کتب حدیثالفتح الربانیابوابباب: نمازوں کے بعد اذکار،تعوذات، ادعیہ اور بعض سورتوں کے پڑھنے کا جامع بیان
حدیث نمبر: 1869
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِ نِّیْ أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ (اے اللہ! میں کفر، فقر اور عذابِ قبر سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1869
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه النسائي: 3/ 73 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20381، 20409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20680»
حدیث نمبر: 1870
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّهُ مَرَّ بِوَالِدِهِ وَهُوَ يَدْعُو وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْهُ وَكُنْتُ أَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، قَالَ: فَمَرَّ بِي وَأَنَا أَدْعُو بِهِنَّ فَقَالَ: يَا بُنَيَّ! أَنَّى عَقَلْتَ هَٰؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: يَا أَبَتَاهْ سَمِعْتُكَ تَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ فَأَخَذْتُهُنَّ عَنْكَ، قَالَ: فَالْزَمْهُنَّ يَا بُنَيَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهِنَّ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)مسلم بن ابی بکرہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے پاس سے گزرا اور وہ یہ دعا کررہے تھے: اَللّٰہُمَّ إِ نِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ تو میں نے بھی ان سے یہ دعا یاد کر لی اور ہر نماز کے بعداس کو پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک دفعہ (میرے والد) میرے پاس سے گزرے اور میں یہ دعا کر رہا تھا، انہوں نے مجھ سے پوچھا: بچو!یہ کلمات تونے کہاں سے سیکھے ہیں؟ میں نے کہا: اباجان! میں نے آپ کو ہر نماز کے بعد ان کو پڑھتے ہوئے سناتھا، اس طرح میں نے یہ کلمات آپ سے سیکھ لیے۔ انھوں کہا: پیارے بیٹے! ان کو لازم پکڑ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد ان کو پڑھتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1870
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي علي شرط مسلم۔ أخرجه البيھقي في كتاب الدعوات : 294، وأخرج بنحوه الترمذي: 3503، والحاكم: 1/ 533، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20720»
حدیث نمبر: 1871
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ: ((اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَاأُحْصِیْ ثَنَائً عَلَیْکَ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔ (اے اللہ! بلاشبہ میں تیری ناراضگی سے تیری رضامندی کی پناہ مانگتا ہوں،میں تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ طلب کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، میں تیری ثنا بیان نہیں کر سکتا، تو تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی ثنا بیان کی۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1871
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 1427، والنسائي: 3/ 248، وابن ماجه: 1179 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 751، 957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 957»
حدیث نمبر: 1872
عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ الْمُغِيرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ قَالَ: ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِي لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وَرَّاد سے روایت ہے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سلام پھیرتے تو کہتے تھے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ،اَللّٰہُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعَطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اور ساری تعریف اسی کیلئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں، اور دولت مند کو (اس کی) دولت تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1872
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6330، ومسلم: 593، وانظر الحديث بالطريق الثالث ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18367»
حدیث نمبر: 1873
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ إِذَا صَلَّى فَفَرَغَ قَالَ: ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)) (فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ)
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ میری طرف ایسی چیز لکھو جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انہوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو کہتے: لاَإِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ … … ۔ پہلی حدیث کی طرح ذکر کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1873
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري ومسلم، وانظر الحديث بالطريق الثالث ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18341»
حدیث نمبر: 1874
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ وَرَّادًا مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، كَتَبَ ذَلِكَ الْكِتَابَ لَهُ وَرَّادٌ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ حِينَ يُسَلِّمُ ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ)) (الْحَدِيث) وَفِي آخِرِهِ قَالَ وَرَّادٌ: ثُمَّ وَفَدْتُّ بَعْدَ ذَلِكَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَسَمِعْتُهُ عَلَى الْمِنْبَرِ يَأْمُرُ النَّاسَ بِذَلِكَ الْقَوْلِ وَيُعَلِّمُهُمُوهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (تیسری سند)عبدۃ بن ابی لبابہ کہتے ہیں: سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے غلام وَرَّادنے انہیں بتایا کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا، وراد نے خود یہ خط لکھا تھا، بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا کہ جب آپ سلام پھیرتے تو کہتے تھے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ … … ۔ مکمل حدیث بیان کی، اس روایت کے آخرمیں ہے: وراد نے کہا: اس کے بعد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، میں نے ان سے سنا کہ وہ منبر پر لوگوں کو اس دعا کا حکم دے رہے تھے اور ان کو اس کی تعلیم دے رہے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1874
