
وضاحت:
فوائد: … بلا شک و شبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ روایت ثابت ہے کہ کتا، گدھا اور عورت نماز کو کاٹ دیتے ہیں، صرف اس باب کے مطابق چار صحابہ نے اس کو بیان کیا ہے، لیکنیہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم میں نہیں تھی، اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے چارپائی سے کھسک جانے اور ٹانگ کو پیچھے کھینچ لینے سے عورت کا سامنے سے گزر جانے کا استدلال کیا، حالانکہ اس سے گزرنا لازم نہیں آتا، اگر یہ گزرنا ہوتا تو قطعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی اجازت نہ دیتے، جیسا کہ دوسری قولی اور فعلی احادیث سے اندازہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1893
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 519، ومسلم: 744، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24670»
حدیث نمبر: 1894
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْمَرْأَةُ الْحَائِضُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کتا،اور حائضہ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1894
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابوداود: 703، وابن ماجه: 949، والنسائي: 2/ 64 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3241 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3241»
حدیث نمبر: 1895
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ وَالْحِمَارُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتا اور گدھا نماز کو توڑ دیتے ہیں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ اس موضوع سے متعلقہ مختلف احادیث ِ مبارکہ ہیں،درج ذیل حدیث بھی ذہن نشین کر لیں: سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو تو پالان کی پچھلی لکڑی جتنی اونچی چیز اس کے لیے سترہ بن سکتی ہے، اگر اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کی (اونچائی) جتنی کوئی چیز نہ ہو تو گدھا، عورت اور کالا کتا اس کی نماز کو کاٹ دیں گے۔ (صحیح مسلم: ۵۱۰) اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر مثالوں کی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے انکار والی روایت کو ان کی لا علمی پر محمول کیا جائے گا، کیونکہ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے اور کئی صحابہ کرام یہ حدیث بیان کرنے والے موجود ہیں کہ گدھا، کتا اور عورت نماز کاٹ دیتے ہیں۔ بہرحال ان احادیث کے مختلف مفاہیم بیان کیے گئے ہیں، غور فرمائیں، پہلے اقوال نقل کرتے ہیں: امام نووی نے الخلاصۃ میں کہا: جمہور نے مختلف احادیث میں جمع وتطبیق کی صورت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نماز کو کاٹنے سے مراد اس کے خشوع کو ختم کرنا ہے۔ سیدنا علی، سیدنا عثمان اور سیدنا ابن عمر کا خیال ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزر جانے والی کوئی چیز اس کی نماز کو نہیں کاٹ سکتی۔ امام مالک، امام شافعی اور اصحاب الرائے کا بھییہی مسلک ہے۔ جبکہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور حسن بصری اس طرف گئے ہیں کہ عورت، گدھا اور کتا واقعی نماز کو کاٹ دیتے ہیں، حسن بصری نے بطور دلیلیہ حدیث پیش کی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَقْطَعُ صَلَاۃَ الرَّجُلِ اِذَا لَمْ یَکُنْ بَیْنَیَدَیْہِ قِیْدُ آخِرَۃِ الرَّحْلِ، اَلْحِمَارُ وَالْکَلْبُ الْاَسْوَدُ وَالْمَرْأَۃُ)) یعنی: اگر نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو تو گدھا، کالا کتا اور عورت اس کی نماز کو کاٹ دیتے ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ قول مروی ہے کہ حائضہ عورت اور کالا کتا نماز کو قطع کردیتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور امام احمد اور امام اسحاق کا خیالیہ ہے صرف کالے کتے سے نماز متأثر ہوتی ہے۔ یہ مختلف اقوال ہیں، اس ضمن میں درج ذیل حدیث بھی قابل غور ہے: سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَیْئٌ، وَادْرَؤُوْا مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَاِنَّمَا ھُوَ شَیْطَانٌ۔)) یعنی: کوئی چیز نماز کو نہیں کاٹ سکتی اور جتنی طاقت رکھتے ہو، (گزرنے والے کو) ہٹاؤ، کیونکہ وہ شیطان ہوتا ہے۔ (ابوداود: ۷۱۹) اس کی سند میں مجالد بن سعیدسيء الحفظ ہے، لیکن درج ذیل روایات سے اس کو قوت ملتی ہے: (۱) سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَيْئٌ۔)) یعنی: کوئی چیز نماز کو نہیں کاٹتی۔ (طبرانی: ۷۶۸۸، دارقطنی:۱/ ۳۶۸) اس کی سند میں عُفَیر بن معدان ضعیف ہے۔
