حدیث نمبر: 1884
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُكَلِّمُ صَاحِبَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَاجَةِ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى نَزَلَتْ هَٰذِهِ الْآيَةُ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نماز میں اپنے ساتھی سے ضرورت کی کوئی بات کرلیتا تھا، حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی {وَقُوْمُوْا لِلّٰہِ قَانِتِیْنَ} (اور اللہ تعالیٰ کے لیے فرمانبردار ہو کر کھڑے رہا کرو) اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا۔
حدیث نمبر: 1885
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي (ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَرُدُّ عَلَيْنَا، فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِيِّ سَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ فَتَرُدُّ عَلَيْنَا، فَقَالَ: ((إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرتے تھے، جب کہ آپ نماز میں ہوتے، اور آپ ہمیں جواب دیتے تھے، لیکن جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تو آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نماز میں آپ کو سلام کہتے تھے توآپ جواب دیتے تھے، (لیکن آج؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا نماز میں مصروفیت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 1886
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنَّا بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ نَأْتِيَ أَرْضَ الْحَبَشَةِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مِنْ أَرْضِ الْحَبَشَةِ أَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ، فَأَخَذَنِي مَا قَرُبَ وَمَا بَعُدَ حَتَّى قَضَوُا الصَّلَاةَ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا نَتَكَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)وہ کہتے ہیں: جب ہم حبشہ کی طرف جانے سے پہلے مکہ میں ہوتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نماز میں سلام کہتے تھے (اور آپ سلام کا جواب دیتے تھے)، لیکن جب ہم حبشہ کے علاقے سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا تو آپ نے جواب نہ، مجھے تو قریب کی اوردور کی وجوہات نے پکڑ لیا (کہ جواب نہ دینے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے، بالآخر) جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے نیا حکم کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ ہم نماز میں کلام نہ کریں۔
وضاحت:
فوائد: … یہ لوگ مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہ بھی حبشہ سے مدینہ پہنچ گئے تھے، اس وقت یہ واقعہ پیش آیا تھا۔
حدیث نمبر: 1887
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ فَقُلْتُ: وَاثُكَلَ أُمِّيَاهْ! مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ قَالَ: فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونَنِي، لَكِنِّي سَكَتُّ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ! مَا كَهَرَنِي وَلَا شَتَمَنِي وَلَا ضَرَبَنِي، قَالَ: ((إِنَّ هَٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَٰذَا، إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ)) أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ مِنَّا قَوْمًا يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ: ((فَلَا تَأْتُوهُمْ))، قُلْتُ: إِنَّ مِنَّا قَوْمًا يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ: ((ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ))، قُلْتُ: إِنَّ مِنَّا قَوْمًا يَخُطُّونَ، قَالَ: ((كَانَ نَبِيٌّ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَلِكَ))، قَالَ وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا (فَذَكَرَ قِصَّتَهَا)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، اچانک ایک آدمی نے چھینکا، میں نے اسے یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہا، اس وجہ سے لوگ تو مجھے گھورنے لگ گئے، میں نے ان سے کہا: ہائے میری ماں مجھے گم پائے! تم کو کیا ہو گیا ہے کہ میری طرف دیکھ رہے ہو؟ لوگ تو اپنے ہاتھ رانوں پر مارنے لگے، جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کروا رہے ہیں (تو میں نے کچھ کہنا چاہا) لیکن میں خاموش ہوگیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، پس میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی ایسا استاد نہیں دیکھا ہے جو تعلیم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچھا ہو، اللہ کی قسم! نہ آپ نے مجھے جھڑکا ، نہ برا بھلا کہا اور نہ مجھے مارا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ یہ نماز ہے، اس میں لوگوں کے کلام سے کوئی چیز بھی درست نہیں ہے، یہ تو صرف تسبیح، تکبیر اور قراءتِ قرآن ہے۔ یا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگوں کا جاہلیت والا زمانہ قریب ہے، اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام عطا کیا ہے، تو ہم میں بعض لوگ کاہنوں اور نجومیوں کے پاس جاتے ہیں(اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جایا کرو۔ میں نے کہا: اور ہم میں کچھ لوگ بری فال لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ اس چیز کو اپنے دلوں میں محسوس تو کر جاتے ہیں، لیکن یہ ان کو کسی کام سے روکنے نہ پائے۔ میں نے کہا: ہم میں بعض لوگ لکیریں کھینچتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی خط کھینچتا تھا، جس کا خط اس کے موافق ہوگیا وہ تو درست ہو گا۔ میں نے کہا: اورمیری ایک لونڈی بکریاں چراتی تھی، … … ۔ پھر اس کا واقعہ ذکر کیا۔
وضاحت:
فوائد: … ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نماز میں کلام کرنا حرام ہے، اس مسئلہ میں اس بات پر تواہل علم کا اتفاق ہے کہ جان بوجھ کر کلام کرنے والی کی نماز باطل ہو گی، بشرطیکہ اسے اس مسئلہ کا علم ہو۔ البتہ اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو بھول کر یا جہالت کی بنا پر نماز میں کلام کرتا ہے، راجح مسلک یہ ہے کہ ایسے شخص کی نماز متأثر نہیں ہو گی، امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور جمہور اہل علم کییہی رائے ہے۔ اس مسلک کے دلائل درج ذیل ہیں: (۱)مذکورہ بالا سیدنامعاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہالت کی وجہ سے کلام کرنے والے کو اس مسئلہ کی تعلیم دی اور اسے نماز دوہرانے کا حکم نہیں دیا، جبکہ اس وقوعہ سے پہلے نماز میں کلام کرنے کی حرمت کا حکم آ چکا تھا۔
(۲) ذوالیدین کے قصے پر مشتمل حدیث، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھول کر ظہر یا عصر کی دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں، لیکن اس کے باوجود مزید صرف دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ اگر بھول کر کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی دو رکعتوں کو باطل قرار دے کر از سرِ نو چار رکعت نماز ادا کرتے۔ اس حدیث کی تفصیل سہو والے سجدوں کے ایک باب دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے اورذوالیدین کے قصے کا بیان میں آئے گی۔ یہ واقعہ سات سن ہجری کے بعد پیش آیا، جبکہ دو سن ہجری سے پہلے نماز میں کلام کرنا حرام ہو چکا تھا۔
(۳) قَوْلُہٗ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِیَ الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوْا عَلَیْہِ۔)) … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس پر اس کو مجبور کر دیا جائے، کا گناہ اٹھا دیا ہے۔ (ابن ماجہ: ۲۰۴۳) لیکن امام ابوحنیفہ اور بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام کرنے سے نماز باطل ہو جائے گی، انھوں نے اپنے حق میں وہ عام دلائل پیش کیے ہیں، جن کا تذکرہ اس باب میں ہوا ہے۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ جب ان دلائل کے بیان کے بعد والے واقعات میں بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام کی گئی اور نماز پر بطلان کا حکم نہیں لگایا گیا تو اِن خاص احادیث کی روشنی میں مسئلہ کو سمجھنا چاہیے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگر کوئی روزے دار رمضان میں بھول کر کھا پی لیتا ہے تو اہل الحدیث کی طرح احناف کے ہاں بھی اس سے روزہ متأثر نہیں ہوتا، حالانکہ نماز میں کلام کرنے کی طرح فرضی روزے کی حالت میں کھانا پینا بھی حرام ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نماز میں بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام ہو جائے تو نماز متأثر نہیں ہو گی، وگرنہ باطل ہو جائے گی۔ انسان طبعی طور پر کسی چیز سے بری فال کو محسوس کرجاتا ہے اور اس پر اس کی کوئی گرفت بھی نہیں ہو گی، البتہ ایسا محسوس ہونے کی صورت میں اس کی وجہ سے نقصان سے متاثر ہو کر زندگی کے معمولات کو نہیں روکنا چاہیے۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے پر غور کریں کہ ایک نبی خط کھینچتا تھا،جس کا خط اس کے موافق ہوگیا وہ درست ہو گا۔ کا راجح مفہوم یہ ہے کہ موافقت کی صورت میں خط کھینچنا جائز ہو گا، لیکن موافقت یا مخالفت کا علم حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا، اس لیے اب یہ عمل مطلق طور پر ناجائز ہو گا۔
(۲) ذوالیدین کے قصے پر مشتمل حدیث، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھول کر ظہر یا عصر کی دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا اور باتیں بھی کیں، لیکن اس کے باوجود مزید صرف دو رکعتیں ہی ادا کیں۔ اگر بھول کر کلام کرنے سے نماز باطل ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی دو رکعتوں کو باطل قرار دے کر از سرِ نو چار رکعت نماز ادا کرتے۔ اس حدیث کی تفصیل سہو والے سجدوں کے ایک باب دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دینے والے اورذوالیدین کے قصے کا بیان میں آئے گی۔ یہ واقعہ سات سن ہجری کے بعد پیش آیا، جبکہ دو سن ہجری سے پہلے نماز میں کلام کرنا حرام ہو چکا تھا۔
(۳) قَوْلُہٗ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِیَ الْخَطَأُ وَالنِّسْیَانُ وَمَا اسْتُکْرِھُوْا عَلَیْہِ۔)) … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول چوک اور جس پر اس کو مجبور کر دیا جائے، کا گناہ اٹھا دیا ہے۔ (ابن ماجہ: ۲۰۴۳) لیکن امام ابوحنیفہ اور بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام کرنے سے نماز باطل ہو جائے گی، انھوں نے اپنے حق میں وہ عام دلائل پیش کیے ہیں، جن کا تذکرہ اس باب میں ہوا ہے۔ لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ جب ان دلائل کے بیان کے بعد والے واقعات میں بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام کی گئی اور نماز پر بطلان کا حکم نہیں لگایا گیا تو اِن خاص احادیث کی روشنی میں مسئلہ کو سمجھنا چاہیے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگر کوئی روزے دار رمضان میں بھول کر کھا پی لیتا ہے تو اہل الحدیث کی طرح احناف کے ہاں بھی اس سے روزہ متأثر نہیں ہوتا، حالانکہ نماز میں کلام کرنے کی طرح فرضی روزے کی حالت میں کھانا پینا بھی حرام ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نماز میں بھول کر یا جہالت کی وجہ سے کلام ہو جائے تو نماز متأثر نہیں ہو گی، وگرنہ باطل ہو جائے گی۔ انسان طبعی طور پر کسی چیز سے بری فال کو محسوس کرجاتا ہے اور اس پر اس کی کوئی گرفت بھی نہیں ہو گی، البتہ ایسا محسوس ہونے کی صورت میں اس کی وجہ سے نقصان سے متاثر ہو کر زندگی کے معمولات کو نہیں روکنا چاہیے۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے پر غور کریں کہ ایک نبی خط کھینچتا تھا،جس کا خط اس کے موافق ہوگیا وہ درست ہو گا۔ کا راجح مفہوم یہ ہے کہ موافقت کی صورت میں خط کھینچنا جائز ہو گا، لیکن موافقت یا مخالفت کا علم حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا، اس لیے اب یہ عمل مطلق طور پر ناجائز ہو گا۔