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 6615، ومسلم: 593 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18319»
حدیث نمبر: 1875
عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَلَّمَ مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ: ((اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے: اَللّٰہُمَّ أَنْتَ اَلسَّلَامُ وَمِنْکَ اَلسَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَاذَا الْجَلاَلِ وَالإِْکْرَامِ۔ (اے اللہ تو ہی سلام ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے، تو بابرکت ہے، اے شان اور عزت والے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1875
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 592 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25507 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26022»
حدیث نمبر: 1876
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَلَى هَٰذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ أَوْ الصَّلَوَاتِ يَقُولُ: ((لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، أَهْلَ النِّعْمَةِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابو زبیر کہتے ہیں:میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز یا نمازوں کے آخر میں سلام پھیرتے تو کہتے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗلَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ، لَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ، أَھْلَ النِّعْمَۃِ وَالْفَضْلِ وَالثَّنَائِ الْحَسَنِ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہت اور ساری تعریف اسی کیلئے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، برائی سے بچنے کی قوت اور نیکی کرنے کی طاقت نہیں ہے، مگر اللہ کے ساتھ، ہم نہیں عبادت کرتے مگر اسی کی، اے نعمت و فضل اور اچھی ثنا والے، نہیں ہے کوئی معبودِ برحق مگر اللہ، ہم اسی کے لیے دین کو خالص کرنے والے ہیں، اگرچہ کافر ناپسند کریں ۔ )
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1876
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 594 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16221»
حدیث نمبر: 1877
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ حِينَ يُسَلِّمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ (فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَفِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ) لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ (الْحَدِيث) قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ (دوسری سند)ہشام بن عروہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جب سلام پھیرتے تو ہر نماز کے بعدکہتے: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ … … ۔ اسی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں لاَحَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللّٰہِ کے بعدیہ الفاظ ہیں: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَلاَ نَعْبُدُ إِلاَّ إِیَّاہُ ۔ وہ کہتے ہیں: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ اللہ کی توحید کا اعلان کرتے تھے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1877
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 594، وانظر الحديث بالطريق الاول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16204»
حدیث نمبر: 1878
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ((مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيَثْنِيَ رِجْلَهُ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكَانَتْ حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوهٍ وَحِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَلَمْ يَحِلِّ لِذَنْبٍ يُدْرِكُهُ إِلَّا الشِّرْكُ، فَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهُ يَقُولُ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد الرحمن بن غنم اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مغرب اور صبح کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد (اپنی جائے نماز سے) پھرنے اور ٹانگ موڑنے سے پہلے دس مرتبہ یہ دعا پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَاشَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، بِیَدِہِ الْخَیْرُیُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْرٌ۔ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لئے ساری بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ساری تعریف ہے، اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔)تو ایسے شخص کے لیے ہر دفعہ یہ کہنے کے عوض دس نیکیاں لکھی جائیں گی، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی اوراس کے دس درجے بلند کر دیئے جائیں گے اور یہ کلمات اس کے لیے ہر ناپسندیدہ چیز سے بچاؤ اور مردود شیطان سے بچاؤ ہوں گے اور شرک کے علاوہ کسی گناہ کے لیے حلال نہیں ہوگا کہ وہ ایسے آدمی کو ہلاک کر سکے اور ایسا آدمی عمل کے لحاظ سے سب لوگوں میں افضل ترین ہوگا، سوائے اس آدمی کے، جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے، یعنی اس سے زیادہ یہ ذکر کرتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1878
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، وھذا اسناد ضعيف لارساله، ولضعف شھر بن حوشب، وقد اضطرب في سنده و متنه۔ أخرجه ابن حجر في نتائج الافكار : 2/305، وعبد الرزاق: 3192 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18153»