(۲) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَایَقْطَعُ صَلَاۃَ الْمَرْئِ امْرَأَۃٌ، وَلَا کَلْبٌ، وَلَا حِمَارٌ۔)) یعنی: آدمی کی نماز کو نہ عورت کاٹتی ہے، نہ کتا اور نہ گدھا۔ (دارقطنی: ۱/ ۳۶۸)
(۳) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَقْطَعُ الصَّلَاۃَ شَیْئٌ۔)) یعنی: کوئی چیز نماز کو قطع نہیں کرتی۔ (دارقطنی: ۱/۳۶۷) ان روایات میں بھی ضعف موجود ہے۔
(۴) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو چیز نمازی کے سامنے سے گزرتی ہے، وہ اس کی نماز نہیں کاٹتی۔ (مؤطا امام مالک: ۱/ ۱۵۶، سندہ صحیح علی شرط الشیخین)
(۵) سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما نے کہا: کوئی چیز نماز کو قطع نہیں کرتی، البتہ حسب ِ استطاعت (گزرنے والی چیزوں) کو پیچھے ہٹاؤ۔ (ابن ابی شیبہ: ۱/ ۲۸۰، سندہ صحیح) (انظر: ۳۲۴۱، ۷۹۸۳) معلوم ایسے ہوتا ہے کہ حائضہ عورت، کتے اورگدھے کے نماز کاٹ دینے سے مراد یہ ہے کہ اس کے خشوع اور اجرو ثواب میں کمی آجاتی ہے، اس تاویل کی وجہ درج بالا احادیث کے ساتھ ساتھ درج ذیل حدیث بھی ہے۔
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا صَلّٰی أَحَدُ کُمْ إِلٰی سُتْرَۃٍ فَلْیَدْنُ مِنْھَا لَا یَقْطَعُ الشَّیْطَانُ عَلَیْہِ صَلَاتَہُ۔)) (ابوداود: ۶۹۵،والنسائی: ۲/ ۶۲، مسند احمد ۱۶۰۹۰) یعنی: جب تم میںسے کوئی سُترے کی طرف نماز پڑھے تو وہ اس کے قریب ہوجائے تاکہ شیطان اس پر اس کی نماز قطع نہ کرے۔ اس حدیث میں بھی قطع کرنے سے مراد خشوع وخضوع اور اجر وثواب میں کمی ہے، تو جب خود شیطان کے گزرنے سے نماز قطع نہیں ہوتی تو جن چیزوں کو شیطان کے مشابہ قرار دیا گیا ہے، ان کی وجہ سے بھی نماز منقطع نہیں ہونی چاہیے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نمازی کو سترہ کا اہتمام کرنا چاہیے، ہم باب نمازی کے آگے سترہ رکھنے اور اس کے پیچھے سے گزرنے کا حکم میں اس کی مکمل وضاحت کر چکے ہیں، لیکن اگر نمازی کے سامنے سے حائضہ عورت، گدھا یا کتا گزر جاتا ہے تو اس کے خشوع اور ثواب میں کمی آجاتی ہے۔
مولفِ فوائدn نے خود ذکر کیا ہے کہ چار صحابہ سے مرفوعاً ثابت ہے کہ عورت، کتے اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزر جانے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نماز نہ ٹوٹنے کے حوالہ سے فہم اور استدلال کی مولف نے تردید کی ہے۔ نماز نہ ٹوٹنے کے متعلق جو روایات پیش کی گئی ہیں وہ سب ضعیف ہیں۔
ابن عمر، عثمان اور علی کے اقوال آخر میں ذکر کیے گئے ہیں، وہ اگر سنداً ثابت بھی ہوں تو وہ ہمارے لیے حجت نہیں ہیں۔ پھر یہ اقوال صحیح احادیث کے مخالف ہیں۔ آخر میں سہل بن ابی حثمہ کی حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ جب شیطان کے آگے سے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی تو شیطان کے مشابہ چیز کے گزرنے سے نماز کیسے ٹوٹے گی۔ حالانکہ اس حدیث مین یہ بیان ہوا ہے کہ نمازی ستر کے قریب ہو کر نماز پڑھے تاکہ وہ آدمی کی نماز توڑ نہ دے۔ (ترجمہ بھی اسی طرح کیا گیا ہے) اس حدیث میں سترہ کے قریب نہ ہونے کی نماز کے قطع ہونے کا اشارہ مل رہا ہے، نہ کہ نماز کے قطع نہ ہونے کی بات۔ بہرحال صحیح صریح مرفوع روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت، کتے اور گدھے کے نمازی کے آگے سے گزرنے سے نماز قطع ہو جاتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1895
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح۔ أخرجه الحاكم: 1/ 499، وابونعيم: 9/ 223 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7983 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7970»