حدیث نمبر: 1882
عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ كَانَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ إِذَا سَمِعْتُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام ابو معبد کو بتلایا کہ عہد ِ نبوی میں جب لوگ فرض نماز سے فارغ ہوتے تو ذکر کے ساتھ آواز کو بلند کرتے تھے۔ مزید انھوں نے کہا: بلکہ جب میں (اس ذکر کی) آواز سنتا تھا تو پہچان جاتا تھا کہ لوگ نماز سے فارغ ہو گئے ہیں۔
حدیث نمبر: 1883
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا بِالتَّكْبِيرِ، قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لَهُ حَدَّثْتَنِي؟ قَالَ لَا، مَا حَدَّثْتُكَ بِهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا ختم ہونا تکبیر کے ساتھ ہی پہچانتا تھا۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے (ابو معبد) سے کہا: تو نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میں نے تجھے یہ بیان نہیں کی۔
وضاحت:
فوائد: … یہ دونوں احادیث، ایک حدیث ہی ہیں،یہ احتمال قوی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث کے عموم کو دوسری حدیث کے خصوص کی روشنی میں سمجھا جائے، یعنی مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ صرف اللہ اکبر کے ساتھ آواز بلند ہونی چاہیے۔ بعض جن احادیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کچھ دوسری دعاؤں کو جہری آواز کے ساتھ پڑھنا بھی ثابت ہے، ان سے مراد لوگوں کو تعلیم دینا ہے۔
عمرو کی اپنے استاد ابومعبد سے بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ابو معبد نے عمرو سے حدیث تو بیان کی ہے لیکن وہ حدیث بیان کر کے بھول گئے۔ اس لیے انہوں نے اپنے شاگرد عمرو کے پوچھنے پر اس کا انکار کیا۔ استاد حدیث بیان کر کے اگر بھول جائے تو صحیح ترین رائے کے مطابق اگر شاگرد ثقہ ہو تو اس کی روایت قابل حجت ہو گی۔ اس کی تفصیلات کے لیے اصول حدیث میں مَنْ حَدَّثَ وَ نَسِیَ والی بحث دیکھیں۔ (مزید: مسند امام احمد محقق: ۳/۴۰۷) (عبداللہ رفیق)
عمرو کی اپنے استاد ابومعبد سے بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ابو معبد نے عمرو سے حدیث تو بیان کی ہے لیکن وہ حدیث بیان کر کے بھول گئے۔ اس لیے انہوں نے اپنے شاگرد عمرو کے پوچھنے پر اس کا انکار کیا۔ استاد حدیث بیان کر کے اگر بھول جائے تو صحیح ترین رائے کے مطابق اگر شاگرد ثقہ ہو تو اس کی روایت قابل حجت ہو گی۔ اس کی تفصیلات کے لیے اصول حدیث میں مَنْ حَدَّثَ وَ نَسِیَ والی بحث دیکھیں۔ (مزید: مسند امام احمد محقق: ۳/۴۰۷) (عبداللہ رفیق)