حدیث نمبر: 1879
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا أَبُو النَّضْرِ ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ حَدَّثَنِي شَهْرٌ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ زَعَمَتْ أَنَّ فَاطِمَةَ جَاءَتْ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَشْتَكِي إِلَيْهِ الْخِدْمَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ لَقَدْ مَجِلَتْ يَدَيَّ مِنَ الرَّحَى أَطْحَنُ مَرَّةً وَأَعْجِنُ مَرَّةً، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنْ يَرْزُقْكِ اللَّهُ شَيْئًا آتِيكِ، وَسَأَدُلُّكِ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟ إِذَا لَزِمْتِ مَضْجَعَكِ فَسَبِّحِي اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبِّرِي ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَاحْمَدِي أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكِ مِائَةٌ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنَ الْخَادِمِ، وَإِذَا صَلَّيْتِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقُولِي: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَعَشْرَ مَرَّاتٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَإِنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ تُكْتَبُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَتَحُطُّ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ، وَكُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ، وَلَا يَحِلُّ لِذَنْبٍ كُسِبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ الشِّرْكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَهُوَ حَرَسُكِ مَا بَيْنَ أَنْ تَقُولِيهَا غُدْوَةً إِلَى أَنْ تَقُولِيهَا عَشِيَّةً مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَمِنْ كُلِّ سُوءٍ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کام کا شکوہ کرتے ہوئے کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! چکی کی وجہ سے میرے ہاتھ پر چھالے پڑ گئے ہیں، کبھی آٹا پیستی ہوں اور کبھی گوندھتی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ تیرے لیے کوئی چیز عطا کرے گا تو وہ تیرے پاس پہنچ جائے گی اور میں اس سے بہتر چیز پر تیری رہنمائی کر دیتا ہوں، جب تو اپنے بستر پر جائے تو تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللّٰہِ، تینتیس دفعہ اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہہ اور چونتیس دفعہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہہ، یہ ایک سو ہو گئے، یہ تیرے لئے خادم سے بہتر ہیں اور جب تو صبح کی نمازادا کرلے تو دس دفعہ یہ دعا پڑھ: لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِیْ وَ یُمِیْتُ بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْئِ قَدِیْرٌ۔ مغرب کی نماز کے بعد بھی دس دفعہ پڑھ۔ کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، دس برائیاں معاف ہو جاتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی طرح ہے اور کسی گناہ کے لئے، جس کا اس دن ارتکاب کیا گیا، حلال نہیں کہ ایسے شخص کو ہلاک کرسکے، الا یہ کہ وہ شرک ہو اور یہ ذکر صبح کے وقت کہنے سے شام کے وقت کہنے تک ہر شیطان اور ہر بری چیز سے تیرا محافظ ہو گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1879
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اس حديث ميں سيده فاطمه رضي الله عنها كا خادم طلب كرنا اور آپ صلي الله عليه وآله وسلم كا سوتے وقت كے ذكر كي تعليم دينا صحيح لغيره هے، يه سند شھر بن حوشب كے اضطراب كي وجه سے ضعيف هے۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 23/ 787 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27086»
حدیث نمبر: 1880
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قَالَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ كُنَّ كَعَدْلِ أَرْبَعِ رِقَابٍ وَكُتِبَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِيَ عَنْهُ بِهِنَّ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَهُ بِهِنَّ عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَكُنَّ لَهُ حَرَسًا مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَإِذَا قَالَهَا بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَمِثْلُ ذَلِكَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے نمازِ فجر ادا کرکے یہ دعا دس دفعہ پڑھی: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کَلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ تویہ چار غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس کے بدلے اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گئیں، دس برائیاں مٹا دی جائیں گی،اس کے دس درجے بلند کئے جائیں گے اور یہ کلمات شام تک اس کے لئے شیطان سے حفاظت کرنے والے ہوں گے اور جب وہ مغرب کے بعد پڑھے گا تو اسی طرح ہوگا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1880
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف، عبد الله بن يعيش جھّله الحسيني وابن حجر۔ أخرجه ابن حبان: 2023، والطبراني في الكبير : 4092 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23520 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23915»
حدیث نمبر: 1881
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہرنماز کے بعد معوَّذات سورتیں پڑھوں۔
وضاحت:
فوائد: … معوّذات سے مراد سورۃ الاخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / أبواب الأذ كار الواردة عقب الصلاة / حدیث: 1881
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1523، والنسائي: 3/ 68، والترمذي: 2903 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17417، 17792 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17945»